ہائی کورٹ نے پہلی سے آٹھویں جماعت کی نصابی کتب کی اشاعت روک دی

ہائی کورٹ نے پہلی سے آٹھویں جماعت کی نصابی کتب کی اشاعت روک دی
ہائی کورٹ نے پہلی سے آٹھویں جماعت کی نصابی کتب کی اشاعت روک دی

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہورہائیکورٹ نے پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کو پہلی اورآٹھویں جماعت کی نصابی کتب کی اشاعت روکنے کاحکم دے دیاہے۔ عدالت عالیہ نے پنجاب کریکولم اینڈٹیکسٹ بک اتھارٹی کوکتابوں کے حتمی مسودے کا از سر نو جائزہ لے کر 7 دسمبر تک ریکارڈ پیش کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔ چیف جسٹس اعجازالاحسن نے یہ عبوری حکم عدالتی احکامات نظر انداز کرکے اور قانونی طریقہ کار سے ہٹ کر کتابوں کی اشاعت کے خلاف دائر درخواست پرجاری کیا۔عدالتی حکم پرپنجاب کریکولم اینڈ ٹیکسٹ بک اتھارٹی کے ایم ڈی نوازش علی نے بورڈکے گزشتہ اجلاس کی کارروائی،مینو سکرپٹ،پبلشرز سے کئے جانے والے معاہدوں کی تفصیلات اور مینو سکرپٹ کی حتمی منظوری کاریکارڈ عدالت میں پیش کیا۔پنجاب کریکولم اینڈ ٹیکسٹ بک اتھارٹی کے وکیل نے عدالت کوآگاہ کیا کہ نجی پبلشرز نے بلاجوازاعتراضات پرمبنی درخواستیں دائرکررکھی ہیں۔ انہوں نے بتایاکہ اتھارٹی نے نجی پبلشرز کے اعتراضات پرمبنی درخواستوں کی سماعت کرکے فیصلہ سنادیااوراس فیصلے کو متعلقہ فورم پرچیلنج نہیں کیاگیا۔انہوں نے کہا کہ نجی پبلشرزمافیا بن چکاہے جوبلیک میلنگ کے لئے کتب کی اشاعت پر اعتراضات اٹھا رہا ہے۔درخواست گزارنجی پبلشرزکے وکیل سعد رسول نے عدالت کوبتایا کہ پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ نے قانون کونظراندازکرتے ہوئے حتمی مینوسکرپٹ نظر ثانی کمیٹی کو پیش کرنے کی بجائے پہلی اور آٹھویں جماعت کی نصابی کتب کوطریقہ کارکے برعکس چھپائی کے لئے بھجوا دیاہے۔انہوں نے بتایا کہ قانونی طریقہ کارنظر انداز کرنے پر آٹھویں جماعت کی جغرافیہ کی کتاب میں پاکستان کے چھ صوبے ظاہر کر دئیے گئے تھے، اگر ان کتابوں کی تصحیح نہ کی گئی تو نونہال اور نوجوان طالبعلم پوری زندگی غلطی کو درست مانتے رہیں گے۔فاضل جج نے اس کیس کی مزید سماعت کے لئے7دسمبر کی تاریخ مقرر کی ہے۔

مزید :

لاہور -