قطر تاحال غیر ملکی کارکنوں اور مزدوروں کے استحصال کے خاتمے کے لیے ٹھوس اقدامات نہیں کر سکا:ایمنٹسی انٹرنیشنل

قطر تاحال غیر ملکی کارکنوں اور مزدوروں کے استحصال کے خاتمے کے لیے ٹھوس ...
قطر تاحال غیر ملکی کارکنوں اور مزدوروں کے استحصال کے خاتمے کے لیے ٹھوس اقدامات نہیں کر سکا:ایمنٹسی انٹرنیشنل

  

لندن(آئی این پی)حقوقِ انسانی کے لیے کام کرنے والی عالمی تنظیم ایمنٹسی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ قطر تاحال غیر ملکی کارکنوں اور مزدوروں کے استحصال کے خاتمے کے لیے ٹھوس اقدامات نہیں کر سکا ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ مزدوروں کا استحصال جاری رہنا قطر اور فٹبال کی عالمی نگران تنظیم فیفا دونوں کے لیے باعثِ شرم ہے۔حقوقِ انسانی کی تنظیم نے الزام عائد کیا ہے کہ قطری حکام کارکنوں کو نوکری کی تبدیلی کا حق دینے اور اپنی مرضی سے ملک چھوڑنے سمیت کئی اہم معاملات میں کوئی بھی تبدیلی لانے میں ناکام رہے ہیں۔قطر مزدوروں کے استحصال کے الزامات سے انکار کرتا رہا ہے اور اس کا موقف ہے کہ اس نے مزدوروں کے حوالے سے کئی اصلاحات کی ہیں۔قطر نے گذشتہ برس ’کفالہ‘ نامی اس قانون کو تبدیل کرنے کا وعدہ کیا تھا جس کے تحت غیر ملکی مزدور ایک ہی آجر کے ساتھ بندھے رہنے پر مجبور ہیں اور انھیں ملک سے واپس جانے کے لیے بھی اس کمپنی کی اجازت درکار ہوتی ہے جو انھیں قطر لائی تھی۔ایک اندازے کے مطابق قطر میں 18 لاکھ غیر ملکی مزدور کام کرتے ہیں جن میں سے بیشتر ورلڈ کپ کی تیاریوں کے حوالے سے تعمیراتی سرگرمیوں کا حصہ ہیں۔ایک اندازے کے مطابق قطر فٹبال ورلڈ کپ کے لیے کی جانے والی تعمیرات پر دو سو ارب ڈالر سے زیادہ رقم خرچ کر رہا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ ورلڈ کپ کی وجہ سے ریاست بھر میں جاری تعمیراتی منصوبوں میں تیزی آ گئی ہے۔خیال رہے کہ یہ رواں برس کے دوران دوسرا موقع ہے کہ ایمنیسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے قطر میں کام کرنے والے غیر ملکی مزدوروں کے حالات کے بارے میں خدشات ظاہر کیے گئے ہیں۔اس سے قبل مئی 2015 میں ایمینسٹی نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ ایسے مزدوروں کے حالات میں نہ ہونے کے برابر بہتری ہوئی ہے اور قطر ان کے حقوق کا خیال رکھنے کا وعدہ پورا کرنے میں ناکام رہا ہے۔

مزید :

بین الاقوامی -