سست بارڈر اور دیگر پورٹس پر کلیئرنس کے عمل کو باہم منسلک کیا جائے

سست بارڈر اور دیگر پورٹس پر کلیئرنس کے عمل کو باہم منسلک کیا جائے

  

لاہور(کامرس رپورٹر) لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی نشاندہی پر وزارت کمیونیکیشن نے ایک مراسلے کے ذریعے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو ہدایت جاری کی ہے کہ سست کو ٹرانزٹ بارڈر قرار دیکر وی بوک سسٹم کے ذریعے تمام پورٹس کے ساتھ منسلک کیا جائے۔ وزارت کمیونیکیشن کی جانب سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے نام جاری کردہ مراسلہ بورڈ سے کہا گیا ہے کہ سست کو ٹرانزٹ بارڈر قرار دینے کے لیے ضروری اقدامات اٹھاکر سست بارڈر اور دیگر پورٹس پر کلیئرنس کے عمل کو باہم منسلک کیا جائے۔ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر شیخ محمد ارشد کی جانب سے وزارت کمیونیکیشن کو لکھے گئے خط میں کہا گیا تھا کہ پاکستان نے چین، قازقستان اور کرغستان کے ساتھ ست بارڈر اور کراچی پورٹ کے درمیان تجارت اور انسپورٹ کی سہولیات مہیا کرنے کے معاہدے کررکھے ہیں جو 2004ء سے نافذ العمل ہیں۔ چینی ٹرکوں کے ذریعے پاکستان کے لیے بہت کم درآمدی اور برآمدی مال آتا جاتا ہے جبکہ پاکستانی ٹرانسپورٹ وہیکلز چین کے ذریعے قازقستان اور کرغستان نہیں جاتے۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تک کسٹمز ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے کسی ایس آر او کے ذریعے سست کو ٹرانزٹ بارڈر قرار نہیں دیا گیا۔ خط کے مطابق پاکستان پہلے ہی اقوام متحدہ کے کنونشن برائے انٹرنیشنل ٹرانسپورٹ آف گڈز اور ڈبلیو ٹی او کے تجارتی سہولیاتی معاہدے کی توثیق کرچکا ہے۔

سست کو باقاعدہ ٹرانزٹ بارڈر قرار دیکر وی بوک سسٹم کے ذریعے تمام پورٹس سے منسلک کرنا تجارتی حوالے سے ایک بہت بڑی پیش رفت ہوگی۔

مزید :

کامرس -