افغانستان کے بارے میں پرانے تجزیے درست ثابت ہوئے

افغانستان کے بارے میں پرانے تجزیے درست ثابت ہوئے
 افغانستان کے بارے میں پرانے تجزیے درست ثابت ہوئے

  



قارئین محترم! آج سے 6 سال قبل واشنگٹن پوسٹ میں 13 اگست کو ایک مضمون شائع ہوا اس میں مستقبل کے افغانستان کے بارے میں حیرت انگیز تجزیہ کیاگیا تھا اس تجزیے میں مضمون نگار نے بہت واضح الفاظ میں کہاکہ افغانستان سے انخلاء تو خیر امریکی صدر اور ان کے ساتھیوں کی خواہش ہے ،مگر امریکی فوج کچھ اور سوچ رہی ہے امریکی فوج چاہتی ہے کہ افغانستان میں قیام کو کسی نہ کسی حوالے سے طول دیا جائے ،تاکہ کوئی ایسی کمی نہ رہ جائے جس کی بنیاد پرامریکہ کے لئے بعد میں کوئی مصیبت کھڑی ہوجائے امریکہ کے لئے تو یہی بہتر سمجھا جارہا ہے کہ افغانستان کی دلدل سے نکل کر سکون کا سانس لے۔ امریکی صدر یہ بھی جانتے ہیں کہ افغان فوج کی عملی استعداد بڑھائے بغیر پورے ملک کی سکیورٹی کامعاملہ اس کے سپرد نہیں کیا جاسکتا طالبان کی قوت گھٹانے کے ساتھ ساتھ افغان فوج کی طاقت میں تیزی سے اضافہ کیا جائے، تاکہ عالمی برادری میں امریکی حکومت کی ساکھ بہتر ہوسکے، مگر ایسا ہوتا دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ امریکی صدر نے 2011ء کی ڈیڈ لائن دی تھی ،مگر فوج کے جنرل اس کے لئے تیار نہ تھے اس لئے 2014ء کی ڈیڈلائن دی گئی اور 10ہزار فوج مع اسلحہ کے وہاں موجودرہے گی ،تاکہ افغان حکومت کی پشت پناہی کرسکے۔

دی اکنامسٹ نے مارچ 2015ء میں اپنے تجزیے میں کہاتھا کہ افغان فوج کو2013ء میں جو نقصان اٹھانا پڑا ہے وہ بیرونی فوج کے 14 برسوں کے مجموعی نقصان سے زیادہ ہے۔ افغانستان کے حوالے سے چین بھی پریشان ہے اور اس نے بیجنگ میں طالبان سے مذاکرات کا اہتمام کیا۔ چین نے افغانستان میں معدنیات کے حوالے سے چند معاہدے کئے ہیں اور وہ اب ان معاہدوں پر عمل کرتے ہوئے کھدائی شروع کرنا چاہتا ہے، مگر اس کے لئے لازم ہے کہ ملک کے طول وعرض میں امن بحال ہو۔ ساتھ ساتھ چینی حکومت پاکستان سے متصل صوبے سنکیانگ میں اسلامی بنیاد پرستی سے نمٹنے کے لئے پرعزم ہے چین چاہتا ہے کہ خطے میں اسلامی شدت پسندی کاعنصر ختم ہوجائے ،تاکہ حقیقی امن کی راہ ہموار ہوسکے سب سے حیرات کی بات تو یہ ہے کہ امریکہ بھی طالبان سے مذاکرات چاہتا ہے اب امریکہ کی رائے ہے کہ طالبان سے مذاکرات کے ذریعے افغانستان میں زیادہ سے زیادہ استحکام رکھاجائے۔ افغانستان میں بہت سے سینئر سیاستدان اور قبائلی عمائدین بھی چاہتے ہیں کہ طالبان کو مذاکرات کے ذریعے سیاسی عمل کا حصہ بنایا جائے اور پارلیمنٹ میں لایا جائے۔ اس کے لئے وہ دو سال کا وقت چاہتے ہیں۔

