فکر کیوں کھائے جاتی ہے ؟

فکر کیوں کھائے جاتی ہے ؟
 فکر کیوں کھائے جاتی ہے ؟

  

ملک میں جمہوریت موجود ہے۔ پارلیمنٹ کام کر رہی ہے۔ عدلیہ فرائض سرانجام دے رہی ہے۔ انتخابات ہو رہے ہیں، بلدیاتی انتخابات کا دور دورہ ہے۔ سیاست دان اپنی اپنی دانست میں ملک کی سمت متعین کرنے پر زور دے رہے ہیں۔ لوگ ابھرتی ہوئی تصاویر دیکھ کر کہہ رہے ہیں کہ کوئی تو آئے گا جو حالات کو بہتر کرے گا۔ یہ کون لوگ ہیں جو کسی کے آنے سے حالات کے بہتر ہونے کے منتظر ہیں؟ ان لوگوں کے کیا مسائل ہیں جو کسی کے آنے کے انتظار میں ہیں۔ حال ہی میں ایک محفل میں گفتگو ہو رہی تھی۔ موضوع کچھ اور تھا، لیکن بات نکل گئی ملک میں رہائشی سہولتوں کے ناپید ہونے کی طرف جو بہر حال غالب آبادی کا گھمبیر مسلہ ہے ۔ مٹھی بھر لوگوں کے پاس ذاتی رہائش کی سہولتیں موجود ہیں ،لیکن بھاری اکثریت اس سہولت سے محروم ہے۔ لوگ کرایہ کے مکانات میں رہائش رکھتے ہیں یا پھر ایسے علاقوں میں قائم غیر قانونی کچی آبادیوں میں زمین کا چھوٹا ٹکڑا خرید کر اپنے بچوں کے لئے سر چھپانے کی جگہ بنا کر رہائش رکھتے ہیں۔ جو لوگ کرایہ کے مکانات میں رہائش رکھتے ہیں ان کے لئے کرایہ میں اضافے کے روز روز کے تقاضے اور ہر پہلی تاریخ کو گھر کے دروازے پر دستک تکلیف کا سبب ہی ہوتی ہے۔ کرایہ دار کو کرایہ کی رقم سے غرض ہوتی ہے۔ اگر کسی شخص کی آمدنی دس سے بیس ہزار روپے ماہانہ ہے تو اس شخص کے لئے کرایہ دار کے تقاضے پورا کرنا ناممکن سی با ت نظر آتی ہے۔ پاکستان کی آبادی کی بھاری اکثریت کی ماہانہ آمدنی دس اور بیس ہزار کے اندر ہی ہوتی ہے۔ بیس ہزار روپے ماہانہ کی آمدنی والا فرد اپنا گھر کس طرح چلاتا ہے ، اس کے بارے میں حکومت کا کاروبار چلانے والے لوگوں کے پاس سوچنے کا وقت ہی نہیں ہے ۔

