عمران خان، کیا چاہتے ہیں؟ واضح تو کریں!

عمران خان، کیا چاہتے ہیں؟ واضح تو کریں!

  

تجزیہ:چودھری خادم حسین

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان مختصر وقفے کے بعد بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے ایک مرتبہ پھر متحرک ہو گئے اور انہوں نے اسلام آباد کے بعد کراچی کا بھی دورہ کیا۔ ہر جگہ انتخابات ہی کے حوالے سے ضلعی انتظامیہ نے جلسوں اور جلوسوں پر پابندی لگا رکھی ہے۔ تاہم کپتان نے کسی بھی جگہ اس کی پرواہ نہیں کی اور ریلیوں کے ساتھ جلسوں سے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے ہر جگہ حکومت اور سابقہ حکمرانوں پر روایت کے مطابق الزام لگائے۔ اور اپنے اور اپنی جماعت کے بارے میں دعوے بھی کئے۔ اگر عمران خان کی اس مہم کو بلدیاتی انتخابات کے تناظر میں دیکھا جائے تو ان کی جماعت کے امیدواروں کو اس کا فائدہ پہنچنا چاہئے لیکن اس کے مخالف اور غیر جانبدار حلقے بھی یہی کہتے ہیں کہ ان کے ان طوفانی دوروں اور دلیرانہ کارروائی سے کچھ زیادہ فائدہ نہیں ہوگا کہ بلدیاتی انتخابات مقامی سطح کے ہوتے ہیں اور ان کے لئے امیدوار کی اپنی اہلیت، تعلقات اور علاقے میں حیثیت ہی برتری کا سبب بنتی ہے اس لئے جہاں امیدوار بہتر ہوگا وہاں مزید فائدہ ہو جائے گا ورنہ جو امیدوار علاقائی طور پر زیادہ بہتر تعلقات کا حامل ہوگا وہی کامیاب ہوگا۔

اس سلسلے میں یہاں انتظامیہ کے عمل کا بھی مختصراً جائزہ لیا جانا چاہئے ہمیں صحافت میں نصف سنچری سے زیادہ عرصہ ہو گیا اور قریباً اتنا ہی عرصہ سیاست اور سیاسی عمل سے بھی واسطہ رہا۔ تب سے اب تک انتظامیہ کے حکام کے رویئے میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ اگرچہ مختلف واقعات یا حالات کی وجہ سے طریق کار میں معمولی تبدیلی ہو جاتی ہے۔ یہ انتظامیہ کسی بھی نوعیت کے حالات میں کسی سیاسی جماعت کو روکتے ہوئے اس کی شہرت کا باعث بن جاتی ہے اور طریق کار بالکل وہی چلا آتا آرہا ہے کہ جلسے یا ریلی کی اجازت لی جائے اور جب رجوع کیا جائے تو اجازت نہ دی جائے اور پھر انتظار کیا جائے کہ خلاف ورزی ہو جب ایسا ہو تو پھر اوپر سے کارروائی کی اجازت مانگی جائے جو عموماً سیاسی جماعت کی حکومت نہیں دیتی چنانچہ متعلقہ لیڈر اس ممانعت کے باوجود جلسہ یا جلوس نکال لیتے ہیں تو ان کی بہادری کے چرچے شروع ہو جاتے ہیں حالانکہ یہی کام اجازت دے کر زیادہ بہتر طریقے سے ممکن ہوتا ہے۔ یا پھر کارروائی ہو جائے تو ہنگاموں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے ہر دو صورتوں میں متعلقہ راہنما اور جماعت فائدہ میں رہتی ہے اب یہی کچھ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے ساتھ بھی ہوا۔ طرز عمل اسلام آباد۔ سندھ اور پنجاب کی انتظامیہ کا ایک ہی جیسا رہا۔ اس سے عمران خان کو فائدہ ہوا ہے کہ وہ خود کو بہادر کہتے ہیں تو انتظامیہ نے یہ ثابت کرنے کا موقع فراہم کیا۔ یہی انتظامیہ اگر نہ چاہے تو یہ سب کچھ نہیں ہو سکتا ہم نے بہت مقبول لیڈروں کے ساتھ انتظامیہ کا سلوک بھی دیکھا ہوا ہے کہ یا تو ان کو اس مقام سے ہی نہیں نکلنے دیا جاتا جہاں وہ ہوں یا پھر راستے میں کوئی جگہ مقرر کر کے ان کو ’’اغوا‘‘ کر کے واپس رہائش پر پہنچا دیا جاتا ہے۔

