موبائل فون اور جنسی امراض میں پھیلاﺅ کے درمیان گہرا تعلق سامنے آگیا، سائنسدانوں نے انتہائی پریشان کن انکشاف کردیا

موبائل فون اور جنسی امراض میں پھیلاﺅ کے درمیان گہرا تعلق سامنے آگیا، ...
موبائل فون اور جنسی امراض میں پھیلاﺅ کے درمیان گہرا تعلق سامنے آگیا، سائنسدانوں نے انتہائی پریشان کن انکشاف کردیا

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) انٹرنیٹ کے جہاں ان گنت فوائد ہیں وہیں اس کا غلط استعمال کئی برائیوں اور بیماریوں کو بھی جنم دے رہا ہے۔ سمارٹ فونز آنے سے آج انٹرنیٹ 24گھنٹے ہر شخص کی دسترس میں ہے اور ان موبائل فونز کی چیٹنگ اور ڈیٹنگ ایپلی کیشنز نوجوان نسل کو اخلاقی طور پر دیوالیہ کرنے کے ساتھ ساتھ بالواسطہ طور پر سنگین نوعیت کی بیماریوں میں بھی مبتلا کر رہی ہیں۔ اقوام متحدہ کے ماہرین کی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں متنبہ کیا گیا ہے کہ گرنڈر(Grindr) جیسی ہم جنس پرستوں کی ڈیٹنگ ایپلی کیشنز کی بڑھتی ہوئی تعداد دنیا بھر میں نوجوانوں کو بالواسطہ طور پر ایچ آئی وی اور ایڈز جیسی خطرناک بیماری میں مبتلا کر رہی ہے۔ اسی طرح ٹنڈر جیسی موبائل ایپس نوجوان لڑکے لڑکیوں کے لئے بھی خطرہ بنتی جارہی ہیں جن کے باعث جنسی عمل کے ذریعے منتقل ہونے والی بیماریوں میں ہوشربا اضافہ دیکھا گیا۔

مزید جانئے: تین بچوں کے ساتھ حاملہ خاتون سے باپ نے ایک بچے کو قتل کرنے کا مطالبہ کردیا کیونکہ۔۔۔ ایسی کہانی کہ ذہن چکرا جائے

ماہرین کا کہنا تھا کہ ایسی ایپلی کیشنز سے نوجوانوں کے لیے آپس میں مراسم قائم کرنا سامنے پلیٹ میں رکھا کھانا کھانے جتنا آسان ہو گیا ہے اور یہ نوجوان ان ایپلی کیشنز کی وجہ سے آئے روز نئے لوگوں سے ملتے ہیں جس سے ایڈز تیزی کے ساتھ پھیل رہا ہے۔ماہرین نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ 2014ءمیں ایشیاءاور پیسیفک کے ممالک میں 15سے 19سال عمر کے 50ہزار نوجوانوں میں ایچ آئی وی وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے اور ان میں سے 15فیصد نئے مریض شامل ہیں۔ایچ آئی وی کے مریضوں کی اس بڑھتی تعداد کی بڑی وجہ یہی ایپس ہیں۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ ہم جنس پرست مردوں کے ایچ آئی وی وائرس سے متاثر ہونے کا خدشہ سب سے زیادہ ہوتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ایشاءاور پیسیفک کے ممالک میں ایک اندازے کے مطابق ساڑھے 1کروڑ 5لاکھ سے 2کروڑ 70لاکھ مرد ہم جنس پرست ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ان علاقوں میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔فلپائن میں ان ہم جنس پرست مردوں میں ہر 5میں سے ایک کی عمر 15سے 19سال کے درمیان تھی۔ فلپائن میں 2010ءمیں ایڈز کے مریضوں کی تعداد 800تھی جو 2015ءمیں بڑھ کر 1ہزار 403ہو چکی ہے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -