نقصان کی حامل صنعتوں پر ٹیکس کے طریقہ کار سے متعلق دائر درخواستیں سماعت کیلئے منظور

نقصان کی حامل صنعتوں پر ٹیکس کے طریقہ کار سے متعلق دائر درخواستیں سماعت ...

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی )چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں قائم تین رکنی بنچ نے منافع بخش اور نقصان کی حامل صنعتوں کے ٹیکس کے تعین کے طریقہ کار سے متعلق دائرتمام درخواستیں سماعت کے لئے منظور کرتے ہوئے فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور متعلقہ صنعتی اداروں کے وکلاء کو بحث کے لئے طلب کر لیا۔سپریم کورٹ لاہوررجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں تین رکنی فل بنچ نے کوہ نورسمیت 35ٹیکسٹائل ملز اور دیگر صنعتی اداروں کی درخواستوں پر سماعت کی، درخواست گزاروں اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے وکلاء نے موقف اختیار کیا کہ انکم ٹیکس آرڈیننس کی دفعہ 113 کے تحت نقصان میں جانے والی صنعتوں کے ٹیکس کے تعین کا طریقہ کار مختلف ہے اور ایسی صنعتوں سے اعشاریہ پانچ فیصدٹیکس لیا جاتا ہے ، اس معاملے پر سندھ ہائیکورٹ نے بھی فیصلہ دیا ہے اور ایف بی آر کا موقف درست تسلیم کیا ہے تاہم لاہور ہائیکورٹ نے بھی ایک فیصلہ دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ صنعتیں چاہیں منافع بخش ہوں یا نقصان میں ہوں، ان کے ٹیکس کے تعین کا طریقہ کار ایک ہی ہو گا، فاضل بنچ نے تمام درخواستوں کو قابل سماعت قرار دیتے ہوئے وکلاء کو2 دسمبر کو حتمی بحث کیلئے طلب کر لیا۔

مزید :

صفحہ آخر -