چھوٹے بھائی کو بڑے نے قتل کر دیا، 5 بر سوں میں کیس کا فیصلہ نہیں ہو سکا

چھوٹے بھائی کو بڑے نے قتل کر دیا، 5 بر سوں میں کیس کا فیصلہ نہیں ہو سکا

  

 لاہور(کامران مغل ) رکشہ ڈرائیوربڑے بھائی نے وارثتی جائیداد کے تنازع پر چھوٹے بھائی کو سر پرٹوکوں کے وار کرکے موت کے گھاٹ اتاردیا۔کہاوت سنی تھی کہ خونی رشتوں کا خون اب سفید ہوچکا ہے جوسچ ثابت ہوئی ہے ۔چھوٹے بھائی کو ناحق قتل کرنے پربڑے بھائی کے اس ظلم کو یاد کرکے بہن بھائی آج بھی رو پڑتے ہیں ،سیشن عدالت میں گزشتہ5سال سے مقدمہ کاٹرائل جاری ہے،ہر سماعت کے بعداگلی تاریخ دے کر گھر بھیج دیا جاتا ہے ۔پاکستان کی جانب سے ’’ایک دن ایک عدالت ‘‘کے سلسلے میں کئے جانے والے عدالتی سروے کے دوران مکان نمبر22-Aگلی نمبر35محلہ گھوڑے شاہ مصری شاہ کے رہائشی محمد نصیر نے اپنی دکھ بھری داستان سناتے ہوئے بتایا کہ اس کے 6بھائی اور3بہنیں ہیں ،اس کا بھائی سعید احمد جو رکشہ ڈرائیوری کرکے اپنے بچوں کا پیٹ پالتا ہے جبکہ اس کا چھوٹا بھائی وحید احمدلوہے کا کام کرتا تھا ۔ 5جون 2010کو اس کے بڑے بھائی سعید احمد نے وراثتی جائیداد میں سے حصہ مانگنا شروع کردیا جس پر میرے چھوٹے بھائی سعید احمد نے کہا کہ ابھی ہمارے والد زندہ ہیں ،اس طرح کی بات گھر میں نہیں ہونی چاہیے ،یہ لڑائی جھگڑے کا باعث بنے گی لیکن سعید احمد باز نہ آیا اور آئے روز جائیداد میں سے حصہ مانگنے کے لئے زور دیتا جس پر بحث وتکرار کے ساتھ ساتھ تلخ کلامی بھی ہوتی ،اسی بات کی وجہ سے ایک روز جب ہم سب اپنے کمروں میں سور رہے تھے کہ ملزم سعید احمد نے صبح 4بجے کے قریب چھوٹے بھائی وحید احمد کو اس کے کمرے میں گھس کر ٹوکے کے پے درپے وار کرکے لہولہان کردیا ،اسی دوران میرا چھوٹا بھائی عزیز احمد شور کی آواز سن کر جاگ گیا لیکن ملزم موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا ،جب ہم نے کمرے میں جا کر دیکھا تووحید احمد خون میں لت پت پڑا ہواتھا ،فوری طبی امداد کے لئے اسے مقامی ہسپتال لے جایا گیا لیکن وہ راستے میں ہی دم توڑگیا ، بعدازں تھانہ مصری شاہ پولیس نے میری مدعیت میں قتل کا مقدمہ درج کرنے کے بعد تفتیش مکمل کرکے چالان عدالت میں پیش کررکھا ہے ۔متاثرہ شخص کا کہنا تھا کہ اس سمیت گھر کے دیگر افراد ملزم سعید احمد کی اس حرکت پر آج بھی صدمے سے دوچار ہیں کہ اس نے صرف جائیداد حاصل کرنے میں ناکامی پر اپنے ہی چھوٹے بھائی کی جان لے لی ،مقتول وحید احمد گھر میں سب کا لاڈلا تھا اور وہ کسی سے جھگڑا بھی نہیں کرتا تھا لیکن بھائی نے اسے ناحق قتل کرکے بہت بڑا ظلم کیا ہے جو ناقابل معافی ہے اور اس کی سزا اسے ضرور ملنی چاہیے ۔مقدمہ مدعی کا مزید کہنا تھا کافی عرصہ سے مذکورہ کیس سیشن عدالت میں مختلف ججوں کے پاس زیر سماعت رہاہے ،اب اس کی سماعت ایڈیشنل سیشن جج نادیہ اکرام ملک کی عدالت میں جاری ہے لیکن مقدمہ کا ٹرائل دن بدن لمبا ہی ہوتا چلا جارہاہے ،نہ جانے کب یہ ختم ہوگا اور عدالت اپنا فیصلہ سنائے گی ۔مقدمہ مدعی کے وکلاء کا کہنا تھا کہ مذکورہ کیس میں کافی حد تک شہادتیں مکمل ہوچکی ہیں ،کچھ گواہوں کے بیانات قلمبند ہونا ابھی باقی ہیں ،وکلاء کا مزید کہنا تھا کہ جہاں تک مقدمہ کے التواء کا مسئلہ ہے تو یہ بات ٹھیک ہے کہ اکثر اوقات مقدمات کے جلد فیصلے نہیں ہوتے جس سے لوگ مشکلات کا شکار ہوتے ہیں اور ان میں مایوسی پھیلتی ہے ،عدالتوں کو چاہیے کہ جلد از جلد انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے سائلین کو انصاف فراہم کیا جائے ۔

ایک دن ایک عدالت

مزید :

صفحہ آخر -