پہلے زمانے میں اکثر مرد ایک سے زائد شادیاں کیوں کرتے تھے اور اب ایسا کیوں نہیں ہوتا؟ سائنسدانوں نے ایسی وجہ بیان کردی کہ مرد و خواتین سب کو حیران کردیا

پہلے زمانے میں اکثر مرد ایک سے زائد شادیاں کیوں کرتے تھے اور اب ایسا کیوں ...
پہلے زمانے میں اکثر مرد ایک سے زائد شادیاں کیوں کرتے تھے اور اب ایسا کیوں نہیں ہوتا؟ سائنسدانوں نے ایسی وجہ بیان کردی کہ مرد و خواتین سب کو حیران کردیا

  

اوٹاوا(مانیٹرنگ ڈیسک) قدیم زمانوں میں مرد ایک سے زائد سے زائد شادیاں کرنا دنیا بھر میں عام تھا مگر اب یہ رجحان تبدیل ہو چکا ہے اور لوگ ایک ہی شادی کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ماہرین نے اس رجحان کی ایک ایسی وجہ بیان کر دی ہے کہ اب زیادہ شادیوں کی خواہش شاید ہی کوئی کرے۔ کینیڈا کی برٹش کولمبیا یونیورسٹی کے ماہرین نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ ایک شادی کرنا انفرادی اور اجتماعی طور پر انتہائی مفید ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جن معاشروں میں مردوں کو زیادہ شادیاں کرنے کی اجازت ہوتی ہے وہاں جنسی مسابقت کے باعث گھریلو تشدد، غربت، صنفی امتیاز و دیگر جرائم کی شرح زیادہ ہوتی ہے۔ اس کے برعکس جن ممالک میں ایک ہی شادی کی اجازت ہوتی ہے وہاں یہ مسائل بہت کم ہوتے ہیں۔

مزید جانئے: بیرون ملک بھارتی ارب پتی کے بیٹے کی شادی، 2 ارب روپے خرچ کرکے بھی دولہے کی سب سے بڑی خواہش پوری نہ ہوسکی

برٹس کولمبیا یونیورسٹی کی تحقیقاتی ٹیم کے ایک ماہر پروفیسر جوزف ہنرچ کا کہنا ہے کہ ”اس تحقیق کے ذریعے ہم جاننا چاہتے تھے کہ زیادہ تر ترقی یافتہ ممالک میں ایک ہی شادی کا رواج کیوں ہے ؟ حالانکہ افریقہ، ایشیائ، مشرق وسطیٰ اور شمالی امریکہ کے کئی ممالک میں مردوں کو کئی شادیاں کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔“انہوں نے کہا کہ جب ہم نے تحقیق شروع کی تو انکشاف ہوا کہ جن ممالک میں زیادہ شادیوں کا رواج ہے وہاں خواتین سے جنسی زیادتی، اغوائ، قتل، ڈکیتی اور فراڈ جیسے جرائم کی شرح بہت زیادہ تھی۔ان معاشروں میں یہ جرائم بنیادی طور پر غیرشادی شدہ افراد کی طرف سے کیے جاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ امیر مرد زیادہ خواتین کے ساتھ شادی کر لیتے ہیں جو ان غیرشادی شدہ افراد میں احساس کمتری کا سبب بنتا ہے۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ مردوں کے زیادہ شادیاں کرنے والے معاشروں میں شادی کے قابل خواتین کی کمی واقع ہو جاتی ہے جس سے مردوں میں مردوں میں ایک مقابلے کی فضاءقائم ہو جاتی ہے۔ایک شادی کرنے کی روایت کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ مردوں کو شادی کے لیے تقریباً ایک جیسی خواتین میسر آتی ہیں جس سے مردوں میں مقابلے کی فضاءو دیگر سماجی مسائل پیدا نہیں ہوتے۔ اس سے مردوں کی توجہ اپنے لیے بیوی تلاش کرنے کی بجائے اپنے پدرانہ ذمہ داریوں پر زیادہ مرکوز ہوتی ہے اور وہ اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے زیادہ محنت کرتے ہیں۔ اس لیے ایسے ممالک کے لوگ زیادہ خوشحال بھی ہوتے ہیں اور ان کے ملک ترقی کرتے ہیں۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -