ڈائریکٹرمہرین جبارکی فلم’’دوبارہ پھر سے‘‘عوام کو متاثر کرنے میں ناکام

ڈائریکٹرمہرین جبارکی فلم’’دوبارہ پھر سے‘‘عوام کو متاثر کرنے میں ناکام

لاہور(فلم رپورٹر)مہرین جبار ڈائریکشن کا وسیع تجربہ رکھتی ہیں اور بہت سے منفر دپراجیکٹ بناکر انڈسٹری اور ناظرین کے دلوں میں جگہ بناچکی ہیں۔بہت سے ڈراموں کے ساتھ ساتھ انہوں نے ایک فلم’’ رام چند پاکستانی ‘‘بھی بنائی تھی جسے کافی پسندکیا گیا تھا تاہم حال ہی میں ریلیز ہونے والی ان کی دوسری فلم’’دوبارہ پھرسے‘‘عام شائقین کو زیادہ متاثر نہیں کرسکی ۔

کیونکہ اس فلم میں کوئی ایک بھی ایسی بات نہیں ہے جو لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کرائے کیونکہ اب یہ فارمولا بھی ناکام ہوگیا ہے کہ ٹی وی ڈراموں کے چندفنکاروں کو لے کراگر فلم بنائی جائے گی تو لوگ اسے دیکھنے کے لئے ضرروآئیں گے لیکن ایسا ہرگزنہیں ہے کیونکہ ان فنکاروں کو تو سب پہلے ہی ڈراموں میں دیکھ رہے ہیں اگر انہوں نے وہی سب بڑی سکرین پر بھی کرنا ہے تو پھر فلم اور ڈرامے میں کوئی فرق نہیں رہے گا اور یہی کچھ مہرین جبار کی نئی فلم’’دوبارہ پھرسے‘‘میں بھی دیکھا اور محسوس کیا جاسکتا ہے۔سینئر فلمی ناقدین کا کہنا ہے کہ ہر فلم کا الگ مزاج اور شکل ہوتی ہے لیکن ہمارے ہاں اب زیادہ تر فلم میکر تجرباتی فلمیں زیادہ بنارہے ہیں کیونکہ انہیں باآسانی سرمایہ کار مل جاتے ہیں۔آج کل فلم بنانا ان لوگوں کے لئے کافی آسان ہوگیا ہے جن کے تعلقات کارپوریٹ سیکٹر میں اچھے اور مضبوط ہیں کیونکہ کسی بھی پراڈکٹ کی تشہیر کے لئے فلم ہی بہترین ذریعہ ہے اور ویسے بھی اب ہماری فلم بین الاقوامی سطح پربھی دکھائی جارہی ہے۔ مہرین جبار نے بھی اپنی فلم میں دواہم پراڈکٹس کو بہت ذہانت سے استعمال کیا ہے جس سے ایک طرف تو ان چیزوں کی تشہیر ہوجاتی تودوسری طرف یہ بری بھی نہیں لگتیں کیونکہ فلم کے چند کردار جب چپس کھاتے ہیں یا ایک کردار جب کہیں جانے کے لئے اپنا بیگ بند کررہا ہوتا ہے تو ٹوتھ پیسٹ کا کلوز اپ دکھایا جاتا ہے ۔دونوں مناظر میں ان پراڈکٹ کو خوبصورتی سے دکھایا جاتا ہے جس سے شائقین کو سمجھ بھی آجاتی ہے کہ ڈائریکٹر کا کیا مقصد ہے۔مہرین جبار کی اس فلم میں کہانی،سکرپٹ اور سکرین پلے نام کی کوئی چیزنہیں ہے ،ڈرامے کی کہانی میں کچھ جذبات اور کچھ سسپنس ہوتا جو ناظرین کو اپنے ساتھ لے کر چلتا ہے لیکن’’دوبارہ پھرسے‘‘میں ایسا کچھ نہیں ہے ۔فلم شروع ہونے کے ٹھیک دس منٹ آپ کو اندازہ ہوجاتا ہے کہ آگے کیا ہوگا کیونکہ فلم کی کہانی اتنی سست روی کے آگے بڑھتی ہے کہ کسی کسی جگہ پر یہ فلم لوری کا کام بھی دیتی ہے کیونکہ سست روی کی وجہ سے اکثر لوگ کو نیند بھی آجاتی ہے۔