سٹیٹ ملازمین کا ضلعی انتظامیہ کیخلاف احتجاجی مظاہرہ

سٹیٹ ملازمین کا ضلعی انتظامیہ کیخلاف احتجاجی مظاہرہ

  

جندول (نمائندہ پاکستان)جندول ڈپٹی کمشنر لوئر دیر سابق سٹیٹ ملازمین کے وجود  مانے سے انکار،سٹیٹ ملازمین ڈپٹی کمشنر اور انکے الاء کاروں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ،وزیرعلی محمود خان کو وعدہ خلاف قرار، ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنرجندول زاتی کاروبار کے بجائے ضلع میں عوام کے مسائل حل کریں،  اگر ضلع انٹظامیہ سمیت حکومت وقت نے زلفقار علی بھٹو کے 1974،فیصلے پر عمل نہیں کیا تو جھیل بھرو تحریک چلائینگے مقررین کا خطاب،تٖفصیلات کے مطابق گزشتہ روزسابق سٹیٹ ملازمینوں نے صدر عبدستار خان اور جنرل سیکٹری ڈاکٹر سربلند خان کے سر براہی میں ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنرکے خلاف احتجاجی مظاہر کیا جس میں جندول سمیت لوئر دیر کے تمام تحصلوں کے سابقہ سٹیٹ ملازمین مبارک شاہ،محمد اقبال،انور بادشاہ،ملک حضرت خان،عمربادشاہ،ریاض ایڈوکیٹ،شاموراد خان،محمد اسمعیل،ظہر خان،ملک ایوب گجر،دیگر سنکڑوں علاقائی قومی مشران بشمول ہزروں کے تعداد میں مظاہرین نے شرکت کیں۔مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مقررین کا کہنا تھا کہ ڈپٹی کمشنر نے سابق سٹیٹ ملازمین کے وجود مانے سے انکار کردیا ہے،جسکے وجہ سے تمام اقوم جندول کو دوکھ پہنچ گئی ہیں۔مقررین کا کہنا تھا کہ جندول سب ڈویژن سمیت لوئر دیر کے تمام جاٗئداد انکو ملازمت میں ملا ہے مگر ڈپٹی کمشنر خان اف جندول سے حصہدار بنکر ہمارے زمینوں کو ہڑپ کرنا چاہتے ہیں جو کسی صورت قابل قبول نہیں۔مقررین کا کہنا تھا کہ سٹیٹ ملازمنوں کے ساتھ زولفقار علی بھٹو نے 1974 کا وہ فیصلہ موجود ہے جس میں انہونے جندول بھرکے تمام اراضیات کو سٹیٹ ملازمینوں سمیت دیگر قومی لوگوں کو ایلاٹ کیں تھے،مگر ڈپٹی کمشنر نے گزشتہ روز ان فیصلے سے مکمل انکار کردیا تھا۔مقررین نے مزید کہا کہ گزشتہ سال وزیر علی نے ہمارا درنا اس مطالبے پر ختم کردیا تھا کہ ایک کمیشن بناکر سٹیٹ ملازمین کا مسائل حل کرئنگے مگر وہ وعدہ خلاف ہوگیا۔مقررین نے حکومت وقت سے ڈپٹی کمشنر لوئر دیر اور اسسٹنٹ کمشنر جندول کو فوری طور پر تبدیل کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر چند دنوں میں سٹیٹ ملازمین کا تنازع حل نہیں ہوا تو اپنے بچوں سمیت لاکھوں لوگوں کو ڈسی افس میں نامعلوم مدت تک احتجاج کے ساتھ جھیل بھر کے تحریک چلاٰئنگی۔۔۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -