ریس کورس پولیس کی کارروائی!

ریس کورس پولیس کی کارروائی!

  

ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس (آپریشنز) نے تھانہ ریس کورس کے ایس ایچ او اور چھ پولیس اہلکاروں کو معطل کرکے اس پورے واقعہ کی تحقیقات کا حکم دیا ہے جو ہفتے کو ان کی طرف سے ایک نجی ہوسٹل پر چھاپے کے حوالے سے ہوا۔ پولیس نے اس ہوسٹل پر چھاپہ مارا اور وہاں سے 45افراد کو پکڑ کر تھانے لائی اور سب کو حوالات میں بند کر دیا۔ ان میں صحافی، ڈاکٹر اور وکیل بھی تھے،ایسے نوجوان طالب علم بھی شامل تھے جو سی ایس ایس کا امتحان دینے والے تھے۔ اس واردات کی اطلاع پر وارثوں اور پھر میڈیا نے شور مچایا تو افراتفری پھیل گئی، اس کے باوجود رات بھر یہ جھگڑا چلایا گیا، مگر ان حضرات کو حوالات میں ہی بند رکھا گیا، سردی کے اس موسم میں ان کو علی الصباح رہائی ملی، احتجاج پر تحقیقات کا حکم دیا گیا۔ پولیس کی یہ کارروائی واضح طور پر دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشن کو ناکام بنانے کے مترادف ہے کہ اگر اسی طرح شریف اور بے گناہ لوگوں کے ساتھ ایسا سلوک کیا جائے گا تو پھر عوامی سطح پر آپریشن کے خلاف اور دہشت گردوں کے حق میں فضا بنے گی، ابھی تک تو اس عام پولیس سے ایک بھی دہشت گرد نہیں پکڑا گیا۔ جتنی بھی گرفتاریاں ہوئیں‘ وہ انٹیلی جنس رپورٹوں پر کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی اطلاع پر کی گئیں اور جو دہشت گرد مبینہ مقابلوں میں مارے گئے‘ وہ سی آئی اے پولیس کی نگرانی میں ہوئے۔ ایسے میں تھانوں کے تمام اہل کاروں کی کارکردگی کیا ہوگی۔ اس سلسلے میں بہتر تو یہ ہے کہ اگر ان اہل کاروں کو اختیارات حاصل ہیں اور ان کو اب پہلے سے کہیں زیادہ سہولتیں دی گئی ہیں تو پھر ان کی کارکردگی بھی جانچنا بہت ضروری ہے کہ یہ جرائم پر قابوپانے میں کس حد تک کامیاب ہیں؟ یا پھر دہشت گردی کے خاتمے کی مہم میں کس قدر معاون ثابت ہوتے ہیں۔ اس واقعہ کی جو اطلاعات ہیں وہ بالکل روائتی انداز والی ہیں کہ ایس ایچ او نے تمام ضروری دستاویزات دیکھنے کے باوجود سب کو تھانے لا کر بند کر دیا۔ تحقیقات کرنے والوں کو یہ وقوعہ ایک مثال بنانا چاہیے کہ عوام کو اعتماد ہو جائے اور وہ بھی سمجھیں کہ زیادتی ہوگی تو احتساب بھی ہوگا۔

مزید :

اداریہ -