اخبارات ہیں کہ ایسے اشتہارات سے بھرے ہوتے ہیں جن میں لوگوں کو بہترین رہائشی سہولتوں کی نوید سنائی جاتی ہے۔ ایک سے ایک اعلی مکان یا فلیٹ کی تشہیر کی جاتی ہے۔ یہ سب کچھ نجی کاروبار کا حصہ ہوتا ہے۔ جب قیمتوں پر نظر ڈالی جاتی ہے تو محسوس ہوتا ہے کہ یہ سہولت بھی ان ہی لوگوں کے لئے ہے جو پہلے سے وسائل رکھتے ہیں کیوں کہ بنیادی سہولتوں سے آراستہ کسی بھی آبادی میں مکان یا فلیٹ کی قیمت گرے سے گرے تیس لاکھ سے کم نہیں بتائی جاتی ہے۔ یہ قیمت احتیاط کے طور پر کم لکھی گئی ہے ورنہ تین یا چار کمروں کی قیمتیں تو ساٹھ اور ستر لاکھ رو پے سے بھی تجاوز کر گئی ہیں۔ وہ شخص جس کی ماہانہ آمدنی ہی بیس ہزار روپے یا باالفرض محال پچاس ہزار روپے ماہانہ بھی ہو وہ کہاں سے رقم کا انتظام کر سکتا ہے کہ تیس لاکھ کی مالیت تک کا مکان بھی خرید سکے۔ رہائشی سکیمیں بنانے والے کاروباری لوگ یا بلڈر کے کاروبار سے منسلک لوگ ایسے علاقوں یا شہروں میں مکانات خرید کر فلیٹ تعمیر کرتے ہیں جہاں ان کے تعمیر کردہ فلیٹ ایک مقررہ مدت میں فروخت ہو جائیں۔ وہ قیمتیں اپنی مرضی سے مقرر کرتے ہیں۔ ان سے پوچھنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ کوڑیوں کے مول زمینیں خرید کر نئی بستیاں بسانے والے سرمایہ دار ان زمینٰوں پر رہائشی سکیمیں تیار کر کے کروڑوں میں فروخت کردیتے ہیں حالانکہ ان سکمیوں میں سہولتیں ادھوری ہوتی ہیں یا نہ ہونے کے برابر ہوتی ہیں۔ بس اشتہارات میں سہولتوں کا ذکر کر دیا جاتا ہے۔ محکمہ ٹاؤن پلاننگ ہو یا بلڈنگ کنٹرول ، افسران بوجوہ اپنی ذمہ داریاں انجام دینے میں یکسر ناکام رہے ہیں حالانکہ قانون انہیں کارروائی کا اختیار دیتا ہے کہ لوگوں کو مکمل سہولتیں دلائیں۔ شہروں یا دیہاتوں میں رہائشی مکانات ہوں یا زرعی زمین ہو یا کوئی اور غیر منقولہ جائیداد ، ان کی جن قیمتوں پر خرید و فروخت ہوتی ہے، سرکاری ریکارڈ میں ان قیمتوں کا اندراج نہیں کیا جاتا ہے ۔ کوئی مکان اگر پچاس لاکھ کا فروخت کیا جاتا ہے تو اس کی فروخت کی قیمت سرکاری ریکارڈ میں تین یا چار لاکھ روپے ہی دکھائی جاتی ہے اور اسی پر ٹیکس ادا کیا جاتا ہے۔ حکومت میں کوئی ایک فرد بھی ایسا نہیں ہوگا جسے اس کا علم نہ ہو ،لیکن متعلقہ حکام کی غفلت کا علاج تو حکومت کے بس میں ہی ہے۔

پاکستان میں سوائے اسلام آباد ، کوئی نیا شہر کسی حکومت نے بسایا ہی نہیں کیا۔ شہروں کی حدود میں کسی منصوبہ بندی کے بغیر اضافہ کیا گیا یا پھر شہروں کے اندر بلڈروں کو بلند عمارتیں تعمیر کرنے کی اجازت دی گئی۔ اس کی وجہ سے جو نقصانات ہو رہے ہیں وہ سامنے ہیں۔ اکثر شہروں کے چاروں طرف جو زرعی زمینیں موجود ہیں ان پر رہائشی سکیموں کی بہتات ہے ۔ کسی کو فکر نہیں کہ نکاسی آب کی سہولت نہیں ہے۔ پینے کے لئے پانی کی فراہمی کا انتظام نہیں ہے۔ بس زمین فروخت ہو رہی ہے اور تعمیرات جاری ہیں۔ اس کے باوجود کم آمدنی والے طبقے کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔ حکومت سرکاری زمین پر کیوں نہیں ایسی رہائشی سکیموں کا اعلان کرتی جو کم آمدنی والے طبقے کے ایسے لوگوں کے لئے مخصوص ہوں جن کے پاس ذاتی رہائشی مکانات کی سہولت موجود نہیں ہے۔ صوبہ سندھ میں اکا دکا سکیموں کے علاوہ کہیں بھی کسی ایسی سکیم کا سراغ نہیں ملتا۔ اگر کوئی سکیمیں بنائی بھی گئی ہیں تو وہ شہروں کے مرکزی مقام سے طویل فاصلے پر ہیں ۔ جہاں آمد و رفت کی سہولت نہ ہونے کے باعث لوگ شہروں میں ہی کرایہ کے مکانات میں رہائش کو ترجیح دیتے ہیں۔ اسی سبب کچی آبادیوں کی بھر مار بھی ہے۔ حکومت نے اپنی یہ ذمہ داری بھی غیر اعلانیہ طور پر نجی شعبے کے حوالے کر دی ہے۔ حیدرآباد میں ادارہ ترقیات 1976 ء میں قائم کیا گیا تھا ۔ ادارے نے ایک بھی ایسی سکیم تیار نہیں کی جہاں کم آمدنی والا طبقہ رہائش کی سہولت حاصل کر سکتا۔ اگر ایسی سکیم بنائی بھی جاتی ہے تو سرمایہ کاری کرنے والے پلاٹ خرید لیتے ہیں۔

