پنجاب حکومت دہشت گردی کے خاتمے کے لئے متحرک

پنجاب حکومت دہشت گردی کے خاتمے کے لئے متحرک
 پنجاب حکومت دہشت گردی کے خاتمے کے لئے متحرک

  

پاکستان اس وقت انتہائی مشکل حالات سے گذر رہا ہے ۔دہشت گردی اور انتہاپسندی نے نہ صرف ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کردیا ہے، بلکہ وطن عزیز کی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی بہادر افواج ، پولیس افسران واہلکاروں اور عام شہریوں نے لازوال قربانیاں دی ہیں۔ دنیا کی تاریخ میں پاکستانیوں کی دی گئی قربانیوں کی کوئی مثال نہیں ملتی۔تقریبا 50ہزار سے زائد پاکستانی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرچکے ہیں ۔گزشتہ سال پشاور سکول میں دہشت گردی کے واقعہ نے پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا۔ دہشت گردوں نے معصوم بچوں کو خون میں نہلادیااوراس دل خراش سانحہ پر ہر آنکھ اشکبار تھی۔اس سانحہ نے پوری قوم کودہشت گردی کے خلاف متحدکردیا اور اس امر کا اعادہ کیا کہ پاک دھرتی کو اس ناسور سے پاک کرنے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔حکومت نے دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن اقدامات کے لئے 20نکاتی ایجنڈا پیش کیا جس کوتمام جماعتوں نے متفقہ طورپر منظور کیا اور نیشنل ایکشن پلان مرتب کیا۔

وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کی ہدایات کی روشنی میں نیشنل ایکشن پلان کے تحت انتہاپسندی اور دہشت گردی کے خلاف فوری اور موثر اقدامات اٹھائے گئے ہیں ،جبکہ متعلقہ قوانین میں ترامیم کرکے ان کومزیدموثر بنایا گیا ہے۔حکومت پنجاب نے ساؤنڈسسٹم ریگولیشن آرڈیننس 2015جاری کیا اور لاؤڈسپیکر کے غیرضروری استعمال پر پابندی عائد کی گئی ہے۔اسی طرح پنجاب میں وال چاکنگ کی ممانعت کا آرڈیننس 2015جاری کیا جس کے تحت وال چاکنگ قابل دست اندازی پولیس اور ناقابل ضمانت جرم تصور ہوگا اور خلاف ورزی پر چھ ماہ قید اور 25ہزار سے ایک لاکھ روپے تک جرمانہ رکھا گیا ۔اسلحہ ترمیمی آرڈیننس 2015جاری کیا گیا جس کے تحت اسلحہ ترمیمی آرڈیننس کی خلاف ورزی پر 2سے7سال قید اور جرمانہ کی سزائیں ہوں گی۔صوبہ بھر میں پراپرٹی ڈیلرز اور مالکان کے لئے ترمیمی آرڈیننس جاری کیا گیا ہے جس کے تحت ہوٹل ، گیسٹ ہاؤس اور مالک مکان کرایہ دار کے تمام کوائف 48گھنٹے میں پولیس کو فراہم کرے گا۔سکولوں کی چار دیواری، ان کو اونچا کرنا، سی سی ٹی وی کیمرے، میٹل ڈیٹیکٹر اورتربیت یافتہ سیکورٹی گارڈز کی تعیناتی، طلبا و طالبات اور اساتذہ کو ہنگامی حالات سے نمٹنے کی تربیت شامل ہے۔نیشنل ایکشن پلان کے تحت حکومت نے کالعدم تنظیموں کی طرف سے قربانی کی کھالیں جمع کرنے پر پابندی عائد کی ۔اس سلسلے میں عوام میں شعور اجاگر کرنے کے لئے خصوصی مہم چلائی گئی، تاکہ لوگ قربانی کی کھالیں صرف اور صرف مستحق افراد ، منظور شدہ اداروں یا تنظیموں کو دیں۔ حکومت نے اعلان کیا کہ دھونس یا دھمکی سے کھالیں اکٹھی کرنے والوں کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997ء کے تحت کارروائی کی جائے ۔اسی طرح وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف کی ہدایت پر نیشنل ایکشن پلان کے تحت حکومت پنجاب نے محرم الحرام کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لئے ٹھوس اقدامات اٹھائے۔ حکومت نے ہدایات جاری کیں کہ تمام جلوسوں اور مجالس میں مقامی انتظامیہ اور پولیس کے ساتھ ساتھ علاقے کے منتخب نمائندے بھی حساس جگہوں پر موجودرہیں۔

