تاجروں کا سیلز فکس ٹیکس کیخلاف شہر شہر احتجاج، کاروبار بند کرنیکی دھمکی 

تاجروں کا سیلز فکس ٹیکس کیخلاف شہر شہر احتجاج، کاروبار بند کرنیکی دھمکی 

  

         ملتان(نیوزرپورٹر)مرکزی تنظیم تاجران پاکستان اورانجمن تاجران ٹمبر مارکیٹ کے زیر اہتمام بجلی کے بلوں میں ہوشربا سیلز فکس ٹیکس کے خلاف تاجروں نے ٹمبر مارکیٹ وہاڑی روڈ پر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا اور اس موقع پر ٹائر جلاکر تاجروں نے بجلی کے بلز نذر آتش کر دئیے اور ایک گھنٹہ تک (بقیہ نمبر20صفحہ7پر)

روڈ بلاک کئے رکھا اس موقع پر تاجروں نے بجلی کے بلوں میں اضافہ نامنظور،امپورٹڈ حکومت نامنظور کے نعرے لگائے اور آ ج یکم اگست کو ملک گیر احتجاجی تحریک چلانے اور 4 اگست کو احتجاجی مظاہرے کرنے،دھرنے دینے کا اعلان کیا جائے گا احتجاجی مظاہرے کی قیادت مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے مرکزی چیئرمین خواجہ سلیمان صدیقی،جنوبی پنجاب کے صدر شیخ جاوید اختر، ملتان کے صد خالد محمود قریشی ٹمبر مارکیٹ کے صدر قمرزمان، مہران قریشی، عزیز کمبوہ، اکرم غوری، شیخ محمد شفیق، مرزا جاوید،شیخ شہزاد اکرم، طاہر شیخ، صادق شجرا، ایم افضل، را سرور، حافظ زوہیب، اعجاز بھٹہ، صیفت الحسن بھٹہ، اکرم خان، حسیب اللہ ودیگر نے کی اس موقع پر خواجہ سلیمان صدیقی نے مظاہرین اور میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امپورٹڈ حکومت جب سے اقتدار میں آئی ہے اس وقت سے ملک بھر کی بائس کروڑ سے زائد غریب عوام اور لاکھوں چھوٹے تاجروں کا جینا حرام کر رکھا ہے ظلم کی حد یہ ہے کہ زیرو یونٹ پر غریب کو 7 ہزار بجلی کا بل بھیج دیا گیا ہے مفتاح اسماعیل نے وعدہ کیا تھا کہ ایک شٹر کی دکان پر ایک ہزار،دوشٹر پر دو ہزار تیس ہزار پر تین ہزار کا ٹیکس لگایا جائے گا لیکن افسوس کہ امپورٹڈ حکومت نے صرف تین ماہ کے دوران ہی غریب عوام اور چھوٹے تاجروں پر ظلم کی انتہا کردی بجلی کے بلوں میں تمام ریٹیلرز ٹیکس لگا دئیے انکم ٹیکس،ٹی وی ٹیکس،سیلز ٹیکس سمیت فیول ایڈجسٹمنٹ ٹیکس نافذ کرکے چھوٹے تاجروں اور غریب عوام کو خودکشیوں پر مجبور کر کے رکھ دیا ہے ایسے قوانین تو دنیا کے کسی بھی ملک میں لاگو نہیں کئے جاتے خواجہ سلیمان صدیقی نے مزید کہا کہ حکومت اپنے ایم این ایز،ایم پی ایز اور سینیٹر ز سمیت مشیروں کو نہیں پوچھتی لیکن چھوٹے تاجروں اور غریب قوم پر ظلم کی انتہا کردی ہے حکومت نے جو وعدے خود کئے تھے وہ اپنے ہی وعدوں سے پھر گئی ہے چھوٹے تاجر دکانوں کے کرائے بھریں یا بجلی کے ہوشربا ٹیکسز کے ساتھ بلز بھریں یا گھریلو اخراجات پورے کریں بڑھتی ہوئی مہنگائی،پٹرولیم مصنوعات،اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بھی اضافے نے زندگی اجیرن کر کے رکھ دی ہے خواجہ سلیمان صدیقی نے دو ٹوک اور واضح انداز میں کہا کہ مرکزی تنظیم تاجران پاکستان آ ج یکم اگست کو ملک گیر احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان کر ے گی اور چار اگست کو بھرپور احتجاج کیا جائے گا حکومت نے بجلی کے بلوں میں اضافی ٹیکس واپس نہ کئے تو مرکزی تنظیم تاجران پاکستان راست اقدام پر مجبور ہو جائے گی انہوں نے کہا کہ ایسے محسوس ہوتا ہے کہ امپورٹڈ حکومت ملک کو سری لنکا جیسا حال کرنا چاہتی ہے کیونکہ وہ عوام اور تاجر برادری کے مسائل حل کرنے میں بری طرح ناکام ہوگئی ہے۔٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭ملتان۔مرکزی تنظیم تاجران پاکستان اورانجمن تاجران ٹمبر مارکیٹ کے زیر اہتمام بجلی کے بلوں میں ہوشربا سیلز فکس ٹیکس کے خلاف احتجاجی مظاہرے کی قیادت  مرکزی چیئرمین خواجہ سلیمان صدیقی، شیخ جاوید اختر، خالد محمود قریشی،قمرزمان، مہران قریشی، عزیز کمبوہ، اکرم غوری، شیخ محمد شفیق، مرزا جاوید،شیخ شہزاد اکرم،ودیگر کررہے ہیں [3:29 PM, 7/31/2022] +92 300 7345116: 