فلم کی کہانی امریکہ سے شروع ہوتی ہے کیونکہ تمام کردار وہاں موجود ہوتے ہیں،جب کی ملاقات ایک برتھ ڈے پارٹی میں ہوتی ہے،علی کاظمی اورصنم سعیدکی دوستی پہلے سے ہوتی ہے،اسی طرح عدیل حسین اور طوبیٰ صدیقی کی دوستی ہوتی ہے لیکن عدیل حسین حریم فاروق پر فریفتہ ہوجاتا ہے جو پہلے شادی شدہ اور ایک بچے کی ماں ہوتی ہے لیکن کچھ عرصے بعد جب حریم فاروق کی طلاق ہوجاتی ہے تو ان کی نئی زندگی شروع ہوجاتی ہے لیکن اس کے باوجود حریم زیادہ تر وقت اپنی ساس کے گھرپر ہی گزارتی ہے جہاں باربار ان کی ملاقات اپنے سابقہ شوہر سے بھی ہوجاتی ہے جو اس کی موجودہ زندگی سے بالکل خوش نہیں ہوتا ،عتیقہ اوڈھو نے حریم فاروق کے ساس کے کردار میں اچھی پرفارمنس کا مظاہرہ کیا ہے،حریم فاروق،صنم سعید،عدیل حسین اور علی کاظمی روڈ ٹرپ پر چلے جاتے ہیں لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ڈائریکٹر نے اس ٹرپ کے دوران کسی جگہ بھی امریکہ کے خوبصورت مناظرکی کی عکاسی نہیں کی ،اسی طرح کئی اور مقامات پر بھی ناظرین کویہ پتہ نہیں چلتا کہ فلم کی شوٹنگ امریکہ میں ہوئی ہے کیونکہ آؤٹ ڈور شوٹنگ کے دوران مناظرکو ایکسپوز نہیں کیا گیا بلکہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ڈائریکٹر نے امریکہ میں اجازت کے بغیر شوٹنگ کی ہے کیونکہ اگرکسی مارکیٹ میں شوٹنگ کی گئی ہے تو اسے صرف اندر سے ہی دکھایاگیا ہے۔ بہت سے مقامات پرا یسا بھی لگتا ہے کہ فلم کی شوٹنگ کئی کئی ماہ کی بریک کے بعد کی گئی ہے کیونکہ فنکاروں کا میک اپ اور لائٹ بہت ہی بری تھی ،خاص طور پر دن کے کئی مناظرمیں حریم فاروق کا میک اپ بہت ہی برا تھا اور یہی محسوس ہورہا تھا کہ یہ میک اپ شاید فنکاروں نے خودہی کیا ہے اور کسی پروفیشنل میک اپ آرٹسٹ کی خدمات نہیں لی گئیں۔فلم کی کہانی اس قدر سست روی کا شکار ہے کہ اکثر لوگ ایک دوسرے سے پوچھ رہے ہوتے ہیں کہ فلم کب شروع ہوگی۔فلم کے کلر کہیں زیادہ محسوس ہوتے ہیں تو کہیں کم ،جب شادی کے لئے سب کردار کراچی آتے ہیں تو شادی کا ایک گانا دکھایا جاتا ہے جس کی کوریوگرافی نگاہ حسین سے کرائی گئی جس میں ان کی محنت کو نظرآتی ہے لیکن اس کے علاوہ اس گانے میں اور کچھ نہیں ہے ۔اس کے علاوہ بھی فلم کا کوئی اور گانا قابل توجہ نہیں ہے ۔فلم کا ٹائٹل سانگ علی حمزہ اور حانیہ اسلم نے گایا ہے جو سماعتوں پر کوئی خاص تاثرنہیں چھوڑتا اسی طرح ریکھا بھردواج جیسی منفرد آواز کا گانا’’راستہ تھم گیا‘‘بھی کوئی خاص نہیں ہے۔فلم کی پبلسٹی میں ماڈل طوبیٰ صدیقی کو بہت اہمیت دی جارہی تھی کیونکہ یہ ان کی پہلی فلم ہے لیکن ہر کسی نے انہیں دیکھ کر مایوسی کا ہی اظہار کرتے ہوئے یہ رائے دی کہ ان کے لئے صرف ماڈلنگ ہی ٹھیک ہے ،طوبی ٰ صدیقی کی پرفارمنس بالکل مایوس کن تھی جبکہ ان کی لک کی عام سی تھی ۔ جن لوگوں نے یہ فلم دیکھی ہے ان میں سے زیادہ تر کی رائے یہ ہے کہ’’دوبارہ پھرسے ‘‘کو دوبارہ پھرسے بنانے کی ضرورت ہے کیونکہ فلم میں بے شمار کمزوریاں ہیں۔

مزید : کلچر