’بس اب بہت ہوگیا۔۔۔‘ روس کے بعد امریکہ نے بھی ترکی پر سنگین ترین الزام لگادیا، بڑا مطالبہ کردیا

’بس اب بہت ہوگیا۔۔۔‘ روس کے بعد امریکہ نے بھی ترکی پر سنگین ترین الزام ...
’بس اب بہت ہوگیا۔۔۔‘ روس کے بعد امریکہ نے بھی ترکی پر سنگین ترین الزام لگادیا، بڑا مطالبہ کردیا

  

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) شام سے نکل کر دنیا میں کہیں بھی جانے کے لیے داعش کے شدت پسندوں کے پاس سب سے بڑا ایک ہی راستہ ترکی سے ہو کر جاتا ہے۔ ترکی کا ایک طویل بارڈر شام کے ساتھ ملحق ہے جس کے ذریعے داعش کے شدت پسند شامی پناہ گزینوں کے ساتھ مل کر دیگر ممالک میں جاتے اور کارروائیاں کرتے ہیں۔ ایک قیاس ہے کہ پیرس حملوں میں ملوث داعش کے شدت پسند بھی ترکی کے راستے شام سے نکلے اور فرانس تک جا پہنچے تھے۔ اس لیے امریکہ نے ترکی سے اب مطالبہ کر دیا ہے کہ وہ شام کے ساتھ اپنا 60میل لمبا بارڈر سیل کردے۔

مزید جانئے: پیرس حملوں میں استعمال ہونے والے بیشتر ہتھیار ’سربیا میں بنائے جانے کا انکشاف

ترکی کا کل 550میل بارڈر شام کے ساتھ ملتا ہے مگر یہ 60میل کا علاقہ مکمل طور پر داعش کے قبضے میں ہونے کے باعث شدت پسند عموماً اسی علاقے سے ترکی میں داخل ہوتے ہیں۔ اگر ترکی شام کے ساتھ منسلک اپنا پورا بارڈر سیل کر دیتا ہے تو یقینا یہ داعش کے لیے بہت بڑا دھچکا ہو گا کیونکہ نہ صرف داعش کے شدت پسند اس راستے سے باہر جاتے ہیں بلکہ بیرونی دنیا سے ہزاروں کی تعداد میں نوجوان اسی راستے سے شام میں داخل ہو کر داعش میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں، اور شدت پسند تنظیم اسی راستے سے زیادہ تر تجارت کرکے پیسہ کمار رہی ہے جس سے ہتھیار خریدتی ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ بارڈر سیل کرنے کے معاملے پر ترکی کا معذرت خواہانہ رویہ اب قبول نہیں کیا جائے گا۔ اوباما انتظامیہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے ”دی وال سٹریٹ جرنل“ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”بس اب بہت ہو چکا، اب کھیل تبدیل ہو چکا ہے۔ اب ترکی کو بارڈر سیل کرنا ہی ہو گاکیونکہ داعش کا وجود ایک بین الاقوامی خطرہ بن چکا ہے اور یہ خطرہ ترکی کے راستے باقی دنیا تک پہنچ رہا ہے۔ “ امریکی حکام کا کہنا تھا کہ ترکی کو کم از کم 30ہزار فوجی بارڈر پر تعینات کرکے اس مکمل طور پر آمدورفت کے لیے بند کرنا ہو گا۔

مزید :

بین الاقوامی -