 وہاڑی،کوٹ ادو،قصبہ گجرات، کبیروالا(بیورورپورٹ، نامہ نگار،تحصیل رپورٹر،نمائندہ پاکستان،نامہ نگار)حکومت کی جانب سے بجلی کے بلوں میں فکس سیلز ٹیکس کے نفاذ پرآل سٹیل ورکس ایسوسی ایشن نے احتجاجی مظاہرہ کیا اور لوہا مارکیٹ سے بلدیہ چوک تک ریلی نکالی،ریلی (بقیہ نمبر23صفحہ7پر)

میں مظاہرین نے حکومت کے خلاف شدید نعرہ بازی  کی اور حکومت کی طرف سے بجلی کے کمرشل بلوں میں ریٹیلرز ٹیکس عائد کرنے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اس ٹیکس کو مسترد کردیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس ٹیکس کو فوری طور پر واپس لیا جائے ریلی سے خطاب کرتے ہوئے شاہد پرویز۔محمد رمضان،وحیدانور،محمد راشد اور دیگر کا کہنا تھا کہ  حکومت نے  مذکورہ ٹیکس عائد کر کے چھوٹے کاروباری تاجروں پر ظلم کیا ہے جو ہم کسی صورت میں بھی برداشت نہیں کریں گیمہنگائی کے باعث  چھوٹے طبقہ کے دوکانداروں کا کام پہلے ٹھپ ہو چکا اور رہ سہی کسر بجلی کے بلوں نے نکال دی دوسری جانب بجلی کے مہنگے ترین یونٹس کیساتھ ان پر فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کا بوجھ اور اب ریٹیلرز ٹیکس کے باعث دوکاندار طبقہ مزید بوجھ تلے دب کر معاشی طور پر پس کر رہ جائے گا مظاہرین نے  حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ بجلی کے بلوں کے  ریٹس کم کئے جائیں اور ریٹیلرز ٹیکس کو فوری طور پر واپس لیا جائے بعد ازاں ریلی کے شرکا نیبلدیہ چوک میں مرکزی انجمن تاجران کے دھرنے میں شمولیت اختیار کی جہاں مرکزی انجمن تاجران ارشاد حسین بھٹی کی قیادت میں احتجاجی مظاہرہ ہوا،مظاہرین اوردھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی انجمن تاجران کے صدر ارشاد بھٹی نے کہا کہ حکومت نے بجلی کے بلوں میں فکس سیلز ٹیکس لگا کر تاجروں کا معاشی قتل کیا ہے ہم کسی صورت بھی بجلی کے بل ادا نہیں کریں گے دو اگست کو پاکستان کی مرکزی قیادت کی میٹنگ ہے اس میں جو بھی فیصلہ ہو گا اس پر ملک بھر کے تاجر عمل کریں گے اس موقع پر مظاہرین نے اپنے بجلی کے بلوں کو آگ لگا دی اور حکومت کو تنبیہ کی کہ وہ ظالمانہ ٹیکس کو ختم کریں ورنہ احتجاج کا دائرہ کار وسیع ہوجائے گااس موقع پر ملک بشیر احمد۔رانازوہیب۔رمضان۔محمود۔بابا اشرف۔کامران۔رانا محسن۔عرفان بھٹی۔جمیل بھٹی۔ڈاکٹر تسلیم۔اشفاق بلوچ۔حفیظ۔اور دیگر عہدیداران وممبران نے بھی شرکا سے خطاب کیا

