صدر پیوٹن ثابت کریں کہ ترکی داعش سے تیل خریدتاہے تو مستعفی ہوجاﺅں گا:طیب اردگان

صدر پیوٹن ثابت کریں کہ ترکی داعش سے تیل خریدتاہے تو مستعفی ہوجاﺅں گا:طیب ...
صدر پیوٹن ثابت کریں کہ ترکی داعش سے تیل خریدتاہے تو مستعفی ہوجاﺅں گا:طیب اردگان

  

پیرس(مانیٹرنگ ڈیسک)ترک صدر رجب طیب اردگان نے داعش کے خلاف ہرممکن حدتک ترکی کے عزم کااظہار کرتے ہوئے چیلنج کیاہے کہ اگر داعش سے تیل کی خریداری ثابت ہوجائے تو وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہوجائیں گے ۔

موسمیاتی تبدیلیوں کی عالمی کانفرنس کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے طیب اردگان کاکہناتھاکہ ’جتنی جلد ہی یہ دعویٰ ثابت ہوتاہے تو قوم کی برگزیدگی کیلئے ضرورت ہے کہ میں مستعفی ہوجاﺅں ،ثابت ہونے کے بعد میں عہدے پر نہیں رہوں گالیکن روسی صدر سے پوچھنا چاہتاہوں کہ کیاوہ عہدے پر رہیں گے ‘۔اردگان نے روسی ہم منصب سے یہ بھی مطالبہ کیاکہ وہ روسی کی داعش سے تیل کی خریداری کی وضاحت کریں ۔

اُن کاکہناتھاکہ ایک شامی نژاد روسی شہری داعش سے تیل خریدکر اسد حکومت کو بیچتارہااور اس کی تصدیق امریکی ذرائع نے بھی کی ، روس کو اس ضمن میں پہلے وضاحت دینی چاہیے ۔ترک صدر کاکہناتھاکہ روس کا ترکی کی داعش سے تیل کی خریداری کا بیان غیراخلاقی ہے ،ایسے دعووں کو ثابت کیاجاناچاہیے ۔اُنہوں نے کہاکہ ترکی جن ممالک سے تیل خریدتاہے ان میں روس، ایران ، آذربائیجان ، قطر اور نائیجیریاشامل ہیں تاہم مزید ایسے بہتان قبول نہیں ۔

ترک صدر نے کہاکہ روس کی طرف سے لگائی جانیوالی پابندیوں پر ترک حکومت جذباتی ہونے کی بجائے نہایت تحمل مزاجی سے کوئی قدم اٹھائے گی ۔

یادرہے کہ روسی صدر نے پیر کو دعویٰ کیاتھاکہ ترکی کی طرف سے ان کا طیارہ مارگرائے جانے کی وجہ یہ ہے کہ ترکی داعش کی طرف سے آئل سپلائی کی حفاظت کرناچاہتاہے ۔ اسی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پیوٹن نے کہاتھاکہ طیارہ گرانا بڑی غلطی تھی ، دونوں کے پیرس میں موجودہونے کے باوجودوہ پیر کو ترک ہم منصب سے نہیں ملے ۔

یادرہے کہ گزشتہ ہفتے روسی طیارے کی طرف سے ترک سرحدی حدود کی خلاف ورزی پر ترکش فضائیہ نے روسی طیارہ مارگرایاتھا جس کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات خاصے کشیدہ ہیں ۔

مزید :

بین الاقوامی -Headlines -