سیلزٹیکس سروسز ایکٹ کے نفاذ پر بزنس کمیونٹی کو تحفظات ہیں: سمیع اللہ نعیم

سیلزٹیکس سروسز ایکٹ کے نفاذ پر بزنس کمیونٹی کو تحفظات ہیں: سمیع اللہ نعیم

  

لاہور(کامرس رپورٹر)گوجرانوالہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر سمیع اللہ نعیم نے کہا ہے کہ حکومت پنجاب کا سیلزٹیکس سروسز ایکٹ کا نفاذ کیا ہے اس پر تمام بزنس کمیونٹی کو بیشمار ابہام ہیں ۔بزنس کمیونٹی پر پہلے ہی بے جا ٹیکسوں کی بھرمار ہے جس سے بزنس کمیونٹی پہلے ہی کافی دباؤ کا شکار ہے ۔معیشت کمزور ہوتی جارہی ہے فیکٹریاں اور کاروبار کا حجم سکڑتا جا رہا ہے جبکہ ٹیکسز کا حجم بڑھتا جا رہا ہے ۔حکومت پنجاب نے سیلزٹیکس آن سروسز ایکٹ 2012ء لاگو کیا او ر پھر ود ہولڈنگ رولز 2015ء کے تحت تمام افراد کو ود ہولڈنگ ایجنٹ بھی بنا دیا ہے ۔جبکہ ستم ظریفی کی بات ہے کہ یہ ایکٹ 2012ء کا ایکٹ اور 2015ء کے ود ہولڈنگ رولز لاگو ہونے کے بعدمتعارف کروائے جا رہے ہیں جبکہ حق تو یہ تھا کہ ایسے قوانین جن کا اطلاق بالخصوص کاروباری برادری پر ہوتا ہے ان کو اعتماد میں لینا چاہیئے تھا۔اس قانون کے تحت کاروباری حضرات کو ود ہولڈنگ ٹیکس ایجنٹ بنا کر نہ صرف ان کی مشکلات میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔بلکہ حکومتی سطح پر کاروبار کرنے کو مشکل بنایا جا رہا ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے چیمبر میں پنجاب ریونیواتھارٹی کے زیراہتمام سیمینار سے خطاب کے دروان کیا جبکہ اس موقع پر سینئر نائب صدر محمد اقبال شاہین ،نائب صدر محمد اقبال شاہین ،اراکین مجلس عاملہ،سابق صدور شیخ محمد نسیم ،اخلاق احمد بٹ،رانا شہزاد حفیظ،خواجہ خالد حسن ،کاشف اے عزیز ،ملک امین ناز ،کمشنر پنجاب ریونیواتھارٹی عبدالجواد ،ڈپٹی کمشنر طاہر یاسین کے علاوہ بزنس کمیونٹی کی کثیر تعداد بھی موجود تھی۔

کمشنر پنجاب ریونیواتھارٹی عبدالجواد نے کہا کہ اس سیمینار کے انعقاد کا مقصد حکومت پنجاب کے اس ایکٹ کے بارے میں اراکین کو بریفنگ دینا تھا۔انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ایکٹ کے نفاذ سے بزنس کمیونٹی پر ٹیکسوں کا مزید بوجھ بڑھے گا۔میرا آنا صرف اور صرف حکومتی آرڈر کو بریفک کرنا ہے اگر بزنس کمیونٹی کو اس ایکٹ کے نفاذ میں کسی قسم کا ابہام ہے تو اسے دور کرنے کیلئے اعلیٰ سطح پر اپنی آواز بلند کرسکتے ہیں ۔

مزید :

کامرس -