سب کچھ چھوڑ کر پاکستان ہجرت کرنا پڑی،رانا یعقوب

   سب کچھ چھوڑ کر پاکستان ہجرت کرنا پڑی،رانا یعقوب

  

ملتان (سٹی رپورٹر) رانا محمد یعقوب جلوانہ کی عمر اس وقت 88سال ہے جس وقت پانی معرض وجود میں آیا اس وقت وہ 13سال کے تھے، رانا محمد یعقوب کا تعلق بھار ت کے ضلع کرنال تحصیل پانی پت، اور گام جلوانہ تھا، 1947میں جلوانہ گام کی آبادی تقریبا ً10ہزار نفوس تھی، روزنامہ پاکستان ملتان سے گفتگوکرتے ہوئے رانا محمد یعقوب نے کہاہے کہ جب پاکستان کی تحریک چلی تو ریڈیو کے ذریعے کچھ معلوما ت حاصل ہوتی کہ قائد اعظم محمد علی جناح مسلمانوں کی آزادی کے لئے جلسے کر (بقیہ نمبر30صفحہ6پر)

رہے ہیں جس میں بڑے بڑے نامی گرامی اور پڑھے لکھے مسلمان شریک ہیں آہستہ آہستہ معلوم ہوا کہ کچھ علاقوں میں ہندو نے مسلمانوں کے ساتھ ظلم شروع کر دیا ہے، جس کی وجہ سے ہمارے علاقے کے بزرگوں نے اکٹھے ہونا او ر سوچ وبچار شروع کر دی کہ کس طرح ہندو کے ظلم سے بچا جا سکے، کیونکہ ہمارا گام شہری علاقے سے دور تھا اس لئے بہت ساری خبریں ہمیں دیر میں ملتی تھی، انہوں نے کہاہے کہ اچانک معلوم ہوا کہ سکھوں اورہندوؤں نے مل کر مسلمانوں کے علاقوں میں آگ لگانے اور لوٹ مار شروع کر دی ہے، ہندوؤ ں نوجوانوں کے جتھے کے جتھے نیزہ، تیر، تلوار، خنجر، اور دیگر ہتھیار لیکر گلی محلوں میں نکلی پڑے ہیں، جس سے مسلمانوں نے بھی اپنے اپنے طور پر اپنے بچاؤ کے لئے تیاریاں شروع کر دی، ایک دن اچانک معلوم ہواہے قائد اعظم محمد علی جناح اور دیگر مسلمان اکابرین علیحدہ ملک بنانے میں کامیاب ہو گئے ہیں، پاکستان معرض و جود میں آگیا ہے، اب جلد ہی یہاں سے ہجرت کرکے جانا پڑے گا، پہلے تو کئی دنوں تک سوچتے رہے کہ حالات بہتر ہو جائیں گے شاید ہم یہاں سے نہ جائیں کیونکہ یہاں ہماری زمینیں،جائیدادیں، زندگی بھر کا اثاثے اور دوست احباب موجو دہیں، لیکن جب حالات زیادہ سنگین ہوئے تو پاکستان ہجرت کرنے کے لئے ابھی تیاری کر ہی رہے تھے کہ اچانک، انڈین فوج کے سپاہی ہمارے گاؤں میں آگئے اور ہمیں فوری طور پر وہاں سے نکلنے کو کہاہمارے بزرگوں نے فوری طورگھروں کو بند کیا جو تھوڑا بہت سامان ساتھ لے سکتے تھے وہ لیا اور فوجی گاڑیوں میں سوار ہو کر ضلع کرنا ل آگیا وہاں انہوں نے ہمیں اپنی حفاظت میں رکھا، جہاں سینکڑوں کی تعداد میں مختلف علاقوں سے آئے ہوئے مسلمان بھی موجود تھے، جن کی حالت بہت خراب تھی، کچھ زخمی حالت میں بھی موجود تھے جن کی مرہم پٹی کی گئی تھی، وہاں خوف کا عالم اور اداسی تھی، کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا ہونے والا ہے پورے ہندوستان میں مسلمانوں پر ہونے والے ظلم، لوٹ مار، خواتین کو اغوا کرنے، نوجوانوں کو قتل عام کرنے کی خبریں عام تھی، پھر اچانک کرنال کیمپ میں بھگڈر مچ گئی اور ہندوستانی فوج کے نوجوانوں کی جانب سے اطلاع ملی کی سب کے سب ریلوے اسٹیشن چلیں، وہاں ٹرین تیار ہے کئی کلومیٹر پیدل چلنے کے بعد ریلوے اسٹیشن پہنچے تو وہ ٹرین موجود تھا جس کو جہاں جگہ ملی وہاں بیٹھ گئی، خواتین اور بچیوں ا ور بچوں کو ٹرین کے اندرجبکہ مردوں کو ٹرین کے اوپر سوار کیا گیا،راستے میں جگہ جگہ مسلمان نوجوانوں کی نعشیں پڑی ہوئی تھی، کئی مسلمان بچیوں نے عزتوں کو بچانے کے لئے کنوؤں میں چھلانگیں لگا کر زندگی ختم کر لی تھی،کئی بچے والدین سے بچھڑ گئے تھے،انہوں نے کہاہے کہ ضلع کرنا ل سے دو دن کے بعد لاہور اور پھر، کئی دنوں کی بھوک اور پیاس کے بعد جب کلو ر کوٹ پہنچے تو وہاں ریلوے اسٹیشن کے قریب قریب مکانوں پر ہم سے پہلے آئے ہوئے مہاجرین کو آباد کر دیا گیا تھا ہمیں تھوڑے فاصلے پر موجود پاکستان سے ہجرت کرکے جانے والے ہندوؤں کے مکانوں میں آباد کیا گیا، بعد ازاں کئی کئی سالوں تک محنت مزدوری کرتے رہے، پھر وہی ہوا کہ ہماری کلیموں میں ہیر پھیر کی گئی جس کے پا س لین دین کے لئے کچھ تھا تو انہیں فوری کلیم اور اچھی جائیدادیں مل گئی، جن کے پاس کچھ نہیں تھاوہ سالوں تک خوار ہوتے رہے، انہوں نے کہاہے کہ ہمیں کلیم مل گئے تھے لیکن کلیم کے بدلے ملنی والی جائیداد کا قبضہ نہیں ملا، جسکے لئے عدالتوں کے چکر کاٹتے رہے کئی سال تک کیس چلنے کے بعد اب کچھ عرصہ قبل معاملات حال ہوئے ہیں انہوں نے کہاہے کہ جب آج کا پاکستان دیکھتے ہیں تو دل خون کے آنسوؤں روتا ہے کہ لاکھوں کے تعداد میں مسلمانوں نے جس ملک کے لئے اپنی جانوں کی قربانیاں دی تھی وہاں آج 75سالوں بعد بھی خود کو محفوظ نہیں سمجھتے ہیں،ملک میں کرپشن، رشوت عام ہے، 

مزید :

ملتان صفحہ آخر -