’حکومت کے خلاف بات کرنی ہے تو سستا موبائل فون استعمال کرو‘

’حکومت کے خلاف بات کرنی ہے تو سستا موبائل فون استعمال کرو‘
’حکومت کے خلاف بات کرنی ہے تو سستا موبائل فون استعمال کرو‘

  

کوالالمپور(مانیٹرنگ ڈیسک) آج کل ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کا دور ہے۔ پہلے جس شخص کی آواز کوئی نہیں سنتا تھا آج وہ بھی سوشل میڈیا کے ذریعے اپنی آواز کروڑوں لوگوں تک پہنچا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں اپنی حکومتوں سے ناراض لوگ سوشل میڈیا کا سہارا لیتے ہیں۔ مگرہمارا مشورہ ہے کہ جس کسی کو سوشل میڈیا پر اپنی حکومت کے خلاف بات کرنی ہو اسے کوئی سستا موبائل فون استعمال کرنا چاہیے۔ملائیشیاءمیں ایک ایسے ہی شخص کو مسلسل چوتھی بار اپنے مہنگے ترین موبائل فون سے ہاتھ دھونا پڑ گئے ہیں۔ ملائیشیاءمیں شخصی آزادی کا بہت بڑا داعی ایرک پاﺅلسین ٹوئٹر پر اپنی حکومت کی سخت پالیسیوں پر مسلسل تنقید کرتا رہتا ہے جس کی وجہ سے اسے کئی بار گرفتار کرکے پولیس اسٹیشن لیجایا جا چکا ہے۔

مزید جانئے: سعودی عرب میں ہم جنس پرست گھوڑے کو موت کی سزا، دنیا میں ہنگامہ برپا کرنے والی خبر کی اصل کہانی سامنے آگئی

اس بار بھی پولیس ایرک کو گرفتار کرکے تھانے لے گئی اور 2گھنٹے تک اس سے تفتیش کرتی رہی۔ جب وہ پولیس اسٹیشن گیا تو اس کے ہاتھ میں ایک مہنگا موبائل فون تھا مگر جب وہ باہر آیا تو اس کے ہاتھ خالی تھے کیونکہ اس کا موبائل فون پولیس نے ضبط کر لیا تھا۔ اس سے قبل بھی ایرک پاﺅلسین کے 2مہنگے سام سنگ گلیکسی اور ایک آئی فون ضبط کیا جا چکا ہے۔ ایرک کے ایک دوست سم ٹزے ٹزم(Sim Tze Tzim) کو بھی اس کے ہمراہ تفتیش کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ سم ٹزے ٹزم ملائیشین رکن پارلیمنٹ میں اپوزیشن کاایک رکن بھی ہے۔ پولیس نے سم کا آئی فون ایس 6پلس بھی ضبط کر لیا ہے۔ سم نے تفتیش کے بعد پولیس سٹیشن سے باہر آ کر میڈیا سے بات کرتے ہوئے طنزیہ انداز میں کہا کہ ”کیا وہ نہیں جانتے کہ ایس 6پلس کتنا مہنگا ہے؟ “۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ کچھ ماہ میں ملائیشیا میں تین درجن سے زائد افراد کے متعدد موبائل فونز حکومت قبضے میں لے چکی ہے، ان سب کے خلاف کسی نا کسی انداز میں حکومت کی مخالفت کے حوالے سے تحقیقات چل رہی ہیں۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -