اسرائیل داعش سے تیل کس طرح خریدتا ہے؟ عرب اخبار کی تحقیقاتی رپورٹ نے تہلکہ برپا کردیا

اسرائیل داعش سے تیل کس طرح خریدتا ہے؟ عرب اخبار کی تحقیقاتی رپورٹ نے تہلکہ ...
اسرائیل داعش سے تیل کس طرح خریدتا ہے؟ عرب اخبار کی تحقیقاتی رپورٹ نے تہلکہ برپا کردیا

  

دمشق(مانیٹرنگ ڈیسک) شام میں برسرپیکار شدت پسند تنظیم داعش کی اسلحے و دیگر سازوسامان کی ضروریات کا زیادہ تر انحصار تیل کی فروخت پر ہے۔ دنیا پریشان تھی کہ آخر داعش تیل کس ملک کو فروخت کر رہی ہے۔ اس حوالے سے میڈیا رپورٹس اور امریکی حکومت نے چند روز قبل کہاتھا کہ شامی حکومت بھی داعش سے تیل خرید رہی ہے تاہم اب ایک عرب اخبار العرابی میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیل بھی داعش کے تیل کا بڑا گاہک ہے۔ اخبار کا کہنا ہے کہ داعش تیل کو بے حد کم قیمت پر کرد اور ترک سمگلروں کو بیچتی ہے جو کہ اس پر کردستان علاقائی حکومت کا لیبل لگادیتے ہیں۔ اس کے بعد عموماً اس تیل کو ترکی سے اسرائیل سمگل کیا جاتا ہے۔یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ ترکی اور عراقی کردستان بارڈر پر تعینات اہلکاروں نے بھی ان معلومات کی تصدیق کی ہے۔سرحد پر تعینات ایک کرنل کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ تیل لے جانے والے ایک قافلے میں عموماً 70 سے 80 ٹینکر ہوتے ہیں۔ کرد علاقے اور ترکی سے ہوتے ہوئے اس تیل کی آخری منزل اسرائیل میں اشدود بندرگاہ ہوتی ہے۔ ایسے میں یہ تیل کن کن راستوں سے گزرتا ہے اور اس کی ادائیگی کیسے ہوتی ہے، عرب اخبار نے اپنی رپورٹ میں تفصیلات بیان کی ہیں ، بتایا گیا ہے کہ ترکی کے شہر سلوپی پہنچنے پر یہ ٹینکر انکل فرید نامی شخص کے حوالے کردئیے جاتے ہیں۔ انکل فرید کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اس کے پاس اسرائیلی اور یونانی شہریت ہے، ترکی پہنچ کر کردستان علاقائی حکومت اور داعش کی جانب سے آنے والے تیل میں تفریق ناممکن ہوجاتی ہے اور یہ دو ترک بندرگاہوں کے راستے اسرائیل بھیج دیا جاتا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسرائیل پہنچنے والے تیل کو ایک مرتبہ ریفائن کرکے دیگر ممالک کو بیچ دیا جاتا ہے اور اس سارے نظام کی کامیابی کا ذمہ دار تین بین الاقوامی کمپنیوں کو ٹھہرایا گیا ہے۔اگر ان کا ساتھ نہ ہو تو اس تیل کیلئے مشرق وسطیٰ سے نکلنا قریباً ناممکن ہے۔

مزید جانئے: بھارت کی ایسی حرکت کہ سعودی حکام سخت ناراض ، انڈین ورکرز پر ملک داخلے پر پابندی کا امکان

ایک اندازے کے مطابق داعش عراق اور شام کاتیل کی اونے پونے داموں فروخت سے ماہانہ 1کروڑ90لاکھ ڈالرز(تقریباً1ارب 90کروڑ روپے)کما رہی ہے۔ عربی اخبار ”العرب“ سے گفتگو کرتے ہوئے داعش کے نمائندے کا کہنا تھا کہ ہم براہ راست اسرائیل کو تیل فروخت نہیں کرتے۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل پہنچانا ہمارے ایجنٹوں کا کام ہے، وہ کس کو فروخت کرتے ہیں، یہ وہی جانتے ہیں۔شمالی عراق اور مشرقی شام کے تیل کے تمام ذخائر اس وقت داعش کے قبضے میں ہیں جہاں سے دن کے اوقات میں 7سے 9گھنٹے تک تیل نکالا جاتا ہے۔ اس عمل کی نگرانی عراقی کارکن اور انجینئرز کرتے ہیں جوداعش کے قبضے سے پہلے اپنی حکومتوں کے لیے کام کرتے تھے، اب داعش کے لیے کر رہے ہیں۔داعش نے تیل کے ان ذخائر پر کئی طرح کے سائن بورڈ لگا رکھے ہیں جن پر لکھا ہے ”یہاں فوٹوگرافی سختی سے منع ہے، خلاف ورزی کرنے والا اپنے تحفظ کو خطرے میں ڈالے گا۔“ان تمام سائن بورڈز پر داعش کا نام بھی لکھا ہوا ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -