مسلم کانفرنس کا نام بدل کر نیشنل کانفرنس رکھا تھا، ورنہ آج صورتِ حال کچھ اور ہوتی‘عمر عبداللہ

مسلم کانفرنس کا نام بدل کر نیشنل کانفرنس رکھا تھا، ورنہ آج صورتِ حال کچھ اور ...

  

ڈوڈہ(کے پی آئی)سابق وزیراعلی اور نیشنل کانفرنس کے کارگزار صدر عمر عبداللہ نے کہا کہ یہ نیشنل کانفرنس ہی تھی جس نے دو قومی نظرئے کو مسترد کر کے ریاست کا الحاق بھارت کے ساتھ کیا تھا اور مسلم کانفرنس کا نام بدل کر نیشنل کانفرنس رکھا تھا، ورنہ آج صورتِ حال کچھ اور ہوتی ۔۔ڈوڈہ میں پارٹی کارکنان کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا نیشنل کانفرنس ایک تاریخی جماعت ہے اور اس کی جڑیں بہت مضبوط ہیں۔انہوں نے کہا نیشنل کانفرنس ہی وہ واحد جماعت ہے جو فرقہ وارانہ بنیادوں پر عوام کو تقسیم کرنے کی مخالف اوریہاں کے آپسی بھائی چارہ اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی علمبردار رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ شیخ محمد عبداللہ نے ہندو،مسلم،سکھ اتحاد کا جو نعرہ دیا تھا، پارٹی آج پر اس پر قائم ہے اور آئندہ بھی رہے گی۔انہوں نے مزید کہا جو لوگ آج نیشنل کانفرنس سے وابستگی ظاہر کرنے والوں کو قوم دشمن اور ملک دشمن کا نام دیتے ہیں، انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ یہ نیشنل کانفرنس ہی تھی جس نے دو قومی نظرئے کو مسترد کر کے ریاست کا الحاق ہندوستان کے ساتھ کیا تھا اور مسلم کانفرنس کا نام بدل کر نیشنل کانفرنس رکھا تھا، ورنہ آج صورتِ حال کچھ اور ہوتی۔۔ہندوپاک تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج پاکستان کے وزیرِ اعظم یہ کہتے ہیں کہ ہم بھارت کے ساتھ بلا شرط بات چیت کرنے کے لئے تیار ہیں،مگر میں کہتا ہوں کہ جو ممالک ایک دوسرے کے ساتھ کرکٹ میچ کھیلنے کے لئے تیار نہیں وہ آپس میں کیا بات کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم کی سری نگر آمد سے ایک ہفتہ پہلے سینکڑوں لوگوں کو گرفتار کیا گیا اور ایسے حالات ریاست میں پیدا کئے گئے کہ ماضی میں ایسا کبھی نہیں ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک طرف مفتی صاحب گولی نہیں بولی کی بات کرتے ہیں تو دوسری طرف جن لوگوں کے ساتھ بات کرنی ہے ان کو جیلوں میں بند کر دیا جاتا ہے تواب بات کس سے کرنی ہے۔انہوں نے کہا کہ میں نے پارلیمانی انتخابات کے دوران ہی کہا تھا کہ بی جے پی اور پی ڈی پی اندرونی طور ملے ہوئے ہیں اور صرف لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے ایک دوسرے کو روکنے کی باتیں کر رہے ہیں۔مودی صاحب کہتے تھے کہ ریاست کو عبداللہ خاندان اور مفتی خاندان سے آزاد کرنا ہے،اسی طرح پی ڈی پی کا کہنا تھا کہ بی جے پی کا راستہ روکنے والی واحد جماعت پی ڈی پی ہے،مگر بعد میں اقتدار کی خاطردونوں پارٹیاں مل گئیں۔فاروق عبداللہ کے اس بیان کہ ملک کی پوری فوج بھی ریاست میں ملی ٹنسی ختم نہیں کر سکتی کا دفاع کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ بالکل درست بات ہے کہ بندوق سے کوئی مسئلہ حل ہونے والا نہیں اور یہ بات فوج بھی مانتی ہے۔مسائل کے حل کے لئے سیاسی عمل اور آپسی بات چیت لازمی ہے۔

مزید :

عالمی منظر -