بہرحال یہ تو انتظامیہ کا طرز عمل ہے جو ہر دور حکومت میں ایک ہی جیسا ہوتا ہے اور اب بھی جوں کا توں ہے، البتہ سوال تو خود عمران خان کا ہے، ان سے یہ دریافت کرنا ضروری ہے کہ وہ خود کیا چاہتے ہیں، اس وقت نہ تو وہ پارلیمانی سیاست کررہے ہیں نہ ہی حکومت مخالف کوئی تحریک چلا رہے ہیں، الیکشن کمیشن سے کہتے ہیں کہ اگر منع کیا جائے تو عوام تک منشور کیسے پہنچے گا لیکن عوام کے سامنے منشور تو دیتے نہیں، الزام لگاتے یا بڑھکیں مارتے ہیں، اس سے خود ان کے اپنے لوگ کنفیوژ ہیں۔

کپتان اگر حالیہ بلدیاتی انتخابات اور اپنی سرگرمیوں کو آئندہ انتخابات کی سیڑھی بنا رہے ہیں تو ان کو واضح ہونا چاہیے اور پارلیمنٹ میں بھی جانا چاہیے اور اگر وہ اب اس حکومت کو نہیں رہنے دینا چاہتے تو پھر تحریک چلائیں جس کے نتیجے میں حکومتیں جاتی رہی ہیں لیکن اس صورت میں یہ امر واضح رہے کہ ایسی تحریکوں کا انجام آج تک تبدیل نہیں ہوا، کسی تحریک کے نتیجے میں کوئی حکومت گرے تو تیسرا فریق آتا ہے اور پھر نئے انتخابات کے لئے انتظار کرنا پڑتا ہے، اور یہ بھی ضروری نہیں کہ جب انتخابات ہوں تو کامیابی ہی ملے، تاریخی طور پر پاکستان قومی اتحاد کی تحریک، ضیاء الحق سے تعاون حتیٰ کہ وزارتیں قبول کیں، پھر انجام کیا ہوا سب کو علم ہے، اس لئے کسی بھی جماعت کے سربراہ کو یہ سب سامنے رکھنا چاہیے کہ ان کاموں میں اسی طرح ہوتا ہے۔ ابھی تو سیاسی زندگی کے لئے جیل لازم سمجھی جاتی ہے، ابھی تک خان صاحب تک تو یہ نوبت نہیں آئی، لہٰذا ان کو اپنے اقدامات میں واضح ہونا چاہیے۔

دوسری طرف بھی دلچسپ صورت حال ہے۔ مخدوم امین فہیم کی رحلت آصف علی زرداری کے لئے امتحان بن گئی کہ رجسٹرڈ جماعت ’’پیپلزپارٹی پارلیمنٹرین‘‘ کے صدر کا عہدہ خالی ہے، اسے کون پُر کرے آصف علی زرداری کا اپنا بھی یہی حال ہے کہ وہ پارٹی چھوڑنا نہیں چاہتے، ان کے صاحبزادے بلاول بھٹو زرداری نوجوان ہیں اور کچھ کرنا چاہتے ہیں اس لئے پارٹی کے امور ان کو سونپنا چاہئیں لیکن یہاں تو ابتدا سے آصف علی زرداری پارٹی چلا رہے ہیں ،کئی نام آئے دلچسپ نام عبدالرحمن ملک کا ہے کہ ان کو مخدوم امین فہیم کا جانشین بنایا جا سکتا ہے۔ آصف علی زرداری کو جاننے والے جانتے ہیں کہ آصف یہ عہدہ کسی اور کو نہیں دیں گے ، اپنے پاس رکھیں گے۔

مزید :

تجزیہ -