جہاد و قتال فی سبیل اللہ

جہاد و قتال فی سبیل اللہ
جہاد و قتال فی سبیل اللہ

  

جماعت اسلامی پاکستان کے اجتماع عام میں سابق امیر جماعت اسلامی سید منور حسن نے اپنے خطاب میں جہاد فی سبیل اللہ و قتال فی سبیل اللہ کا حوالہ دیا اس وقت سے لے کر آج تک اس پر تندو تیز بحث، مباحثے ،تبصرے،تجزیئے بلکہ بھانت بھانت کی بولیاں بولی جا رہی ہیں، لیکن کسی نے ان کی تقریر کے مکمل متن پر غور و غوض کیا ہی نہیں ہم سید منور حسن کی تقریر کے وقت وہاں موجود تھے، بلکہ ملکی و غیر ملکی ذارئع ابلاغ کے نمائندے شہرہ آفاق کالم نویس ،تجزیہ کار، اینکر پرسنز سمیت مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والی مختلف نمائندہ شخصیات بھی وہاں موجود تھیں۔سید صاحب کی تقریر کا ایک ایک حرف ویڈیو کلپس میں محفوظ ہے لیکن کمال دیکھئے کیمرے کی آنکھ کا اورقلم کاروں کی تحریر وں کا کہ انہوں نے سید صاحب کی تقریر کی سیاق وسباق سے ہٹ کر ایسی کشیدہ کاری کی کہ فساد فی سبیل اللہ عام کرنے والے داعیوں کی چاندی ہو گئی ۔

سید صاحب کا کہنا تھا کہ جہاد و قتال فی سبیل اللہ معاشرے کے جزو ہیں انہیں ترک نہیں کیا جا سکتا جہاد وقتال صرف فی سبیل اللہ ہی کیا جا سکتا ہے، لیکن اس کو دہشت گردی سے تعبیر کیا جا رہا ہے اور اب لوگ جہاد کا نام لینے سے ڈرتے ہیں ۔مسلمانوں کے لیے جہاد اور قتال صرف اور صرف فی سبیل اللہ ہی جائز ہے اس کے علاوہ اپنی ذات اقتدار عصبیت اور مال و دولت حاصل کرنے سمیت ہر صورت میں وہ فساد ہے اس متن سے ان کی ساری پوزیشن کلیئر ہو گئی کہ پاکستانی معاشرے میں پُرامن انقلاب ووٹ کی طاقت سے ہی برپا ہو گا غیر اسلامی غیر قانونی ہتھکنڈے فساد کہلائیں گے، لیکن ذارئع ابلاغ سے تعلق رکھنے والے چند بزرجمہروں نے جہاد و قتال کے الفاظ کو موضو ع بنا کر قوم کو گمراہ کرنے کی کوششیں شروع کر دی ہیں گویا کہ سید صاحب نے جیسے پاکستانی معاشرئے کے خلاف جہاد و قتال کرنے کا اشارہ دیا ہے جو کہ ہر گز نہیں ۔اگر قوم کو جہاد کے لئے تیار نہ کیا جائے تو وہ بھارت کے حملہ آور ہونے کی صورت میں اس کا مقابلہ کیسے کر سکیں گے؟

حضور اکرم ؐ کا فرمان ہے کہ جہاد قیامت تک جاری رہے گا۔اس کی مثال ایسی کھیتی ہے کہ اسے کاٹنے سے وہ مزید بڑھتی چلی جاتی ہے مسلمان جہاد فی سبیل اللہ، قتال فی سبیل اللہ اور انفاق فی سبیل اللہ کی بات اس لئے کرتے ہیں کہ احکام الٰہی کی پابندی ہو سکے۔

افغان معاشرے میں اگرجہاد و قتال فی سبیل اللہ عام نہ ہوتا تو برطانیہ،روس اور امریکہ وہاں سے شکست کھا کر نہ نکلتا اللہ تعالیٰ نے دشمن کے مقابلے میں اپنے گھوڑے ہر وقت تیار رکھنے کا جو حکم دیا ہے وہ اسی لئے ہے کہ ہم اپنے دشمن سے غافل نہ ہوں بھارت ہمارا ازلی و ابدی دشمن ہے 1965ء کی پاک بھارت جنگ میں یہ ترانے گونج رہے تھے کہ جاگ اٹھا ہے سارا وطن ساتھیو مجاہد و،اے مرد مجاہد جاگ ذرا اب وقت شہادت ہے آیا اللہ اکبر ،اللہ اکبر،خود ایوب خان نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ دشمن نے فرزندان توحید اور شمع رسالت ؐ کے پروانوں کو للکارا ہے۔ پاک فوج اور قوم نے جذبہ ایمانی شوق شہادت کے عزم کے ساتھ جہاد و قتال فی سبیل اللہ کر کے دشمن کو شکست دی تھی ہر سال پاکستانی قوم 6 ستمبر کو اِسی تناظر میں قومی و ملی جوش و جذبے سے یوم دفاع مناتی ہے اور اس میں جہاد و قتال فی سبیل اللہ کا ہی جذبہ نظر آتا ہے آج پاکستان کا سیکولر و لبرل طبقہ با آواز بلند پاک فوج کے ساتھ سر بکف ہونے کا اعادہ کرتا ہے تو دراصل وہ جہاد فی سبیل اللہ کے ماٹو کے ساتھ کھڑا نظر آتا ہے۔ ایمان، تقویٰ ،جہاد فی سبیل اللہ ہماری پاک فوج کا ماٹو ہے، تو پھر سید صاحب کے جہاد و قتال فی سبیل اللہ کے عزم پر رونا پیٹنا کیسا؟

باقی رہ گیا سوال منور حسن کی تقریر پر اپنا مطلب اخذ کرنے والوں کا تو ان کو اپنے علم پر ماتم کرنا چاہئے وہ اپنے مطلب کے معنی پہنا کر عوام کو گمراہ اور متنفر کرنے کی نا کام کوشش کر رہے ہیں اور جو بہت زیادہ شور مچا رہے ہیں وہ بوری بند لاشوں ،بھتہ خوری اور دہشت گردی جیسے کر توتوں پر پردہ ڈالنا چاہتے ہیں اللہ تعالیٰ کے حکم کی بجا آوری میں کئے جانے والے کام کو پوری دنیا بھی غلط ثابت نہیں کیا جاسکتا،وگرنہ مغربی طاقتوں کے غلام اور ان کے نوالوں پر پلنے والوں کا بس نہیں چلتا ورنہ وہ جہادی آیات کو قرآن سے نکال دیتے۔منور صاحب کی تقریر پر سر پیٹنے والے اپنے گریبانوں میں جھانکیں جب روس نے افغانستان پر قبضہ کیا تھا تو وہ اس کے ساتھ کھڑے تھے اور آج امریکہ کے ساتھ کھڑے ہیں اب، جبکہ امریکہ اور اس کے حامی شکست کھا کر وہاں سے نکل رہے ہیں تو انہیں اس بات کی فکرلاحق ہو گئی ہے کہ اب ان کی سر پرستی کون کرے گا مجھے تو دور دور تک ان ضمیر فروشوں ،زر خریدوں کا کوئی ہمدرد دکھائی نہیں دے رہا۔

مزید :

کالم -