احتساب کمیشن ایکٹ کیخلاف دائر درخواستوں کی سماعت مکمل ،فیصلہ محفوظ

احتساب کمیشن ایکٹ کیخلاف دائر درخواستوں کی سماعت مکمل ،فیصلہ محفوظ

  

پشاور(نیوزرپورٹر)پشاورہائی کورٹ کے چیف جسٹس مظہرعالم میانخیل کی سربراہی میں قائم لارجربنچ نے خیبرپختونخوااحتساب کمیشن ایکٹ کے خلاف دائرآئینی درخواستوں پر سماعت مکمل کرلی اور فیصلہ محفوظ کرلیا جبکہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل آف پاکستان نے قومی احتساب بیورو کو آئینی اورقانونی قرار دیتے ہوئے خیبرپختونخوااحتساب کمیشن ایکٹ کونیب کے اختیارات میں تجاوز قراردیاہے پشاورہائی کورٹ کے چیف جسٹس مظہرعالم میانخیل ٗ جسٹس نثارحسین ٗ جسٹس ارشاد قیصر ٗ جسٹس سید افسر شاہ اور جسٹس یونس تہیم پرمشتمل لارجربنچ نے سابق صوبائی وزیرضیاء اللہ آفریدی سمیت پندرہ دیگر افراد کی جانب سے دائرآئینی درخواستوں کی سماعت شروع کی تو اس موقع پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل سیدمحمدعتیق شاہ عدالتی حکم پرپیش ہوئے اوراپنے دلائل میں عدالت کو بتایا کہ قومی احتساب بیورو کاقیام1999ء میں عمل میں لایاگیا اور2010ء میں اس کی توثیق سپریم کورٹ آف پاکستا ن نے اسفندیارولی کیس میں کی عدالت عظمی نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ نیب سے متعلق قانون صوبوں کی خودمختاری متاثرنہیں کرتاانہوں نے عدالت کو بتایا کہ آئین کے مطابق اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبوں کو فوجداری قانون ٗ اس کے طریقہ کار اورشہادتوں سے متعلق قوانین بنانے کااختیار دیاگیاہے اوریہی اختیار وفاقی حکومت کے پاس بھی ہے تاہم اگرکوئی صوبہ اپنے لئے یہ قوانین بناتی ہے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ اسی نکتے یاامورسے متعلق وفاقی حکومت کاقانون پہلے سے موجود نہ ہو کیونکہ اگروفاقی اورصوبائی حکومتیں قوانین ایک ہی نکتے یاامورسے بنائے گی تو پھریہ ایک دوسرے کے متصادم ہوجائیں گے آئین نے ایسی صورتحال میں واضح کیاہے کہ اگریہ قوانین ایک دوسرے کے سامنے آئیں گے تو وہ قانون نافذ العمل ہوگاجو پہلے بنایاگیاہے چونکہ نیب 1999ء سے قائم ہے اس بناء قانونی طورپر یہی قانون کرپشن سے متعلق امورکو کنٹرول کرنے کااختیاررکھتاہے اوراس کو نظرانداز نہیں کیاجاسکتا انہوں نے عدالت کو اپنے دلائل میں بتایا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے بنائے گئے احتساب ایکٹ اورنیب آرڈیننس میں مختلف شقیں مماثلت ر کھتی ہیں جبکہ احتساب کمیشن کے دیباچے سے واضح ہے کہ یہ قانون معاشی انصاف اورانسدادرشوت ستانی کے لئے بنایاگیاہے حالانکہ آئین کے مطابق معاشرے سے ان امورکاخاتمہ ریاست کی ذمہ داری قرار دیاگیاہے اس بناء نیب کاقانون ہی موئثرہے انہوں نے کہاکہ جب تک مجازحکام نیب قانون میں کوئی ترمیم نہیں کرتی تب تک یہی قانون بدعنوانی کے انسداد کیلئے آئینی ہے ڈپٹی پراسیکیوٹرجنرل نیب جمیل صراف نے اپنے دلائل میں عدالت کو بتایا کہ نیب کرپشن کے کنٹرول کیلئے ایسا قانون ہے جو پورے ملک میں رائج ہے اگرصوبائی حکومت کو اس قانون سے کوئی مسئلہ درپیش ہے تو وہ سپریم کورٹ سے رجوع کرے انہوں نے عدالت کو دلائل دئیے کہ اس قانون کے تحت سینکڑوں مقدمات چل رہے ہیں اس لئے یہ موئثرقانون ہے اورپورے ملک میں یہی نافذالعمل ہے احتساب کمیشن ایکٹ ایک صوبے نے بنایاہے اس بناء جب بھی آئینی طریقہ کار کی بات ہوگی تو وفاقی قانون جو کہ نیب ایکٹ ہے وہی موئثررہے گا اس موقع پر سردارعلی رضاایڈوکیٹ نے اپنے جوابی دلائل میں کہاکہ عدالتوں کے قیام اورانہیں ذمہ داریاں دینے سے متعلق اختیار وفاق کے پاس ہے چونکہ اس وقت اٹھارویں ترمیم سے متعلق کمیٹی کے ممبربیرسٹرایس ایم ظفرنے ایک خط حکومت کو ارسال کیاتھا جس میں یہ کہاگیاتھا کہ کنکرنٹ لسٹ کو مکمل طورپر ختم نہ کیاجائے کیونکہ پھرقانون سازی کے امورمیں صوبوں اوروفاق کے مابین اختلافات پیدا ہوں گے انہوں نے عدالت کو بتایا کہ نیب آرڈیننس کے تحت یہ سہولت فراہم کردی گئی ہے کہ اگرکوئی مفاہمت یارضاکارانہ واپسی سے لوٹی گئی رقم واپس کرناچاہے تو وہ کرسکتاہے تاہم احتساب کمیشن ایکٹ میں ایسی کوئی شق نہیں انہوں نے عدالت کو بتایا کہ صرف تعزیرات پاکستان کاقانون فوجداری قانون نہیں بلکہ اس میں بہت سے نکات اورقوانین شامل ہیں جس میں انسدادرشوت ستانی کے شقیں بھی اس وقت شامل کی گئی تھیں تاکہ معاشرے سے ان برائیوں کاخاتمہ کیاجاسکے انہوں نے عدالت کو بتایا کہ احتساب کمیشن ایکٹ میں کمیشن کے قیام اورکمشنروں کی تقرری کاطریقہ کار جدا ہے جس پرعملدرآمد نہیں ہوا انہوں نے عدالت کو بتایا کہ نیب پورے ملک کاقانون ہے اورانہیں کسی صوبے یاملک کے کسی حصے تک محدود نہیں کیاجاسکتاانہوں نے عدالت کو بتایاکہ نیب کو انسدادرشوت ستانی کے تمام قوانین پر برتری حاصل ہے اس بناء صوبائی احتساب کمیشن ایک غیرقانون ہے معظم بٹ ایڈوکیٹ نے اپنے دلائل میں بتایا کہ احتساب کمیشن ایکٹ جلدمیں منظورکیاگیاہے جس کے لئے قانونی تقاضے پورے نہیں کئے گئے ہیں بلکہ ایک غیرملکی کمپنی سے کروڑوں روپوں کے عوض اس بل کامسودہ تیارکیاگیاہے سلیکٹ کمیٹی برائے نام تھی اوراسمبلی ریکارڈ کے مطابق یہ ثابت ہوتاہے کہ یہ بل انتہائی جلدی میں تیارکیاگیاانہوں نے عدالت کو بتایا کہ اسمبلی کے مہرکے نیچے ہرقانون کو درست تسلیم نہیں کیاجاسکتا یہ ملک کے عوام کے ساتھ مذاق ہے جس پر جسٹس نثارحسین نے کہاکہ اسمبلی میں اپوزیشن بھی ہوتی ہے اس میں مخالفت کیوں نہیں کی جس پر معظم بٹ ایڈوکیٹ نے کہاکہ انہیں تو موقع ہی نہیں دیاگیا جبکہ ایڈوکیٹ جنرل عبداللطیف یوسفزئی نے بتایا کہ احتساب کمیشن ایکٹ کے لئے تمام قانونی تقاضے پورے کئے گئے ہیں اوربل کے مسودے سے متعلق دلائل میں کوئی حقیقت نہیں وہ خودسلیکٹ کمیٹی کے 4 اجلاسوں میں شریک ہوئے اورتمام تر امورکاجائزہ لینے کے بعد اس بل کو تیارکیاگیاہے اس بناء یہ ا عتراض اوراسمبلی کو کام سے روکنے سے متعلق ضمنی درخواست ناقابل سماعت ہے دوسری جانب عدالت نے ہدایت اللہ ایڈوکیٹ کو آئینی درخواستوں میں فریق بننے کی درخواست خارج کردی جبکہ آئینی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔

مزید :

پشاورصفحہ اول -