خوشبوؤں کے شہر میں نواز شریف مودی ملاقات ، اشرف غنی اور ڈیوڈکیمرون سے بھی بات چیت

خوشبوؤں کے شہر میں نواز شریف مودی ملاقات ، اشرف غنی اور ڈیوڈکیمرون سے بھی ...

  

 پیرس(آئی این پی )پیرس میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے خطرات سے نمٹنے کیلئے منعقد کی جانیوالی کانفرنس کے موقع پر وزیراعظم نواز شریف اور نریندر مودی کی اتفاقیہ ملاقات ہو گئی تھی۔ نریندر مودی اپنی نشست سے اٹھ کر وزیراعظم نواز شریف کے پاس چل کر آئے اور ان سے مصافحہ کیا جس کے بعد دونوں رہنماء صوفے پر بیٹھ گئے۔ اس دوران دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کی خیریت دریافت کی۔ دونوں رہنماؤ ں کی ملاقات کے دوران گرم جوشی نظر آئی۔ملاقات کے بعد وزیراعظم نواز شریف میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاہے کہ پاکستان میں بھارتی مداخلت پر شدید تحفظات ہیں جسے بھارت کو تسلیم کرنا ہوگا، بھارت پاکستان کے حوالے سے اپنی پالیسی پرنظرثانی کرے، پاکستان پر امن ہمسائیگی چاہتا ہے جس کیلئے بھارت سے مذاکرات کو تیار ہیں ، مودی سے نہایت خوشگوار ماحول میں ملاقات ہوئی حق نہیں پہنچتا اندر کی بات بتاؤں اس لیے ہماری آپس میں جو گفتگو ہوئی اس پرتبصرہ نہیں کرناچاہتا،پاک بھارت بات چیت آگے بڑھنے کی بہت اْمید ہے، میں اور مودی ایک دوسرے کیلئے اچھے جذبات رکھتے ہیں،پاکستان نہ صرف ترقی کرنا چاہتا ہے بلکہ اپنے داخلی اور خارجی معاملات کو بھی بہتر بنانا چاہتا ہے،تمام مسائل کا حل بات چیت کے ذریعے ہی ممکن ہے ۔وزیراعظم نوازشریف کا کہنا تھا کہ نریندری مودی سے خوشگوار ماحول میں ملاقات ہوئی،چھوٹی سی ملاقات میں تمام باتیں نہیں ہو سکتیں تاہم بھارتی وزیراعظم سے ملاقات اچھے انداز میں ہوئی۔ پاک بھارت بات چیت آگے بڑھنے کی بہت اْمید ہے۔ میں اور مودی ایک دوسرے کیلئے اچھے جذبات رکھتے ہیں۔ ہمیں اپنے اچھے جذبات کو ہی عمل میں لانا چاہیے۔ بھارتی صحافی کی جانب سے پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے وزیراعظم نے کہا ہمارے درمیان کیا بات ہوئی اس بارے میں کچھ بتا سکتا ہوں اور نہ ہی تبصرہ کر سکتا ہوں۔ مجھے حق نہیں پہنچتا کہ میں آپس میں ہونے والی بات کو سب کے سامنے پیش کروں۔ نواز شریف نے کہا کہ پاکستان نہ صرف ترقی کرنا چاہتا ہے بلکہ اپنے داخلی اور خارجی معاملات کو بھی بہتر بنانا چاہتا ہے۔ معاملات بہتر بنانے کیلئے ہی افغان صدر اشرف غنی سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ تمام مسائل حل ہوں اور تمام مسائل کا حل مذاکرات سے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانفرنس کے دوران سب ملاقاتوں میں اچھی باتیں ہوئی ہیں، برطانوی وزیراعظم اور افغان صدر کے ساتھ سہ طرفہ گفتگو بھی ہوئی۔وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ سب ممالک کو مسائل کے حل کے لیے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہیے، ہمیں اپنے معاملات کو اچھے انداز میں آگے بڑھانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت پاکستان کے حوالے سے اپنی پالیسی پرنظرثانی کرے، پاکستان پر امن ہمسائیگی چاہتا ہے اور بھارت سے مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں دہشت گردی اوربھارت کی مداخلت پرشدید تحفظات ہیں لہٰذا بھارت کوپاکستان کے تحفظات تسلیم کرنا ہوں گے۔وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان اپنے داخلی اور خارجی معاملات کو بہتر بنانا چاہتا ہے۔وزیراعظم نواز شریف ،افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی اور برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کے درمیان پیر س میں عالمی ماحولیاتی کانفرنس کے موقع پر ملاقات ہوئی جس میں دوطرفہ تعلقات،خطے کی صورتحال،دہشت گردی کے خلاف جنگ ،افغانستان کی صورتحال سمیت دیگر اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔تفصیلات کے مطابق پیر کو پیرس میں عالمی ماحولیاتی کانفرنس کے موقع پر وزیراعظم نوازشریف اور افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی کے درمیان ملاقات ہوئی ۔دونوں رہنماؤں نے پاک افغان تعلقات ،دہشتگردی کیخلاف جنگ،خطے کی صورتحال،افغان امن عمل سمیت دیگر اہم امور پر تبادلہ خیال کیا۔اس موقع پر نوازشریف نے کہاکہ افغانستان کے ساتھ دوستانہ اورتعاون پر مبنی تعلقات کے خواہاں ہیں ،افغانستان میں خودمختار ریاست اور برابری کی سطح پر تعلقات کیلئے پرعزم ہیں۔انھوں نے کہاکہ افغانستان میں اتحادی حکومت کو ہی قانونی اور جمہوری طور پر طور پر منتخب شراکت دار سمجھتے ہیں،پاکستان ہمسایوں کے ساتھ طویل المدت شراکت داری کے قیام کیلئے پرعزم ہے ۔وزیراعظم نوازشریف نے کہاکہ افغانستان میں امن واستحکام ہمار ا اولین ہدف ہے ،پاکستان مستحکم افغانستان کا خواہاں ہے جو پورے خطے کے مفاد میں ہے ۔انھوں نے کہاکہ پاکستان اور افغانستان کو دہشتگردی کے مشترکہ خطرے کا سامنا ہے ۔پاکستان دہشتگردی کے ناسور کے خاتمے کیلئے کوشاں ہے ۔وزیراعظم نے افغان عوام پر مشتمل مفاہمتی عمل میں تعاون کی بھی پیشکش کی۔وزیراعظم نے افغان صدر کو دہشتگردی کے خلاف آپریشن ضرب عضب کے بارے میں آگاہ کیا۔دوسری جانب وزیر اعظم نواز شریف نے فلسطینی صدر محمود عباس ،اطالوی وزیراعظم میٹیو رینزی اور سری لنکن صدر میتھری پالا سری سینا سمیت کئی عالمی رہنماؤں سے بھی ملاقاتیں کیں۔