کالعدم ضلعی حکومت نے 2005 ء میں گلستان سرمست کے نام سے رہائشی سکیم قائم کی۔ اس سکیم میں کم آمدنی والے طبقے کے لئے بھی گنجائش رکھی گئی ۔ لوگوں کی جانب سے مطلوبہ رقم جمع کرانے کے باوجود وہ سکیم اب تک رہائش کے قابل اس لئے نہیں ہو سکی کہ آمد و رفت کی کسی سہولت کا انتظام نہیں کیا گیا، بجلی اور پانی کی فراہمی کا بندوبست نہیں کیا جاسکا۔ ضلعی حکومت کے خاتمے کے بعد متعلقہ محکموں نے اس کی طرف سے آنکھیں ہی پھیر لی ہیں۔ ترقیاتی کام کرانے کی بجائے جو بھی رقمیں لوگوں نے پلاٹوں کے عوض جمع کرائیں وہ ملازمیں کی تنخواہوں پر خرچ کی جارہی ہیں۔ دیہی علاقوں میں صورت حال زیادہ ہی تکلیف دہ ہے۔ بڑے شہروں یا قصبوں کو چھوڑ کر جن علاقوں میں لوگ رہائش رکھتے ہیں وہ زیادہ تر نجی ملکیتیں ہوتی ہیں۔کا شتکاری کے پیشے سے منسلک افراد کی بھاری تعداد زمینداروں کی فراہم کردہ زمین پر اپنے کچے پکے مکانات تعمیر کر کے رہائش رکھتے ہیں۔ رہائش کی یہ سہولت انہیں اس وقت تک زمیندار کا غلام بنائے رکھتی ہے جب تک وہ کوئی متبادل انتظام نہیں کر لیتے۔ ایسے لوگوں کی بڑی تعداد زندگی بھر کوئی متبادل انتظام نہ کرنے کی وجہ سے غلام ہی رہتی ہے۔ ملک میں ایسی جمہوریت ، ایسی پارلیمنٹ ، ایسے انتخابات ، ایسے سیاست دانوں کی کیا ضرورت باقی رہ جاتی ہے کہ لوگ ابھرتی ہوئی تصاویر دیکھ کر کہہ رہے ہوں کہ کوئی تو آئے گا جو ان کے حالات کو بہتر کرے گا۔ لوگوں کو اس ملک کے حالات کی بجائے اپنے حالات کے بہتر ہونے کی فکر دامن گیر ہے جو انہیں کھائے جاتی ہے :

سنا ہوگا تم نے کہ درد کی ایک حد ہوتی ہے

ملو ہم سے کہ ہم اکثر اس کے پار جاتے ہیں

مزید :

کالم -