تخت بھائی ،گونگے بہروں کی سرکاری عمارت نہ ہونے پر معذور پریشان

تخت بھائی ،گونگے بہروں کی سرکاری عمارت نہ ہونے پر معذور پریشان

  

تخت بھائی(نمائیندہ پاکستان) تحصیل تخت بھائی میں واقع گونگے بہرے اور دیگر معذور بچوں کے گورنمنٹ پرائمری سکول کی سرکاری عمارت نہ ہونے کی وجہ سے معذور بچوں نے سکول چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں سکول میں معذور بچوں کے والدین دور دور سے اپنے بچوں کو سکول لاتے ہیں لیکن کھبی سکول ایک جگہ اور کھبی دوسرے جگہ منتقل ہو رہا ہے جس کی وجہ سے طلباء کو شدید مشکلات کا سامنا ہیں سکول میں تین اساتذہ کی ضرورت ہیں لیکن اس کے باوجود سکول میں سرکاری طور پر استاد نہیں ہیں سکول کے پرنسپل اور ٹی ایم ائے کے تعاون سے دس ہزار روپے پر ایک استاد کو رکھا گیا ہے سکول میں وکیشنل لیڈی ٹیچیر کی پوسٹ ہیں لیکن وہ بھی نہیں ہیں صوبائی حکومت نے سکول کے لیے سرکاری زمین خریدنے کے لیے 30لاکھ روپے فنڈز دینے کا احکامات جاری کی ہیں لیکن اس پر تخت بھائی میں تین مرلے زمین بھی نہیں خریدی جا سکتی تخت بھائی کے سیاسی و سماجی حلقوں نے صوبائی حکومت سے اپیل کی ہے کہ معذور بچوں کے سکول کے لیے سرکاری سکول کا فوری بندوبست کیا جائے اور ان کے ضروریات کو پورا کیا جائے تفصیلات کے مطابق تحصیل تخت بھائی میں گونگے بہرے اور دیگر مختلف قسم کے معذور بچوں کے لیے واحد گورنمنٹ پرائمری سکول تخت بھائی کے طلباء بنیادی ضرورتوں کے علاوہ سرکاری عمارت سے محروم چلے ارہے ہیں اور ان کو تعلیم جاری رکھنا مشکل ہو چکا ہے سکول میں اس وقت طلباء کی تعداد 70کے قریب ہیں اور زیادہ تر معذور بچے یہاں داخلے نہیں لیتے کیونکہ سکول کا سرکاری بلڈنگ نہ ہونے کی وجہ سے ہر مہینے اور کھبی کھبی چھ مہینے بعد تبدیل ہو تا ہے تحصیل تخت بھائی کے دور دارز علاقوں پیر سدو،جلالہ،شیرگڑہ،جٖل اباد ،گاروشاہ،جھنڈئی،عمر اباد،پرخو اور دیگر علاقوں سے معذور بچے پیدل یا ان کے غریب والدین اپنے بچوں کو سایکل پر سکول لاتے ہیں کیونکہ ان کے لیے ٹرانسپورٹ کی سہولت نہیں ہیں سکول کے پرنسپل محمد کلیم خان کے مطابق سکول کی بلڈنگ نہ ہونے کی وجہ سے ہمارے ساتھ بچوں کے داخلے انتہائی کم ہیں اور اس کی بنیادی وجہ مین روڈ پر سکول نہ ہونا ایک مسلہ ہیں اگر مین ملاکنڈ روڈ پر سکول کے لیے سرکاری اراضی لیا جائے اور اس پر سرکاری طور پر سکول تعمیر کریں تو یہاں معذور بچوں کی داخلے خیران کن ہو نگے انہوں نے کہا کہ سکول میں ہمیں تین اساتذہ اور ایک لیڈی ٹیچر کی ضرورت ہیں لیکن اس کے باوجود 70غریب اور معذور بچوں کے لیے ایک استاد بھی نہیں ہیں انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنی مدد اپ کے تحت ایک استاد کو رکھا ہے جس کو ٹی ایم ائے پانچ ہزار روپے وہ دیتے ہیں اور پانچ ہزار روپے ہم مشترکہ طور پر جمع کرکے ان کو تنخواہ دیتے ہیں انہوں نے کہا کہ سکول میں فرنیچر بھی براے نام ہیں تخت بھائی کے سیاسی و سماجی حلقوں نے سوشل ویلفیر ڈیپارٹمنٹ اور صوبائی حکومت سے پر زور اپیل کی کہ گورنمنٹ پرائمری سکول معذوران کے لیے سرکاری اراضی اور بلڈنگ کو فوری طور پر بندوبست کیا جائے ورنہ ان معذور بچوں کے ہمراہ احتجاجی تحریک چلانے پر مجبور ہو نگے

مزید :

کراچی صفحہ آخر -