تاجروں اور گھریلو صارفین کو بجلی کے بھاری بل موصول ہونے کے بعد واپڈا حکام نے مساجد کو بھی بھاری بل بھجوا دیے،بلوں میں شامل ٹیلی ویژن فیس بھی ختم نہ کی جاسکی،کوٹ ادو کے گنجان آباد علاقہ میں قائم جامع مسجد صدیق اکبر بستی سندھی کے رواں ماہ کے بجلی بل ریفرنس نمبر 10157225447600 میں بھاری ٹیکسوں اور دیگر چارجز کیعلاوہ 35 روپے ٹیلی ویژن فیس بھی لگ کر آگئی جو واپڈا حکام کے بے شرمی کا منہ بولتا ثبوت ہے،واپڈا حکام کے اس عمل نیریاست مدینہ کا خواب خاک میں ملا دیا ہے،مسجد کے مہتمم رانا محمد صادق انجم کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ شہر بھر کی دیگر مساجد میں بھی اسی طرح ہر ماہ بجلی کے بلوں میں ٹیلی ویژن فیس لگ کر آتی ہے،شہریوں سمیت مسجد کے مہتمم نیوزیراعظم پاکستان میاں شہبازشریف سمیت چئیرمین واپڈاسیمطالبہ کیاکہ ملک بھرکی مساجدکے بلوں سیدیگر ٹیکسزکے ساتھ ٹیلی ویژن فیس کو بھی فوری ختم کیا جائے۔دریں اثناء  قصبہ گجرات مرکزی انجمن تاجران صدر میاں اظہر بودلہ جنرل سیکٹری فہیم مشتاق بھٹہ اور سپرست اعلی میاں ظہیر عالم رستم سکھیرا نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بجلی کے بلوں میں غیر قانونی  فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ ظالمانہ ٹیکس کو نہی مانتے حکومت کے ایسے اقدامات ملک میں سول نافرمانی کی تحریک کو ہوا دے رہے ہیں اگر حکومت نے اپنا فیصلہ واپس نہ لیا تو ملک بھر کے ملازمین بجلی کے بل جمع نہیں کرائیں گے انہوں نے کہ چھوٹے کاروباری دوکاندار اور دیہاڑی دار مزدور اس وقت شدید ذہنی اذیت میں مبتلا ہیں  آدھی سے زیادہ تنخواہ یوٹیلیٹی بلز ادا کرنے میں چلی جاتی ہیاور باقی ماندہ تنخواہ سے گھر کا کچن اور زندگی کا پہیہ چلانا دشوار ہو گیا ہے گھروں میں چولہے ٹھنڈے اور نوبت فاقوں تک پہنچ گئی ہے مہنگائی کیوجہ سے لوگوں کی زندگی اجیرن کردی گئی ہے سفید پوش لوگ خودکشیاں کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں پٹرول اور اشیا خوردونوش کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے بعد بجلی کے بلوں میں بے تحاشہ اضافے نیملازمین  کی کمر توڑ دی ہے آئے روز بڑھتی مہنگائی سے غریب عوام اور سرکاری ملازمین زندہ درگور ھوکر خودکشیاں کرنے پر مجبور ھوچکے ھیں انہوں نے مزید کہا کہ IMF سے کرپٹ حکمرانوں نے جو  قرضہ لیا ھے وہ عوام اور سرکاری ملازمین کے مفاد پر خرچ نہیں ہوابلکہ وہ توکرپٹ حکمرانوں نے اپنی ذاتی عیاشیوں پر خرچ کیے ہیں اسکا