فیس بک یا گنجے کے ناخن؟

فیس بک یا گنجے کے ناخن؟
 فیس بک یا گنجے کے ناخن؟

  


فیس بک ہمارے لئے گنجے کے حق میں160ناخن اور کم ظرف کے ہاتھوں160میں طاقت ہی ثابت ہوئی۔ ہم نے ان ناخنوں160سے اپنے اخلاقی گنج کو اس قدر کھجایا کہ اب ہر دامن سے ہماری شرافت کے لہو کی بوندیں160ٹپک رہی ہیں اور ہر شخص سوشل میڈیا کے وار اور یلغار سے گھبرایا اور بوکھلایا پھرتاہے۔ فیس بک کو ہم نے یا تو اپنے ہاں160کا وہ قبائلی علاقہ سمجھ لیا کہ جہاں160انسان کش اسلحہ بے روک ملتا ہے یا پھر وہ یورپی خطہ کہ جہاں160کی بے لگام آزادی کی شرافت کْش چھری نے ناموسِ160انسانی کاآخری بندھن بھی کاٹ160ڈالاہے۔ کائنات میں160ہماراحتمی فخر ہوجانے والے، اللہ کے آخری رسولؐ نے عصبیت کے لئے ایسی بدبودار تشبیہ برتی کہ جس نے عصبیت کا گھناؤنا اور ڈراؤنا پن خوب آشکار کر دیا۔ اسے جاہلیت کی بازگشت قرار دیا۔ ہمارے ہاں160مگر یہی عصبیت ہمارے فخر کا علَم اور ہمارا اول و آخر عمل ہو گئی ہے۔ اسی فیس بک پر بہت اور گو باقی میڈیا پر بھی کم نہیں! عصبیت کیا ہے؟ اپنے قوم قبیلے ، آئیڈیل اور آدرش کا غلط ہونے کے باوجود ساتھ دینا۔ یعنی آسان الفاظ160میں160اپنے گروہ کے ہر کام کی ہر وقت تحسین ، ہمہ وقتی وکالت اورہمہ جہتی دفاع کرتے جانا۔ آپ فیس بک نامی اس دنیا کا اور اپنے طرزِ160عمل کا بھی جائزہ لیجئے ، یہاں کے اکثر پیجز اور پوسٹس میں160کیا ہم نے مختلف شخصیتوں160کے ، لسانی یا مذہبی جماعتوں160کے ، عسکری یا سیاسی مفادات160کے علم نہیں160اٹھا رکھے اور مورچے نہیں160سنبھالے ہوئے؟ یہ بھی اک عصبیت ہے ! ہر وہ شخص کہ جس نے اپنے مخالف یا مقابل نظرئیے یا مفاد والی ہر جماعت یا قائد کی ہروقت تنقیص160کی روش اپنا رکھی ہے ، وہ ضرور اپنا جائزہ لے کہ کہیں160وہ عین اسی طرزِ160عمل کا شکار نہ ہوگیا ہو ، وگرنہ یہ اللہ پر بہتان اور اس کے قانونِ عطا کا مذاق ہے کہ صرف آپ کا قائد، صرف آپ کی جماعت اور صرف آپ کا قبیلہ ہی ہمیشہ درست بات کہتاہے اور مخالف کبھی نہیں کہتا! سو ہمیں160سیکھ لینا چاہئے کہ ہر وہ قلم اور ہر وہ کالم، ہر وہ پیج اور ہر وہ پوسٹ کہ جو اپنے مخالف کی ہر بات پر تنقید اور اپنی جماعت کی ہمہ وقتی تحسین وظیفہ کئے رکھتی ہے۔وہ دراصل حق، عدل اور انسانی ضمیر کا قتلام کرکے عصبیت کو طاقت و توانائی فراہم کرتی ہے۔ عصبیت جو جاہلیت کی آواز ہے، عصبیت جو اس ارض کے قِشر پر اللہ کے آخری رسولؐ اور مقامِ حشر میں160ہماراآخری سہارا ہوتے رسالتمآبؐ کی جناب میں160سخت160بدبودار ہے۔

اس عصبیت کی گھناؤنی ادا ہے کہ ہم میں160سے ہر ایک مخالف کی طرف سے آئی ہر بات پر تمسخرانہ تالی بجاتا اور اس کا دندان شکن جواب فراہم کرتا ہے۔ مثلاً لبرلز کا مقصدِ زندگی اسلام سے متعلق ہر اچھائی کو برائی ثابت کرنا ہے اور ان کی طرف سے آئے ہر انسانی وقار اور افتخار کا انکار رقم کرنا ہے ، ادھر اگر اسلام پسندوں160کاایک سپہ سالارِ160قلم نادانستگی سے دین کی ایک غلط تعبیربھی پیش کردے گا توہمارا اسلام عین خطرے میں160رہے گااگر ہم اس کا دفاع نہ کر سکے۔ حالانکہ انسانیت یہ تھی کہ دھڑے کے وقار کی نہیں160انسانی اقدار کی بات کی جاتی اور اسلام یہ تھاکہ اپنے موقف کی نہیں160، اسلام کے موقف کی ترجمانی کی جاتی۔

