مقبوضہ کشمیر کے قانون دان جسٹس تیرتھ سنگھ ٹھاکر بھارتی سپریم کورٹ کے کے نئے چیف جسٹس

مقبوضہ کشمیر کے قانون دان جسٹس تیرتھ سنگھ ٹھاکر بھارتی سپریم کورٹ کے کے نئے ...

  

جموں(کے پی آئی) مقبوضہ کشمیر کے قانون دان جسٹس تیرتھ سنگھ ٹھاکر 2 دسمبر کو بھارتی سپریم کورٹ کے 43 ویں چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالیں گے عدالت عظمی کے 43 ویں چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالنے جا رہے ہیں۔ضلع ڈوڈہ کی تحصیل بانہال کے چھوٹے سے گاں بٹرو میں پیدا ہونے والے تیرتھ سنگھ ٹھاکر کے خاندان اور ا ن کے آبائی علاقے کے لوگوں میں خوشی پائی جارہی ہے اور ا ن کے اِس باوقار عہدے پر فائز ہونے پرگاں کی ہی زندگی بسر کرنے والے ا ن کے قریبی رشتہ داروں کی آنکھیں خوشی سے چھلک رہی ہیں۔ تحصیل ہیڈ کواٹر بانہال سے اکیس کلو میٹر کی دوری پر واقع بٹرو کے ایک غریب خاندان میں تیرتھ سنگھ ٹھاکر گاں کے چوکیدار ٹھاکر موتی رام کے بیٹے ٹھاکر دیوی داس، جو بعد میں ماہر قانون کے ساتھ ساتھ ریاست کے نایب وزیر اعلی اور آسام کے گورنر بھی رہے،کے گھر میں 4 جنوری 1952 عیسوی کو پیدا ہوئے ۔ جسٹس تیرتھ سنگھ ٹھاکر کے محنتی والد دیوی داس ٹھاکرمشکل حالات میں اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد قانون، سیاست اور صحافت کے افق پر چھائے رہے اور انہوں نے رام بن اور جموں میں وکالت کا پیشہ اختیار کیا۔ جسٹس تیرتھ سنگھ ٹھاکر سمیت بیشتر بچوں نے گاں کی ابتدائی تعلیم کے بعد جموں میں ہی مکمل تعلیم حاصل کی۔

جسٹس تیرتھ سنگھ ٹھاکر ابتدائی تعلیم کی چند جماعتوں کے بعد پرائمری سکول بٹرو، جواب ہائی سکول بن گیا ہے ،سے رام بن میں داخل ہوئے اور جلد ہی رام بن سے جموں تعلیم کے سلسلے میں منتقل ہوئے جہاں سے انہوں نے گریجویشن اور ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی۔اپنی آنکھوں میں خوشی کے آنسو لیکر جسٹس تیرتھ سنگھ ٹھاکر کے چچا زاد بھائی اومیش سنگھ ٹھاکر نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بھیا تیرتھ ا ن سے چار سال بڑے ہیں اور وہ بچپن سے سخت محنتی تھے اور ہم سب آج اِس عظیم کامیابی پر ا ن کو مبارکبادی پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں یقین نہیں ہوتا ہے کہ ایک غریب مگر محنتی خاندان سے پیدا ہوا گاں کا ایک لڑکا ملک کے باوقار پوسٹ چیف جسٹس آف انڈیا کا عہدہ سنبھالنے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے گھروں کے ساتھ ساتھ پورے علاقے میں ا ن کی کامیابی پر لوگوں میں خوشی کا سماں ہے اور ہمارے گھر آکر اور فون کے زریعے سینکڑوں لوگ اس خوشی میں شامل ہوئے ہیں۔ سینئر ایڈوکیٹ بانہال خالد نظام ،جوجموں میں اپنی ایل ایل بی ڈگری کے دوران ا ن کے علاقائی ساتھی تیرتھ سنگھ کی قربت میں رہے ہیں، کا کہنا ہے کہ ٹھاکر تیرتھ سنگھ کا سارا خاندان ہی غریب پرور تھا اور لوگوں کی مدد کو ترجیح دیتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ تیرتھ طالب علمی کے زمانے سے ہی ذہین تھے اور وکالت کا پیشہ اختیار کرنے کے بعد انہوں نے اپنے اثر انداز کام سے اپنا لوہا منایا۔انہوں نے کہا کہ ہمیں فخر ہے کہ ہمارے علاقے سے اور ہمارے درمیان میں پل بڑھ کر جوان ہوئے جسٹس تیرتھ سنگھ ٹھاکر چیف جسٹس آف انڈیا نامزد کئے گئے ہیں۔ ٹھاکر موتی رام چوکیدار بٹرو ، دھنمستہ تحصیل بانہال ضلع رام بن کے گھر میں 1929 میں پیدا ہوئے۔ دیوی داس ٹھاکور نے اپنی ابتدائی تعلیم بانہال اور پو گل کے سکولوں میں حاصل کرنے کے بعد وکالت کا پیشہ اختیار کیا اور ہائی کورٹ جموں کے جج بھی بن گئے۔ وہ سیاست میں داخل ہوئے اور مرحوم شیخ عبداللہ کی حکومت میں کابینہ وزیر رہے اور بعد میں مرحوم غلام محمد شاہ کی حکومت میں وہ نائب وزیر اعلی بنے۔ جہاں ٹھاکر دیوی داس آسام کے گورنز بن کر سیاست کے افق پر چمکتے جارہے تھے وہیں ا ن کے دو بیٹوں اور پانچ بیٹیوں میں سب بڑا بیٹا نامزد چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس تیرتھ سنگھ ٹھاکر بھی اپنے پیشہ وکالت میں ماہر قانون کی حیثیت سے ابھرتے جارہے تھے اور تیزی سے اپنا نام کما رہے تھے ۔1952 عیسوی میں بٹرو میں پیدا ہوئے تیرتھ سنگھ ٹھاکر نے بیس سال کی عمر میں پہنچتے ہی 1972 میں اپنے والد دیوی داس ٹھاکر کی سرپرستی میں جموں ہائی کورٹ میں ایک پیشہ ور وکیل کی حیثیت سے کام شروع کیا اور جلد ہی اپنی قابلیت اور پیشہ ورانہ صلاحیت سے اپنا لوہا منوایا۔ انہوں نے بڑے بڑے کرمنل اور سیول کیسوں کی پیروی کی اور اِن کے سپیشلسٹ مانے جاتے ہیں۔ 1990 میں جسٹس تیرتھ سنگھ ٹھاکرجموں ہائی کورٹ کے سنیئر ایڈوکیٹ بن گئے اور 1994 میں وہ جموں کشمیر ہائی کورٹ کے ایڈیشنل جج بنائے گئے اورا ن کا تبادلہ کرناٹک کے ہائی کورٹ میں بطور جج کیا گیا۔ 1995 میں وہ جموں ہائی کورٹ کے مستقل جج کے طور نامزد ہوئے اور 2004 میں ا نہیں دہلی ہائیکورٹ میں بطور جج تعینات کیا گیا۔ 2008 میں جسٹس تیرتھ سنگھ ٹھاکر کو دہلی ہائیکورٹ کا چیف جسٹس تعینات کیا گیا اور اگست 2008 میں انہیں چیف جسٹس آف ہریانہ اور پنچاب کے عہدے پر فائز کیا گیااور اب وہ2دسمبر کوچیف جسٹس آف انڈیا کے عہدے پر فائض ہورہے ہیں۔

مزید :

عالمی منظر -