پت جھڑ میں اپنی ماں کی یاد

پت جھڑ میں اپنی ماں کی یاد
 پت جھڑ میں اپنی ماں کی یاد

  

پتے میرے آنسوؤں کی طرح گرتے جا رہے ہیں، گرتے ہی جا رہے ہیں۔ کچھ دن میں یہ پت جھڑ ختم ہو گی اور ٹوٹ پھوٹ کا یہ عمل تھم جائے گا۔ میری ماں ایسے ہی موسم میں ہم سے جدا ہوئی تھی اس لئے اس رت میں ان کی یاد زیادہ شدت سے آ رہی ہے ورنہ ان کی جدائی سے میرے اندر ٹوٹ پھوٹ کا جو عمل شروع ہوا تھا وہ لگتا ہے کبھی تھمنے والا نہیں ہے۔ جیسے ان کی یاد دل میں منجمد ہو گئی ہو جو کبھی پگھل کر اندر ہی اندر سیراب کرتی رہتی ہے اور کبھی آنسوؤں کی صورت باہر بھی اُمڈ آتی ہے۔میری ماں 1988ء کی خزاں میں کسی نہ معلوم دنیا میں چلی گئی۔ تب سے ہر طرف خزاں ہی خزاں نظر آتی ہے۔ یہاں امریکہ میں اسے رنگ بدلتے پتوں کا موسم بھی کہتے ہیں پرہم نے تو پتوں کے رنگ نہیں دیکھے ہمیں تو پھر تیز ہواؤں کے کندھوں پر سوار خشک پتوں کی کھڑکھڑاہٹ ہی سنائی دیتی رہی۔

میں اپنے ماں باپ کے احترام میں وہابی کہلاتا ہوں ورنہ میں تو اس رائج الوقت وہابیت کا باغی ہوں۔ اس شریعت کے مطابق قل، چہلم یا برسی نہیں منائی جاتی اس لئے میری ماں کے حوالے سے یہ سب نہ ہوا اور نہ ہوتا ہے۔ یہ شریعت کہتی ہے جدا ہونے والے کا تین دن بعد سوگ نہ مناؤ۔ یعنی جدائی کے غم کی جسم میں درآمد پر پابندی ہے۔ کیا سوچ ہے؟ جو درد ایک ایک رگ میں پیوستہ ہو چکا ہو اسے کھرچ کر کیسے باہر نکالو گے۔ میں اللہ کی عبادت بھول سکتا ہوں لیکن ہر رات کے پچھلے پہر بلا ناغہ سونے سے پہلے اپنی ماں کو یاد کرنا نہیں بھولتا جس میں پھر دوسرے بچھڑنے والوں کی یاد بھی شامل ہو جاتی ہے۔مجھے ان کے غم کے ساتھ ایک احساس ندامت بھی ہے۔ وہ اپنی طبعی عمر پوری کرنے سے پہلے ہی دل کے مرض کے سبب اس جہاں سے گئیں اور ان کے بقول انہیں مریض بنانے والا شخص میں تھا۔ جرم میرا تھا، سزا ان کو مل گئی۔ کہانی خاصی لمبی ہے اسے مختصر کر کے سناؤں گا۔ آپ سن لیں گے تو آپ کی مہربانی ورنہ اس تحریر کو یہیں چھوڑ دیں کوئی گلہ نہیں کروں گا کہ یہ کالم میں آپ کے لئے نہیں صرف اپنے لئے لکھ رہا ہوں۔

