امام بارگاہ کاشانہ شبیر،90سالہ قدیمی تعزیہ فن تعمیر کا شاہکار

  امام بارگاہ کاشانہ شبیر،90سالہ قدیمی تعزیہ فن تعمیر کا شاہکار

  

ملتان (سٹی رپورٹر)انجمن حسینہ لعل کرتی کے زیر اہتمام امام باگاہ کاشانہ (بقیہ نمبر27صفحہ6پر)

شبیر سے بر آمد ہونے والا تعزیہ 90سالہ قدیمی ہے جس بھارت کے شہر لکھنؤ سے تعلق رکھنے والے محمد علی جعفری نے اپنی نگرانی میں تعمیر کروایا تھا، جس پر 50 ہزار روپے لاگت آئی تھی،یہ قدیمی تعزیہ 12فٹ اونچا جبکہ 8فٹ چوڑا ہے ا90سال بعد بھی یہ تعزیہ آج بھی اسی حالت میں موجود ہے جس طرح بنا یا گیاتھا، ہر سال اس کی صفائی ستھرائی کرکے سے اسے  زیارت کے لئے 9محرم الحرام کونکالا جاتا ہے،، اس تعزیہ کے بانی نے امام باگاہ لعل کرتی کے لئے برٹش گورنمنٹ سے لائسنس بھی 1932میں حاصل کیا تھا، ان کے بعد یہ لائسنس سید لطافت حسین رضوی کے نام منتقل ہو گیا، بعد ازاں ان کی وفات کے بعد اس وقت امام بارگاہ کاشانہ شبیر اور تعزیہ کا لائسنس سید علی اصغر رضوی کے نام منتقل ہو گیاہے جوکہ امام باگاہ کے متولی بھی ہیں، یہ قدیمی تعزیہ دس محرم الحرام کو ماتمی جلو س کے ساتھ کاشانہ شبیر سے نکالا جاتا ہے جوکہ لعل کرتی، فیڈرل سکول نمبر1، خورشید ہوٹل، محفوظ پان شاپ، باون جی چوک، حسن آرکیڈ، ایس پی چوک، خان پلازہ سے ہوتا ہوا شام 6بجے اما م بارگاہ کاشانہ شبیر لعل کرتی پر اختتام پزیر ہوتاہے،بعد ازاں شامل 7بجے شام غریباں کی مجلس منعقد ہوتی ہے جس سے علامہ عمران عباس ہادی خطاب کریں گے 

مزید :

ملتان صفحہ آخر -