قارئین محترم! ابھی تک اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ میں سردجنگ جاری ہے مضمون میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کے درمیان رسہ کشی عروج پر ہے۔ دونوں باضابطہ ایک معاہدے کے تحت حکومت میں ہیں، مگر ابھی تک اختلافات موجود ہیں حکومت کی تشکیل کی راہ میں بہت سی رکاوٹیں موجود ہیں اشرف غنی کی مشکلات کم نہیں ہوئی ہیں اور اب ان کے لئے اپنی پوزیشن بہتر بنانے کا ایک ہی راستہ رہ گیا ہے اور وہ ہے طالبان سے مذاکرات اور مرکزی دھارے میں ان کو شامل کرنا اس میں کوئی شک نہیں کہ افغان طالبان پر پاکستانی فوج کا اثرورسوخ ہے اور افغان طالبان کے رہنماؤں کے پشاور کوئٹہ کراچی اور دیگر شہروں میں محفوظ ٹھکانے موجود ہیں ان کے بچے پاکستان کے اسکولوں میں تعلیم حاصل کررہے ہیں طالبان کی کوئٹہ شوری ابھی تک موجود ہے پاکستانی فوج اب طالبان کو مذاکرات کی طرف لے جارہی ہے اس حوالے سے جنرل راحیل شریف نے کئی دورے افغانستان کے بھی کئے ہیں اب جنرل راحیل شریف افغانستان کی طرف سے مطمئن ہوناچاہتے ہیں۔ (حوالہ پاکستان افغانستان طالبان اکنامسٹ 7 مارچ 2015ء)

قارئین محترم! مذاکرات کے حوالے سے حزب اسلامی کے ترجمان نے بیان جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ اشرف غنی نے انتخابات کے دوران قوم سے جو وعدے کئے تھے ان میں سب سے اہم وعدہ یہ تھا کہ مخالفین سے مذاکرات کریں گے، جبکہ عبداللہ عبداللہ کا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ پہلے مخالفین کو کمزور کیا جائے پھر ان سے مذاکرات کئے جائیں جان کیری کے حکم کے مطابق حکومت سازی کے متعلق فیصلہ ہوا قومی حکومت کے نام پر قومی ذلت کا اہتمام کیا گیا ملک میں ایسی حکومت بنائی گئی جس کا ریموٹ کنٹرول امریکی سفیر کے ہاتھ میں ہے اس حکومت کو چھ ماہ سے زیادہ کا عرصہ گزر گیا، لیکن ابھی تک وزارتوں کی تقسیم کا معاملہ لٹکا ہوا ہے۔ ہر وزارت کے فیصلے کا اختیار امریکی سفیر کے ہاتھ میں ہے۔حال ہی میں ایک تقریب میں ہمارے دونوں حکمران امریکی سفیر کے سامنے میز پر اس حالت میں میڈل اور تمغے سجاتے رہے کہ وہ تن کر کھڑا تھا اور یہ دونوں اس کے سامنے سرجھکائے ہوئے تھے ان دونوں رہنماؤں نے 14 سال سے امریکی حملوں کے نتیجے میں ہزاروں شہداء اور زخمیوں اورلاکھوں بے گھر ہونے والے مظلوم عوام کی قربانیوں کا ذکر تک کرنا گوارا نہیں کیا۔

سب سے زیادہ افسوس اس بات کا ہے کہ غلام حکومت نے پہلا قدم یہ اٹھایا کہ امریکہ کے ساتھ سکیورٹی معاہدے پر دستخط کردیئے ہم اسے امریکہ کے ہاتھوں افغانستان کو فروخت کرنے کا سرٹیفکیٹ سمجھتے ہیں ہم یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ بعض حکومتی ذمہ داران اپنا کھونٹا مضبوط ہونے تک افغانستان میں بیرونی قوتوں کی بقاکے لئے امریکہ کی منتیں کررہے ہیں افغانستان میں بیرونی قوتوں کی موجودگی کانتیجہ جنگ کو طوالت دینے کے سوا کچھ نہیں ہم اپنے ملک کو آزاد اور خود دیکھنا چاہتے ہیں ہم غیروں کی مرضی کی حکومت کو نہیں مانتے۔ اگر کوئی افغانستان کا واقعی عادلانہ اور مستقل حل چاہتا ہے تو ہم بھی اس سے صلح و سمجھوتے کے لئے تیار ہیں ہمارے اہداف صاف اور واضح ہیں اور ان کے حصول کے لئے ہم ہر قربانی دینے کوتیار ہیں ان مقدس اہداف پر عملدرآمد ہونے تک ہم ہتھیار نہیں رکھیں گے۔۔۔(ترجمان حزب اسلامی)

قارئین محترم! پاکستان میں متعین سابق افغان سفیر ملا عبدالسلام ضعیف نے جنوبی افریقہ میں کیچ افریقا کی لانچنگ کے موقع پراظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ ’’اگر امریکہ چاہتا ہے کہ افغانستان مستحکم ہوتو اس کی ایک ہی صورت ہے اور وہ یہ کہ امریکی فوج افغانستان سے نکل جائیں اور افغانستان کے معاملات یہاں کے لوگوں کے ہاتھوں میں دے دیئے جائیں۔‘‘

مزید : کالم