دہشتگردی، ٹارگٹ کلنگ، مختلف مقابلوں میں پولیس شہداء کی تعداد7300سے زائد

      دہشتگردی، ٹارگٹ کلنگ، مختلف مقابلوں میں پولیس شہداء کی تعداد7300سے زائد

  

      کوہاٹ(این این آئی)ملک بھر میں دہشت گردی‘ ٹارگٹ کلنک‘ بم دھماکوں سمیت مختلف پولیس مقابلوں اور دیگر واقعات میں پولیس شہداء کی تعداد 7300 سے زیادہ ہے جن میں صوبہ خیبر پختو نخوا میں اب تک کل 1851 پولیس افسروں اور اہلکاروں نے اپنی جانوں کانذرانہ پیش کیا ہے۔باوثوق سرکاری ذرائع سے حاصل معلومات کے مطابق رواں سال 2022 کے دوران دہشت گردی‘ بم دھماکوں اور پولیس مقابلوں سمیت مختلف واقعات میں خیبرپختونخوا میں اب تک 57 پولیس افسروں اور اہلکاروں نے جام شہادت نوش کیا ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ سال 1970 سے 2000 تک 289 پولیس افسروں اور جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے جبکہ 2001 سے2021 تک 1505 پولیس افسر اور جوان وطن کادفاع اور عوام کی حفاظت کرتے ہوئے شہیدہوئے۔ ذرائع کے مطابق صرف رواں سال 2022 کے ابتدائی سات ماہ (جنوری سے جولائی) تک صوبہ خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں 57 پولیس افسروں اور اہلکاروں نے اپنی جانوں کی قربانیاں دے کر جام شہادت نوش کیا۔خیبرپختونخوا سمیت ملک بھر میں بے شمار پولیس افسروں اور اہلکاروں نے وطن کی حفاطت اور دفاع کے دوران اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کردیا جنہیں خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے ملک گیر سطح پر ہر سال 4 اگست کویوم شہدائے پولیس منایاجاتا ہے صوبہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کی زدمیں آکر شہادت کا رتبہ پانے والوں میں ایڈیشنل انسپکٹرجنرل صفوت غیوراور اشرف نور‘ ڈی آئی جی عابدعلی اور ملک محمدسعدکے علاوہ ڈی پی اوز اقبال مروت اور خورشید خان سمیت کئی دیگرایس ایس پیز‘اور ایس پیزاور ڈی ایس پیز شامل ہیں۔پولیس ذرائع کے مطابق ان 1851 شہیدوں میں ایڈیشنل انسپکٹرجنرل آف پولیس سے لے کر سپاہی رینک کے لوگ شامل ہیں۔ 

پولیس شہداء 

مزید :

صفحہ آخر -