پیرس (تجزیہ نگار خصوصی ) وزیراعظم محمد نوازشریف نے کہا ہے کہ پاکستان عالمی حدت کا با عث بننے والی گیسوں کے اخراج میں کمی کیلئے پرعزم ہے، ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنا عالمی چیلنج ہیں،ماحولیاتی تبدیلیوں کے اخراج سے نمٹنے کیلئے موثر حکمت عملی کی ضرورت ہے، پاکستان ماحولیاتی تبدیلیوں کے خطرات سے نمٹنے کیلئے جامع معاہدہ چاہتا ہے، یہ معاہدہ ترقی پذیر ممالک کی معاشی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے تشکیل دیا جانا چاہئے، موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کیلئے ہم سب کو یکساں ذمہ داری ادا کرنا ہو گی۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار اقوام متحدہ کے تحت 21 ویں عالمی ماحولیاتی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس میں امریکا کے صدر بارک اوباما، چین کے صدر ژی چن پنگ، روس کے صدر ولادی میر پیوٹن، برطانیہ کے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون سمیت دنیا بھر سے 140 سے زائد رہنماؤں نے شرکت کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ ایک جامع اور موثر موسمیاتی تبدیلی کامعاہدہ ہونا چاہئے، ہم سب کو یکساں ذمہ داریاں ادا کرنا ہونگی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے قومی پروگراموں پر موثر عملدرآمد کیلئے فنانس، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور استعداد کار انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان عالمی گیسوں کے اخراج میں کمی کیلئے پرعزم ہے، قابل تجدید ٹیکنالوجیز کے استعمال، صاف توانائی ، ماس ٹرانزٹ سسٹم پر عملدرآمد اور پن بجلی کی صلاحیت سے استفادہ جیسے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کی لہر میں اضافہ ایک عالمی چیلنج ہے جس کیلئے مشترکہ اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ گیسوں کے اخراج والے ممالک پر زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کانفرنس ایک اہم موقع پر ہو رہی ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے خطرے سے نمٹنے کیلئے تاریخی اقدامات کی متقاضی ہے اور اس کیلئے ایک مضبوط عالمی خواہش پر عمل پیرا ہونا ہو گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ یہ پاکستان جیسے کم گیسوں کے اخراج والے ممالک کیلئے بھی زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کیلئے تشکیل دیئے جانے والے معاہدے میں ترقی پذیر ممالک کی اقتصادی ترقی کی ضروریات کو مدنظر رکھنا ہو گا اور اس معاہدے میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے نقصانات کے جائزے کا موثر طریقہ کار وضع ہو۔ انہوں نے کہا کہ گرین کلائمیٹ فنڈ ماحول دشمن گیسوں کے اخراج میں کمی لانے میں مدد دے سکتا ہے۔ عالمی حدت کے باعث پیدا ہونے والی گیسوں کے اخراج میں پاکستان کا حصہ بہت کم ہے۔ پاکستان عالمی ماحولیاتی تبدیلی فریم ورک کی تیاری کیلئے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایسا معاہدہ چاہتے ہیں جس میں ذمہ داریوں کا تعین ہو ، معاہدے کی تشکیل کیلئے عالمی شراکت داروں کیساتھ ملکر کام کرنے کیلئے تیار ہیں۔ پاکستان قابل تجدید ٹیکنالوجیز کے فروغ پر کام کر رہا ہے اور قومی ترقیاتی حکمت عملی کے تحت ہم ماس ٹرانسپورٹ کے نظام پر عمل پیرا ہیں۔ ماحول دشمن گیسوں کے زیادہ اخراج والے ممالک پر زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے، پاکستان عالمی حدت کے باعث بننے والی گیسوں کے اخراج میں کمی کیلئے پرعزم ہے۔

مزید :

صفحہ اول -