حکومت پنجاب نے قابل اعتراض مواد، تقاریر، شعلہ نوا مقرر،منفی وال چاکنگ، پوسٹرز اور بینرز پر عائدپابندی کو یقینی بنایا۔مختلف قوانین کی خلاف ورزی پر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے 48617مقدمات کا اندراج کیا اور اس ضمن میں 53151ملزمان کو نفرت انگیز تقاریر ، وال چاکنگ ، آتشین اسلحہ کی نمائش اور دیگر قوانین کے تحت گرفتار کیا۔تفصیلات کے مطابق پنجاب ساؤنڈ سسٹم آرڈیننس 2015کے تحت 5926مقدمات درج کئے اور 6548افراد کو پابند سلاسل کیا۔ نفرت انگیز میٹریل کیسز میں547مقدمات درج کئے گئے، جبکہ 580افراد کو گرفتار کیا گیا۔اسی طرح پنجاب مینٹی ننس آف پبلک آرڈی نینس2015(Punjab Maintenance of Public Order Ordinance)، کے تحت 152افرادکو گرفتار کرکے ان کے خلاف متعلقہ تھانوں میں 118مقدمات درج

کرائے۔پراپرٹی ڈیلرز اور مالکان کے لئے ترمیمی آرڈی نینس 2015کی خلاف ورزی پر 7364مقدمات درج کئے گئے اور 11140افراد کو گرفتار کیا گیا۔ نفرت انگیز وال چاکنگ پر 1308افراد کو گرفتار کیا گیا اور 1268مقدمات درج کئے گئے۔اسلحہ ترمیمی آرڈیننس کے تحت آتشین اسلحہ کی نمائش اور رکھنے پر 32457مقدمات درج ہوئے اور 32492ملزمان کو حراست میں لیا گیا ، حساس تنصیبات کے تحفظ کے آرڈیننس کے تحت 937مقدمات درج ہوئے اور 931افرادکو گرفتار کیا گیا۔ پنجاب پولیس نے صوبہ بھر میں تقریبا 15ہزار سے زائدمدرسوں کی جیوٹیکنگ کا عمل مکمل کرلیا ہے، جبکہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت 819غیرقانونی افغان مہاجرین کے خلاف فارن ایکٹ کی خلاف ورزی پر مقدمات درج کئے گئے ہیں۔

حکومت پنجاب نے صوبہ سے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے نیشنل ایکشن پلان کے تحت جامع، ٹھوس اور موثر اقدامات کے علاوہ متعلقہ قوانین پر عملدرآمدکو یقینی بنایا ہے۔وزیراعلیٰ محمدشہباز شریف تواتر کے ساتھ اپیکس کمیٹی کے اجلاس کرنے کے ساتھ ساتھ امن و امان کی صورت حال کو ذاتی طورپر مانیٹر کررہے ہیں ،جس کی وجہ سے مثبت نتائج حاصل ہورہے ہیں اور صوبہ میں امن عامہ کی صورت حال میں بہتری آئی ہے۔ حکومت پنجاب نے دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے انسداد گرد ی فورس تشکیل دی ہے اور کارپورلز کے تین دستے پاس آؤٹ ہوئے۔ دہشت گردی کے خاتمہ اور صوبہ کے عوام کو پرامن اور پرسکون ماحول کی فراہمی کے لئے اپنی جانوں کی پروا کئے بغیر دلیری، بہادری اور جرات سے اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں جس پر پنجاب کے عوام کو ان سپوتوں پر فخر ہے۔

اپیکس کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ محمدشہبازشریف نے کہا کہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی جاری رہے گی ۔ دہشت گردی ،فرقہ واریت کے ناسور کو دفن کرکے دم لیں گے اور امن دشمنوں کے مکمل خاتمے تک جنگ جاری رہے گی۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کے جوانوں ، پولیس اہلکاروں اور شہریوں نے لازوال قربانیاں دی ہیں جو رائیگاں نہیں جائیں گی۔ معاونت کاروں کو عبرت کا نشان بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی سیاسی وعسکری قیادت یکسو ہو کر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں متحد ہے آخری فتح صرف پاکستانی عوام کی ہوگی۔اس میں کوئی شک نہیں کہ محمد شہباز شریف کی متحرک قیادت میں حکومت پنجاب نے دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے نیشنل ایکشن پلان پر سختی سے عملدرآمدکررہی ہے، جس کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں اور صوبہ میں امن و امان کی صورت حال میں نمایاں بہتری آئی ہے۔اگر اس طرح خلوص نیت اور سنجیدگی سے عملدرآمد کیا گیا تو وہ وقت دور نہیں جب وطن عزیز کو دہشت گردی کے ناسور سے پاک کردیا جائے گا۔

مزید :

کالم -