القاعدہ کی شامی شاخ نے یرغمال لبنانی فوجیوں کو رہا کردیا

القاعدہ کی شامی شاخ نے یرغمال لبنانی فوجیوں کو رہا کردیا

  

دمشق (اے پی پی) شام میں القاعدہ کی شاخ النصرہ فرنٹ اور لبنانی فوج نے آپس میں قیدیوں کا تبادلہ کیا ہے اورالنصرہ فرنٹ نے یرغمال بنائے گئے کچھ لبنانی فوجیوں کو رہا کردیا ہے۔لیکن فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوا ہے کہ لبنانی فوج نے النصرہ فرنٹ محاذ کے کتنے اور کون سے قیدیوں کو رہا کیا ہے۔النصرہ فرنٹ نے اگست 2014ء سے لبنان کے سولہ فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنا رکھا ہے۔جولائی میں شام کے اس باغی گروپ نے لبنان کو دولت اسلامیہ عراق وشام (داعش) کے خلیفہ ابو بکر البغدادی کی ایک سابق اہلیہ اور چار دیگر خواتین کے بدلے میں یرغمال فوجیوں کی رہائی کی پیش کش کی تھی۔تب لبنان کی سرحد کے ساتھ واقع شامی علاقے وادی قلمون میں النصرہ فرنٹ کے امیر ابو مالک الشامی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اگر ہماری پانچ بہنوں کو جیلوں سے رہا کردیا جاتا ہے تو اس کے بدلے میں ہم تین فوجیوں کو رہا کردیں گے۔نو لبنانی فوجیوں کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اس وقت داعش کی قید میں ہیں۔النصرہ فرنٹ ماضی میں متعدد مرتبہ لبنانی جیلوں میں قید اسلام پسند قیدیوں کی رہائی اور لبنان سے شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے انخلاء کا مطالبہ کرچکا ہے۔

مزید :

عالمی منظر -