ایک روش اور ہے۔ زیادہ تر اسلام کے دفاع پر متعین نوجوانوں160کی۔ یہ داعی نہیں160قاضی بن گئے ہیں۔ یہ دعوت نہیں160ججمنٹ160Judgementدینے لگے ہیں۔یہ کسی ایک پوسٹ،160کسی ایک کالم، کسی ایک ویڈیو کلپ یا کسی ایک سطر پر، اس کے معانی میں160اترے یا قائل سے اس کی تشریح160طلب کئے بغیر، حتمی فیصلہ صادر کر دیتے ہیں۔ اپنی مرضی ، اپنے مسلک ،اپنے منہج اوراپنی نفسیات کے عین مطابق فیصلہ۔ چنانچہ ، اسی بدولت ایک طریقہ کا ر سے اختلاف رکھنے والے ،منکرِ160جہاد ، ایک طرزِ160فکر رکھنے والے یک قلم گستاخ160، ایک طبقہ پوری طرح160مشرک، ایک طبقہ رسولؐ کی ذات پر امام کی بات کو ترجیح160دینے والا، کچھ لوگ دین بیزار اور کچھ لوگ وطن کے غدار وغیرہ رجسٹرڈکر لئے گئے ہیں۔ انھیں کبھی کسی نے نہیں بتایاکہ کبھی کبھی آپ اور آپ کا مخالف دونوں160بھی درست ہو سکتے ہیں۔ آپ کا درست ہونا دوسرے کے غلط ہونے کی لازمی دلیل نہیں بھی ہو سکتا۔ اگر آپ جذباتی ہیں160،کچی عمر یا گروہی جھونک کی بنا پردین یا سیاست کی ایک تعبیر رکھتے ہیں160تو یہ عین ممکن ہے کہ آپ کا مخالف بھی پوری دیانت داری سے آپ سے الگ درست رائے رکھتا ہو۔ امام شافعی کے بارے کہا جاتا ہے ، فرماتے تھے ، میں160پوری دیانت سے اپنی سچی رائے پیش کرتا ہوں، اس احتمال کے ساتھ کہ اس میں160غلطی بھی ہو سکتی ہے اور پوری دیانت سے مخالف کی بات غلط سمجھتے ہوئے مسترد کر دیتاہوں،160اس امکان کے ساتھ کہ اس میں160درستی کاشائبہ بھی ہو سکتاہے۔

کس قدر غلط ہوتاہے کہ جب ہمارے نو جوان یہ سوچتے ہیں160کہ صحافت ، سیاست ، سیادت یا کسی بھی دوسرے میدان میں160ایک عمر کھپا دینے والے کا علم ، سلیقہ اور ہنر ان سے کمتر ہے۔ ممکن ہے کبھی یہ بھی ہوتاہو مگر160یہی روش عموماً ہمیں کئی اعلیٰ160اخلاقی قدروں سے نیچے بھی گرادیتی ہے۔ یہ فرمان کس کے لئے ہے ،کہ اپنی نہیں160، مخاطب کی معلومات کے کونٹیکسٹ160میں160رہ کے بات کرواور پھر یہ کہ اسے اللہ کے عطاکردہ منصب و توقیر کا لحاظ160رکھ کے بھی بات کرو۔ہوتا مگر یہ ہے۔ اپنے سے زیادہ بڑی عمر کا تمسخر اور تضحیک ، اپنے سے زیادہ فکر و ہنر کی تذلیل، اورکسی دوسرے میدان میں بغیر علم کے مجادلے کا ارتکاب۔تکبر اس سارے تکرار کی تہہ میں160بہہ رہا ہوتاہے۔ علم کا ، دھڑے کا ،گروہ کا یا پارسائی کا تکبر! ایک داعی کا مقام اور ایک دیندار کے اخلاق کریمانہ تو بہر قیمت یہاں گنواہی دئیے جاتے ہیں۔ دراصل دعوت کا نہیں160تب ان میں160انا کا اسلوب بول رہا ہوتاہے۔ کہا جاتاہے کہ سیدنا علیؓ نے نیچے لیٹے اور قابو میں160آئے اللہ کے دشمن کے سینے سے تلوارہٹالی تھی۔عین اس وقت کہ جب ا س نے عالی جناب پر تھوک دیا تھا۔ چنانچہ سیدنا نے یہ کہہ کر وار روک لیاکہ ممکن ہے اب یہ لڑائی اللہ کی لڑائی کے بجائے میرے نفس اور انا کی لڑائی ہو گئی ہو۔ بات ابھی باقی ہے۔

مزید : کالم