سپریم کورٹ:تین افغانیوں کی ضمانت کی منسوخی کے لئے دائر سرکاری درخواست مسترد

سپریم کورٹ:تین افغانیوں کی ضمانت کی منسوخی کے لئے دائر سرکاری درخواست مسترد
سپریم کورٹ:تین افغانیوں کی ضمانت کی منسوخی کے لئے دائر سرکاری درخواست مسترد

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی)سپریم کورٹ نے پاکستان میں غیرقانونی طور پر رہائشی پذیر تین افغان نوجوانوں کی ضمانت منسوخی کے لئے دائر سرکار کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کو 3 ماہ میں فیصلے کا حکم دے دیا۔سپریم کورٹ لاہوررجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے اس درخواست پر سماعت کی، سرکاری وکیل نے موقف اختیار کیا کہ لاہور ہائیکورٹ نے حقائق دیکھے بغیر ہی تین افغانی نوجوانوں حبیب اللہ، یٰسین اور روح اللہ کی ضمانتیں منظور کر لی ہیں جبکہ ریکارڈ کے مطابق تینوں نوجوان غیرقانونی طور پر راجن پور کے علاقے حاجی پور ہ میں رہ رہے تھے جس پر ان کے خلاف فارن ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا، کمرہ عدالت میں موجود افغانی نوجوانوں نے بتایا کہ وہ باقاعدہ ٹرائل میں شامل ہو رہے ہیں، ان کی ایک بھی غیرحاضری نہیں ہے،ایسی صورتحال میں ضمانت منسوخی کا جواز نہیں بنتا، فاضل بنچ نے دلائل سننے کے بعد نوجوانوں کی ضمانت منسوخی کے لئے دائر درخواست مسترد کردی، عدالت نے ٹرائل کو حکم دیا کہ تین ماہ میں افغان نوجوانوں کے مقدمے کا ٹرائل مکمل کیا جائے۔ 

مزید :

لاہور -