اپنے دو بھائیوں کی اکلوتی چھوٹی لاڈلی بہن نواب بیگم ترنتارن سے ملحق گاؤں ککہ کڑیالہ میں میاں رحیم بخش کے گھر پیدا ہوئیں۔ میں نے بچپن میں صرف اپنی نانی کو دیکھا تھا لیکن میری امی بتاتی تھیں کہ میرے نانا کی زمینداری اتنی بڑی نہیں تھی جتنا ان کا رکھ رکھاؤ، دبدبہ یا آکڑ تھی۔ اسی لئے وہ اپنے سگے پھوپھی زاد بھائی میاں چراغ دین سے بھی پورے اترتے تھے جو اپنے سیاسی اور سماجی رتبے کے باعث ’’راوی کے بے تاج بادشاہ‘‘ کہلاتے تھے۔ میاں رحیم بخش نے اپنی بیٹی نواب بیگم کا رشتہ نائب ذیلدار اور نمبردار عبدالکریم کے بڑے بیٹے اور مستقبل کے نمبردار میاں شاہ دین سے کر دیا۔ ان کا سب سے بڑا بیٹا میں ہوں۔میری امی نے مجھے خود ہی قصہ سنایا تھا کہ ابھی میں بمشکل گھٹنوں کے بل چلنے کے قابل ہوا تھا کہ مجھے شدید بخار ہو گیا دو ہفتے سے زیادہ عرصہ گزر گیا۔ علاج ہوتا رہا۔ بخار بالآخر ختم ہو گیا لیکن اس دوران میری آنکھیں بند ہو گئیں۔ بند آنکھوں سے گاہے گاہے خون کے قطرے بھی نکلتے۔ گھر والے شاید میری آنکھوں سے مایوس ہو گئے تھے۔ میری ماں کا برا حال ہو گیا۔ ساری ساری رات وہ میرے سرہانے روتی رہتیں۔ طبیبوں نے میرے ساتھ ان کا علاج بھی شروع کر دیا وہ پوری طرح دل کی مریض بن چکی تھیں اور پھر آخر ایک دن میں نے آنکھیں کھول دیں۔ میری آنکھیں صاف شفاف نکل آئیں۔ وہ بتاتی تھیں تمہارے صحت یاب ہونے پر بڑا جشن منایا گیا۔ دعوتیں ہوئیں اور خیرات بانٹی گئی ،لیکن اس دوران وہ جوانی میں ہی دل کی مریضہ بن گئیں اور یہی مرض ان کی طبعی عمر پوری ہونے سے قبل ہی ان کی رحلت کا سبب بنا۔ بعد میں وہ مجھے اکثر کہا کرتی تھیں کہ ’’زمان! اگر مجھے پتہ ہوتا کہ تم بچ جاؤ گے اور تمہاری آنکھیں محفوظ رہیں گی تو میں دل کا روگ نہ لگاتی‘‘۔

میرے سکول کے زمانے میں اوکاڑہ شہر میں جو رواج تھا اس کے مطابق لڑکے کہاں گھر میں ٹکتے تھے۔ سکول سے آکر کھانا کھا کے تھوڑا بہت ریسٹ کر کے جو ایک بار آوارہ گردی کے لئے نکلتے تو گھر کا یاد ہی نہیں ہوتا تھا۔ موبائل فون نہیں تھے کہ گھر والے پیچھا کر لیتے۔ مجھے یاد ہے دیر سے گھر آنا اور ڈرتے ڈرتے چپکے چپکے بچا کھچا کھانا اس طرح کھانا کہ والد صاحب کو خبر نہ ہو جائے۔ ان کو خبر ہو جاتی تو سخت ڈانٹ پڑتی اور اگلے روز کی وارننگ ملتی،لیکن ایسے احکامات کی کسے پرواہ تھی۔ بچانے کے لئے امی ہر وقت موجود ہوتیں۔ والد صاحب گھر نہ ہوتے تو امی پاس بٹھا کر سمجھاتیں کہ شام کو باہر جایا کرو تو کم از کم یہ تو بتا دیا کرو کہ کہاں جا رہے ہو اور کتنی دیر میں واپس آؤ گے۔ میں ان کی ہدایت پر حیران ہو کر کہتا کہ آپ کیوں فکر کرتی رہتی ہیں۔ آپ کو پتہ ہے میں جہاں بھی جاؤں آخر گھر آ کر ہی سونا ہوتا ہے۔ جب میں خود تین بیٹیوں کا باپ بنا تو پتہ چلا کہ بچے گھر سے باہر ہوں تو دل کیسے بے چین رہتا ہے۔آوارہ گردی اپنی جگہ لیکن مذہبی فرائض سے تغافل ہمارے گھر میں قابل قبول نہ تھا۔ امی زیادہ پڑھی لکھی نہیں تھیں لیکن قرآن شریف ، چھوٹی موٹی کتابیں اور اخبار بڑی آسانی سے پڑھ لیتی تھیں۔ وہ دین دار ہونے کے ساتھ ساتھ جرأت کے ساتھ حق گوئی کرنے کی شہرت رکھتی تھیں۔ وہ زمیندار گھرانے کی اپنی دیگر رشتہ دار عورتوں کے برعکس مردوں کے سامنے کھل کر بات کرنے اور اختلاف کرنے سے باز نہیں آتی تھیں۔

یہ قصہ خود انہوں نے مجھے سنایا تھا۔ ایک مرتبہ وہ دریائے راوی کے کنارے واقع گاؤں برج جیوے خاں میں اپنے تایا میاں چراغ دین کے گھر کچھ دن رہنے کے لئے گئیں جن کا ذکر پہلے بھی میں کر چکا ہوں۔ وہ ہماری پھوپھی کے سسر بھی تھے۔ اس بڑی حویلی میں سب لوگ اکٹھے رہتے تھے۔ کھانے کے وقت بڑے میاں صاحب ڈیرے سے اُٹھ کر اندر گھر آتے۔ گھر کی خواتین نے یہ اطلاع دینے کے لئے ڈیرے سے لے کر زنان خانے کے دروازے تک نوکرانیوں کی ڈیوٹی لگا رکھی تھی۔ میاں صاحب ڈیرے سے اُٹھتے تو اندر فوراً خبر ہو جاتی اور ہنگامی حالت کی سی کیفیت پیدا ہو جاتی۔ ایک طرف تندور میں تازہ روٹی لگنے لگتی۔ دوسری طرف چولہے کے قریب موڑھا اور میز لگا دیا جاتا۔ نوکرانیاں پنکھے جل رہی ہوتیں۔ گھر کی مالکن جو باہر کی دنیا کے لئے جاگیردارنی تھی اپنی بہوؤں سمیت نوکرانیوں کی مدد کے ساتھ ہانپتی کانپتی تازہ روٹی اور کھانا فراہم کرنے میں مصروف ہوتیں۔ بڑے میاں صاحب اکیلے کھانا کھاتے تھے۔ وہ اُٹھ کر چلے جاتے تو پھر خواتین کھانا کھاتیں۔ اس سازی افراتفری میں میری امی آرام سے ایک طرف پیڑھی پر بیٹھی رہیں۔ میاں صاحب کی ان پر نظر پڑی تو پوچھااپنی چھورنوں روٹی دتی اے؟ (اپنی اس لڑکی کو کھانا کھلا دیا ہے؟) ان کے کہنے کی دیر تھی کہ ایک میز اور موڑھا میری امی کے لئے بھی لگ گیا۔ اس طرح اس حویلی کی روایت کے برعکس میری امی جب بھی برج آتیں تو ہمیشہ ان کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاتیں۔ وہ ہنستے ہنستے مذاق میں کہتے کہ مجھے بھائی رحیم بخش نے نہیں چھوڑنا تھا کہ میری بیٹی آئی اور اس کے ساتھ یہ سلوک کیا؟

ایک مرتبہ کھانے کی ایسی ہی ایک مجلس میں میری امی نے اس وقت کی سوسائٹی میں خواتین کے ساتھ دوسرے درجے کے سلوک پر بحث شروع کر دی۔ وہ کہنے لگیں کہ ہونا تو یہ چاہئے کہ نوکرانیوں کے ساتھ بھی عزت کا برتاؤ ہو لیکن میں نے دیکھا ہے کہ میری تائی، نندوں، بہنوں اور اس گھر کی نوکرانیوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ آپ ان عورتوں کو اپنے بیٹوں جیسا درجہ کیوں نہیں دیتے؟ انہوں نے بتایا کہ ان کے ایسا کہنے سے ماحول میں ایک سناٹا چھا گیا۔ خواتین سہم گئیں۔ وہ توقع کر رہی تھیں کہ اس پروہنی (مہمان) کو اب تھپڑ پڑ کر ہی رہے گا۔ انہوں نے سیدھا جواب تو نہیں دیا لیکن سخت بد مزہ ہو کر صرف اتنا کہا کہ ’’تم بھائی رحیم بخش کی صحیح بیٹی ہو۔‘‘ وہ اس لئے کہ میاں رحیم بخش کافی اکھڑ مشہور تھے۔مجھے لگتا ہے خواتین کے حقوق کے لئے آواز بلند کرنے کی عادت لاشعوری طور پر میں نے ان سے ہی لی ہے۔میرے ماں باپ مذہب کی پوری پابندی کرنے والے تھے اس لئے گھر میں وہی ماحول تھا۔ وہاں سب کچھ برداشت ہو سکتا تھا لیکن نماز روزے کی خلاف ورزی ممکن نہ تھی۔ شہر میں والد صاحب کے انتہائی قریبی دوست ڈاکٹر سلیم (جنید سلیم کے والد)، ڈاکٹر عبدالغنی (سلمان غنی کے والد) عمر شوق (ڈاکٹر سلیم کے بہنوئی) اور ڈاکٹر صادق تھے جنہیں اس تعلق کی بنا پر ہم چچا کہتے تھے لیکن ان کی بیگمات میری امی کی اتنی ہی گہری دوست تھیں اس لئے ہم ان کو چچی کی بجائے خالہ کہتے تھے۔ ہفتہ وار نیم سیاسی نیم مذہبی مجلسوں میں شرکت کے علاوہ وہ ایک دوسرے سے ملنے کا کوئی نہ کوئی بہانہ ڈھونڈھ لیتی تھیں۔

