جعلی کاسمیٹکس کا دھندہ عروج پر ،خواتین میں جلد کا کینسر پھیلنے لگا

جعلی کاسمیٹکس کا دھندہ عروج پر ،خواتین میں جلد کا کینسر پھیلنے لگا

  

لاہور (دیبا مرزاسے) صو با ئی دارلحکو مت پنجاب میں جعلی کاسمیٹکس کا کاروبار ایک با ر پھر عروج پر پنچ گیا ، جس سے گھریلو خواتین ایک طرف جعل سازی کا شکار ہیں تو دوسری طرف بیوٹی پالرز کی چاند نی ہے ۔ ان کاسمیٹکس کے استعمال سے خواتین میں جلد کے کینسر کا مرض تیزی سے پھیلنے لگا ہے۔ جعلی کاسمیٹیکس بنا نے والی، خود سا ختہ نا موں والی اور برانڈ ڈ نا موں کو کا پی کر نے والی یہ کمپنیا ں خواتین کو دوتوں ہا تھوں سے لو ٹنے لگی ۔ذرائع کے مطابق شہر بھر کی تما م بڑی مارکیٹوں میں جعلی کاسمیٹکس اشیاء کی بھر مار ہو گئی ، خواتین مارکیٹ میں دستیاب جعلی کاسمیٹکس کو مہنگے داموں اصل سمجھ کر خرید لیتیں جس کہ استعمال کے بعد چہرے پر ر ی ایکشن آنے کے بعد اس کے جعلی ہو نے کا اندازہ ہو تا ہے ۔ خواتین کے استعمال میں آنے والا ہر طر ح کے فیشل کا سامان اصلی قیمت سے انتہا ئی کم قیمت میں دستیاب ہے جس سے گھریلو خواتین ایک طرف جعل سازی کا شکار ہیں تو دوسری طرف بیوٹی پالرز کی چاند نی ہے اصل کمپنیونں کے نام استمال کے کر ایک سو روپیہ کے خر چہ والا فیشل ایک ہزار میں کر تی ہیں روزنامہ ’’پاکستان‘‘ کے جعلی کاسمیٹکس کے حوالے سے کئے گئے سروے میں یہ چیزیں سامنے آئیں ہیں کہ فیشن کے اس دو رمیں خواتین خوبصورت نظر آنے کے جہاں پر انٹرنیشنل کاسمیٹکس کا استعمال کرنے کی دوڑ میں آگے ہوتی ہوں، وہاں پر جعلی کاسمیٹکس بنانے والی کمپنیاں بھی اس پراڈکٹ کی کاپی اتنی خوبصورتی سے کر رہی ہیں کہ خواتین دھوکہ کھا جاتی ہیں۔ سروے کے دوران یہ چیز واضح نظر آئی کہ خواتین کے استعمال کے لئے بنائی گئی انٹرنیشنل برانڈ کے میک اپ سے لے کر فیشل کریم، مساج کریم، شیمپو، چہرے کی کریمیں، لوشنز، نیل کلر سب جعلی دستیاب ہیں۔ جو کہ مارکیٹ میں اصل پراڈکٹ کے داموں فروخت ہوتی ہیں۔ ان جعلی کاسمیٹکس کے استعمال سے جلد کے کینسر میں خطرنا ک حد تک اضا فہ ہو گیا ہے ۔ ان کاسمیٹکس کے مضر اثرات کے حوالے سے مشہور بیوٹیشن مسرت مصباح نے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ مارکیٹ میں اس وقت جعلی کا سمیٹکس کی بھر مار ہے جن کو دکاندار زیا دہ پرافٹ کے چکر میں ایک نمبر کہہ کر خواتین کو دے دیتے ہیں اور ساتھ ساتھ اس کے اصلی ہو نے کا بھی یقین دلواتے ہیں ۔نیو لک پارلر کی بیو ٹیشن اوشناء نے کہا کہ اس وقت لاہور میں بے شمار ایسے چھوٹے چھوٹے بیوٹی پارلر قائم ہیں جن میں اس طرح کی جعلی کاسمیکٹس کا استعمال کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے پارلرز کو تو فائدہ ہو جاتا ہے، لیکن وہ کیمیکل جو کہ ان پراڈکٹ میں استعمال ہوتے ہیں اس سے سکن تباہ ہو جاتی ہے اور چہرے کے ہارمونز مردہ ہو جاتے ہیں اور وقت سے پہلے چہرہ مر جھا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا جس کی و جہ سے جلد کے کینسر میں اضا فہ ہو رہا ہے ،

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -