ہائی کورٹ: 11سالہ بچی کی والدین میں صلح کرانے کے لئے رورو کر منتیں،عدالت نے میاں بیوی کو مصالحت کے لئے ایک موقع دے دیا

ہائی کورٹ: 11سالہ بچی کی والدین میں صلح کرانے کے لئے رورو کر منتیں،عدالت نے ...
ہائی کورٹ: 11سالہ بچی کی والدین میں صلح کرانے کے لئے رورو کر منتیں،عدالت نے میاں بیوی کو مصالحت کے لئے ایک موقع دے دیا

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی)لاہورہائیکورٹ میں 11سالہ بچی ماں باپ سے رو رو کر صلح کے لئے منتیں کرتی رہی،عدالت نے میاں بیوی کومصالحت کے لئے آخری موقع دیتے ہوئے کیس کی سماعت 10دسمبر تک ملتوی کر دی۔ جسٹس محمد انوارالحق کی عدالت میں سیالکوٹ کی رہائشی ناصرہ باجوہ کی جانب سے گیارہ سالہ بیٹی علینہ عمرسڈل کی بازیابی کے لیے دائردرخواست کی سماعت ہوئی۔درخواست گزارکے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ اسکے شوہر محمدعمر سڈل نے لڑائی جھگڑے کے بعد اسے اپنے گھر سے نکال دیا اب وہ اسکے ساتھ نہیں رہنا چاہتی۔خاتون نے بتایا کہ ٹرائل عدالت نے اسکے دونوں بیٹے شوہر سے لے کر اسکے حوالے کر دئیے ہیں مگر گیارہ سالہ بیٹی علینہ عمر سڈل کو ا س کے باپ کے حوالے کر رکھا ہے۔خاتون نے استدعا کی کہ اسکی بیٹی کو اسکے حوالے کرنے کا حکم دیا جائے۔کمرہ عدالت میں علینہ اپنے باپ اور ماں سے رو رو کر صلح کے لئے منتیں کرتی رہی جس سے کمرہ عدالت کا ماحول افسردہ ہو گیا۔علینہ نے اپنے والدین سے منتیں کرتے ہوئے کہا کہ دونوں صلح کر لیں تاہم ناصرہ نے شوہر سے صلح کرنے سے انکار کر دیا۔عدالت نے دونوں میاں بیوی کو دس دسمبرتک مصالحت کا آخری موقع دیتے ہوئے راضی نامہ کرنے کی ہدایت کی۔عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر میاں بیوی نے راضی نامہ نہ کیا تو بچی کو ماں باپ میں سے کسی کے سپردنہیں کیا جائے گا بلکہ انہیں سکول ہوسٹل میں بھجوا دیا جائے گا۔

مزید :

لاہور -