میری امی جہاں پوری جرأت سے سچ بات کہہ دیتی تھیں وہاں وہ میرے والد کی طرح بہت زیادہ امن پسند، صلح جو اور روادار تھیں۔ انہیں لڑائی جھگڑا نہ ہی کرنا آتا اور نہ ہی اسے وہ پسند کرتی تھیں۔ کسی جھگڑے کی صورت میں وہ یہ تعین نہیں کرتی تھیں کہ کس کی غلطی ہے۔ وہ سب سے کہتیں کہ جھگڑا ختم کرو اور صلح کر لو۔ مجھے ان سے یہی شکایت تھی کہ وہ کسی کو مورد الزام ٹھہرانے کی بجائے سب کچھ بھلا کر صلح صفائی کرنا چاہتی تھیں۔ ایک مرتبہ میرے چھوٹے بھائی سیف کی بیوی ثریا نے مجھ سے ایک سخت بات کہہ دی جس کا برا منا کر میں نے اس سے بول چال بند کر دی۔ وہ بے اولاد تھی جس کی بناء پر میری امی کو اس سے بہت ہمدردی تھی۔ میری امی میرے پاس آئیں اور کہا کہ چلو چل کر اس سے معافی مانگو۔ میں نے کہا مجھے آپ کا بہت اخترام ہے لیکن میں اس سے کیوں معافی مانگوں جب کہ غلطی بھی اس کی ہے۔ میری امی کو میری بات پسند نہیں آئی جس کا مجھے افسوس ہوا لیکن میں اپنے موقف پر قائم رہا۔ تاہم ان کی رحلت کے بعد میں نے سب سے پہلا کام یہ کیا کہ اپنی بھابھی کے پاس جا کر اس غلطی کی معافی مانگی جو میں نے کی ہی نہیں تھی او راپنی ماں کی خواہش کے مطابق اس سے صلح کر لی۔

مجھے اوکاڑہ میں سب گھر والے بلکہ باہر والے بھی بھائی صاحب ہی کہتے ہیں۔ ہر ویک اینڈ پر میری امی تیسری منزل پر اپنے بیڈ روم کی کھڑکی کے قریب کرسی لگا کر میرا انتظار شروع کر دیتیں سارے بہن بھائی انہیں کہتے کہ اس طرح بھائی صاحب کوئی جلدی آ جائیں گے۔ وہ جواب دیتیں زمان کے آنے کی امید ہو تو گھر کے اندر مجھ سے رہا نہیں جاتا۔ بس اپنی تسلی کے لئے یہاں بیٹھتی ہوں۔ کھانا بھی وہیں کھاتیں۔صرف باتھ روم جانے یا نماز پڑھنے کے لئے وہاں سے اُٹھتیں۔ کہتے ہیں اولاد کو بگاڑنے میں ماؤں کا بھی ہاتھ ہوتا ہے۔ مجھے بگاڑنے میں بھی میری ماں کا پورا ہاتھ تھا۔ آٹھویں جماعت تک میں بہت پڑھاکو اور ذمہ دار مشہور تھا۔ اس سال کے آخر میں آوارہ گردی اور فلم بینی کا آغاز کیا۔ میری ماں کو میرے سارے لچھن معلوم تھے لیکن وہ جس حد تک ہو سکا والد صاحب سے یہ سب باتیں چھپاتی رہیں۔

انہوں نے مجھے وہ سب کچھ دیا جو ایک ماں بیٹے کو دے سکتی ہے۔ بلکہ کچھ زیادہ ہی دیا۔ بیٹے کی بیماری پر رو رو کر دل کی مریض بن گئیں۔ میں نے ان کو کچھ نہیں دیا۔ میرا ان کو کچھ دینا ضروری نہ تھا کہ وہ یہ سب کچھ کسی بدلے کے لئے نہیں کر رہی تھیں۔ انہوں نے تو دن رات رو رو کر اپنے بیٹے کی صحت کی دعائیں مانگی تھیں جو منظور ہو گئیں۔ بدلے میں انہیں جو جان لیوا دل کا مرض ملا تو وہ شاید اسے گھاٹے کا سودا نہیں سمجھتی تھیں۔ لیکن ان کے جانے کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ دربدر پھرنے والے پناہ گزینوں کا کیا حال ہوتا ہوگا۔ دو سال قبل ان کی رخصت کے ایسے ہی عالم میں میں نے اپنی کیفیت کو اپنے ایک شعر کی صورت میں ایسے بیان کیا تھا کہ:

میری ماں کی گود میسر تھی کبھی مجھ کو

میں ہمیشہ تو دربدر نہیں تھا پھرتا

مجھے معلوم ہے وہ ایک ایسی دنیا میں چلی گئی ہیں جہاں میرے آنسوؤں کی رسائی نہیں ہو سکتی لیکن میں کیا کروں۔ رات کے پچھلے پہر بہنے والے آنسو میری عادت کا حصہ بن چکے ہیں۔ میرے لئے ہر خزاں میری ماں سے جدائی کا موسم ٹھہری ہے۔ یہ پت جھڑ رُت ابھی جاری ہے اور پتے، میرے آنسوؤں کی طرح، گرتے جا رہے ہیں، گرتے ہی جا رہے ہیں۔

مزید :

کالم -