بوجھ مہنگائی کی صورت میں غریب عوام پر ڈالنے کی بجائے  حکمران اور اشرافیہ کے اثاثوں کو نیلام کرکے رقم سرکاری خزانے میں جمع کراکے عوام کو ریلیف دیا جائے مرکزی انجمن تاجران قصبہ گجرات اس ظالمانہ ٹیکس کو مسترد کرتی ہے اور بجلی کے بل جمع نہ کرانے کا اعلان کرتے ہے اگر حکومت نے اس غیر قانونی ظالمانہ ٹیکس کو واپس نہ لیا تو تالا بندی کر کے بھرپور احتجاج کرینگے۔علاوہ ازیں بجلی کے بلوں میں سیلز ٹیکس کا ظالمانہ فیصلہ کسی صورت بھی قبول نہیں کیا جاسکتا، اس فیصلے کیخلاف بھرپور مزاحمت کی جائے گی،ملک بھر کے تاجروں نے سیلز ٹیکس کے ساتھ بجلی کے بل جمع نہ کروانے کا فیصلہ کیا ہے،،ظالمانہ فیصلہ واپس نہ لیا گیا تو اس کے خاتمہ تک احتجاج کاسلسلہ جاری رہے گااور احتجاج کا دائرہ بڑھادیں گے،ان خیالات کا اظہار مرکزی انجمن تاجران کبیروالا کے چیئرمین  چوہدری عبدالرشید آرائیں،صدر رانا شکیل احمد،جنرل غلام عباس ڈھڈی، تاجر دوست گروپ کے رہنما چوہدری محمد اسلم شاہد نے پریس کلب کبیروالا کے سامنے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ تاجروں سے بجلی کے بلوں میں بلاتفریق اور کسی منصوبہ بندی کے بغیر صرف سیلز ٹیکس کی مد میں 6 ہزار روپے ماہانہ شامل کئے گئے ہیں جو کہ فنانس بل کے مجوزہ سلیب کے برعکس اور سراسر زیادتی پر مبنی ہیں۔انہوں نے بجلی کے بلوں پر بھاری اور ظالمانہ سیلز ٹیکس لگانے کی شدید مذمت کر تے ہوئے اسے تاجروں کا معاشی قتل قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک کاروبار پر لگے کئی میٹروں، بند دکانوں اور گوداموں کی تفریق کے بغیر تمام میٹروں پر سیلز ٹیکس کا نفاذ درحقیقت غنڈہ ٹیکس کا نفاذ ہے، جو پاکستان کے تاجر کسی صورت برداشت نہیں کریں گے۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ تاجر صارفین بجلی کے بلوں میں شامل بھاری اور ناقابل برداشت رقوم کے سبب ادائیگی سے قاصر ہیں لہذاان کے بلز درست ہونے تک ادائیگی کی تاریخ میں اضافہ کیا جائے اور لیٹ پیمنٹ سرچارج وصول نہ کیا جائے۔احتجاجی دھرنے میں مرکزی انجمن تاجران کبیروالا،تاجردوست گروپ سمیت دیگر تجارتی تنظیموں کے عہدیداران وممبران میاں محمد سلیم چاون،حاجی شفیق دھاریوال،شاہد رفیق خان پنیاں،ملک تصور عباس کھوکھر،حاجی محمد ارشد سنگا،چوہدری شہزاد ارشد،حاجی محمد جاوید زرگر،محمد ارشد آرائیں،رانا عدیل احمد،راؤ جاوید احمد سمیت متاثرہ دکانداروں کی کثیر تعداد میں شرکت کی۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -