سندھ پولیس اعلیٰ افسران پر توہین عدالت کی فرد جرم کی سماعت 15 دسمبر تک ملتوی

سندھ پولیس اعلیٰ افسران پر توہین عدالت کی فرد جرم کی سماعت 15 دسمبر تک ملتوی
سندھ پولیس اعلیٰ افسران پر توہین عدالت کی فرد جرم کی سماعت 15 دسمبر تک ملتوی

  

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) سندھ پولیس کے آئی جی سمیت اعلیٰ افسران پر توہین عدالت کیس کی سماعت15 دسمبر تک ملتوی کردی گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق سندھ ہائیکورٹ میں صحافیوں پر پولیس تشدد پر توہین عدالت کیس کی سماعت کے دوران آئی جی سندھ سمیت دیگر اعلیٰ افسران عدالت میں پیش ہوئے جبکہ پولیس افسران کی طرف سے وکلا کی بڑی تعداد بھی عدالت میں پیش ہوئی ۔

سماعت کے دوران وکیل صفائی فاروق ایچ نائیک نے موقف اپنایا کہ عدالت عمران خان اور الطاف حسین کو معافی دے چکی ہے لہٰذا پولیس افسران کو بھی معافی دے ۔ ہم شروع سے معافی مانگتے رہے ہیں اور آج بھی معافی مانگ رہے ہیں۔

سندھ ہائیکورٹ کے جج جسٹس سجاد علی شاہ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ کسی سے دشمنی نہیں یہ ایک ادارے کی عزت کا معاملہ ہے جیمز بانڈ سٹائل میں نقاب پوش پولیس اہلکار تصویریں کھنچواتے رہے ہیں۔دو گھنٹوں تک ٹی وی چینلز پر چلتا رہا کہ پولیس نے سندھ ہائیکورٹ کو یرغمال بنالیا ہے ، ہم نے تمام پولیس افسران کو فون کیے مگر کسی نے جواب نہیں دیا۔ اگر آپ معافی سے پہلے بتادیتے کہ پولیس نے یہ سب کس کے کہنے پر کیا تو معاملہ یہاں تک نہ پہنچتا۔

ایڈیشنل آئی جی سندھ کے وکیل نے موقف اپنایا کہ کسی سینئر جج کے ذریعے واقعہ کی انکوائری کرائی جائے توپتا چل جائے گا کہ پولیس کا معاملے میں کیا کردار ہے۔ جسٹس سجاد علی شاہ نے اپنے ریمارکس میں کہا ہم آئی جی کو دو دفعہ انکوائری کا موقع دے چکے ہیں لیکن انکوائری نہیں ہوئی۔

کیس کی سماعت کچھ دیر کے لیے ملتوی کی گئی جس کے بعد بنچ نے وکلاکو چیمبر میں طلب کیا جس کے بعد دونئے وکلا نے اپنے وکالت نامے جمع کرائے اور عدالت سے تیاری کیلئے وقت مانگا۔ عدالت نے توہین عدالت کیس میں 18 نومبر کافرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے کیس کی سماعت 15 دسمبر تک ملتوی کردی ۔ آئندہ سماعت پر فرد جرم عائد کرنے کا طریقہ طے کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ 3 مئی کو پی پی کے منحرف رہنما ذوالفقار مرزا کی سندھ ہائیکورٹ میں پیشی کے وقت نقاب پوش پولیس اہلکاروں نے احاطہ عدالت میں ذوالفقار مرزا کے حامیوں اور صحافیوں کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا تھا جس پر عدالت نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے آئی سندھ سمیت دیگر اعلیٰ پولیس اہلکاروں کو توہین عدالت کے نوٹسز جاری کیے تھے۔

مزید :

کراچی -اہم خبریں -