چیئرمین سینیٹ کے الیکشن میں  66 ووٹوں والا ہار گیا اور  33 والا جیت گیا ، چوہدری علی شرافت صدر پاکستان مسلم لیگ (ن) آسٹریا

چیئرمین سینیٹ کے الیکشن میں  66 ووٹوں والا ہار گیا اور  33 والا جیت گیا ...
چیئرمین سینیٹ کے الیکشن میں  66 ووٹوں والا ہار گیا اور  33 والا جیت گیا ، چوہدری علی شرافت صدر پاکستان مسلم لیگ (ن) آسٹریا

  

ویانا (اکرم باجوہ) پاکستان مسلم لیگ (ن) آسٹریا کے صدر چوہدری علی شرافت نے پاکستان کے موجودہ سیاسی حالات پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سابق چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار کے دور سے ایک جماعت کو نوازنے کا سلسلہ شرو ع ہوا جو آج تک جاری ہے ، چیئرمین سینیٹ کے الیکشن میں 66 ووٹوں والا ہار گیا جبکہ 33 والا جیت گیا ، اس کیس کو سننے کیلئے عدالت کے پاس وقت نہیں ۔ 

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چوہدری شرافت علی نے کہا کہ حمزہ شہباز والے کیس  میں  جج صاحب سپریم کورٹ رجسٹری میں بیٹھے پٹیشن آنے کا انتظار کرتے رہے  کہ  کب پی ٹی آئی پٹیشن جمع کرائے اور ہم اپنا مخصوص مائنڈ سیٹ والا شارٹ آرڈر جاری کریں  ، ایک مثال یہ بھی ہے کہ 25 مئی کو عمران خان نے لانگ مارچ میں جو توہین عدالت کی اس پر مخصوص مائنڈ کے تین ججوں نے کہا کہ ہمارا فیصلہ عمران خان تک پہنچا ہی نہیں ، اب پوری قوم  جان چکی ہے کہ عمران خان اپنا کوئی بھی کیس سپریم کورٹ میں لیکر جاتے ہیں تو یہ مخصوص تین جج صاحبان ہی کا بنچ بنتا ہے ، یہ وہی جج صاحبان ہیں جو نواز شریف کو اپنے بیٹے کی تنخوا نہ لینے پر نااہل کر چکے ہیں ۔

 انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ اتحادی حکومت نے حمزہ شہباز والے کیس میں فل کورٹ بینچ بنانے کا مطالبہ کیا تھا مگر چیف جسٹس صاحب نے مسترد کر دیا تھا ، گزشتہ روز ایک غیر ملکی اخبار نے پی ٹی آئی کا فارن فنڈنگ کا پول کھول دیا اب سپریم کورٹ سو موٹو کیوں نہیں لیتی یہ کیس آگر ن لیگ کے خلاف آتا تو  ابھی تک سپریم کورٹ نے سب کو بلا لیا ہوتا ۔ایک خط لاڈلے کا تھا اسکو منظور کر لیا گیا اور دوسرا خط چوہدری شجاعت حسین کا تھا وہ نامنظور کیا گیا۔

مزید :

تارکین پاکستان -