پاکستا ن ڈبلیو ایف ایم ای کے معیار پر پورا اترنے میں ناکام، ڈاکٹروں کا مستقبل خطرے میں 

        پاکستا ن ڈبلیو ایف ایم ای کے معیار پر پورا اترنے میں ناکام، ڈاکٹروں ...

  

        واشنگٹن (این این آئی)پاکستانی کالجوں سے گریجویشن کرنیوالے ڈاکٹرز جنوری 2024 کے بعد شاید امریکہ میں کام نہیں کر سکیں گے کیونکہ پاکستان ورلڈ فیڈریشن فار میڈیکل ایجوکیشن (ڈبلیو ایف ایم ای) کے معیار پر پورا اترنے میں ناکام ہوچکا جبکہ اس پر پورا اترنے کیلئے مقررہ آخری تاریخ تیزی سے قریب آرہی ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق ختم شدہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) نے ڈبلیو ایف ایم ای ایکریڈیشن حاصل کرنے کے لیے درخواست دی تھی اور اس کے وفد کو پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی تھی تاہم 2019 میں، پی ایم ڈی سی کو تحلیل کرکے نیا بورڈ پاکستان میڈیکل کمیشن (پی ایم سی) قائم کیا گیا اس کے نتیجے میں ڈبلیو ایف ایم ای کا دورہ ملتوی کردیا گیا تھا۔ڈبلیو ایف ایم ای سے ایکریڈیشن حاصل کرنے کیلئے پاکستان کے پاس جنوری 2024 تک کا وقت ہے جب کہ موجودہ پاکستان میڈیکل کمیشن (پی ایم سی) ایکٹ اس وقت عالمی ادارے کی جانب سے تسلیم کیے جانے کے مطلوبہ معیار پر پورا نہیں اترتا۔دوسری جانب پی ایم سی نے دعویٰ کیا کہ اس نے تسلیم کیے جانے کی درخواست کا عمل باضابطہ طور پر شروع کر دیا ہے اور ڈبلیو ایف ایم ای کی جانب سے سائٹ کے دورے سمیت تمام کارروائی میں 12 سے 15 ماہ لگنے کی توقع ہے جو کہ جنوری 2024 کے ٹائم فریم کے مطابق بہت مناسب ہے۔وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز (این ایچ ایس) کے سینئر عہدیدار کے مطابق امریکا میں کام کرنے والے ڈاکٹروں میں سے تقریباً 25 فیصد بیرون ملک سے تعلیم یافتہ ہیں۔عہدیدار نے بتایا کہ یو ایس ایجوکیشنل کمیشن فار فارن میڈیکل گریجویٹس (ای سی ایف ایم جی) نے 21 ستمبر 2011 کو یہ احساس کرنے کے بعد کہ پرائیویٹ کالجوں میں تعلیم کا معیار خراب ہو رہا ہے، اعلان کیا تھا کہ جنوری 2023 کے بعد صرف تسلیم شدہ کالجز کے گریجویٹس کو ہی امریکا کیمیڈیکل لائسنسنگ ایگزامینیشن میں حصہ لینے کی اجازت دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ بعد میں کورونا وائرس کی کی وجہ سے ڈیڈ لائن جنوری 2024 تک بڑھا دی گئی۔پی ایم ڈی سی نے منظوری حاصل کرنے کا عمل شروع کر دیا تھا تاہم اسے صدارتی آرڈیننس کے ذریعے تحلیل کردیا گیا اور اس کی جگہ پی ایم سی قائم کیا گیا۔اپنے قیام کے بعد پی ایم سی نے خود کو لائسنس دینے والا ادارہ کہتا ہے جب کہ میڈیکل کالجوں کے معائنے کے اختیارات یونیورسٹیوں کو دیے گئے ہیں، باالفاظ دیگر پی ایم سی کا ملک میں میڈیکل ایجوکیشن پر کنٹرول نہیں ہے۔بروقت اقدامات کرنے میں ناکامی کی وجہ سے پاکستان مقررہ وقت میں اس معیار تک پہنچنے میں ناکام ہو سکتا ہے، جس کے باعث پاکستانی میڈیکل کالجوں کے گریجویٹ امریکا میں طبی خدمات سر انجام دینے سے قاصر رہ سکتے ہیں۔

 ڈبلیو ایف ایم ای 

مزید :

صفحہ اول -