جنوبی کوریا صدر عہدہ چھوڑنے کیلئے تیار ، پارلیمان سے مدد کی اپیل کردی

جنوبی کوریا صدر عہدہ چھوڑنے کیلئے تیار ، پارلیمان سے مدد کی اپیل کردی

 سیول (آن لائن)جنوبی کوریا کی صدر پاک گن ہے نے ملکی پارلیمان سے کہا ہے کہ وہ انھیں اپنا عہدہ چھوڑنے کے لیے راستہ تلاش کرنے میں مدد کرے۔خیال رہے کہ جنوبی کوریا کی صدر پاک گن ہے نے اپنی سہیلی چوئی سون سل کو سکیورٹی کلیئرنس نہ ہونے کے باوجود سرکاری دستاویزات دیکھنے کی اجازت دی تھی جس کے بعد ملک میں مظاہروں کا آغاز ہوا اور ان سے متستعفی ہونے کا مطالبہ کیا گیا۔صدر نے ٹی وی پر قوم سے دو بار معافی بھی مانگی تاہم لاکھوں افراد کے مظاہروں کے باوجود وہ مستعفی ہونے پر تیار دکھائی نہیں دے رہی تھیں۔ایک ماہ سے زائد عرصے سے جاری ان مظاہروں کو سنہ 1980 کی دہائی کی جمہوریت نواز مظاہروں کے بعد سب سے بڑے مظاہرے قرار دیا جا رہا ہے۔اس سکینڈل کے بعد سے اب تک جنوبی کوریا کی صدر تین مرتبہ قوم سے خطاب بھی کر چکی ہیں۔ منگل کو ٹی وی پر خطاب کرتے ہوئے جنوبی کوریا کی صدر کا کہنا تھا کہ وہ مستعفی ہو جائیں گی'جیسے ہی قانون ساز اقتدار کی منتقلی کے اقدامات کر لیں گے تاکہ اقتدار میں کوئی خلا اور کاروبارِ حکومت افراتفری کو کم سے کم کیا جائے۔'صدر پاک گن ہے کہا ہے کہ وہ 'میں اپنے عہدے کی مددت کو کم کرنے سمیت مستقبل کے حوالے سے ہر چیز کا اختیار پارلیمینٹ کو دیتی ہوں' مگر وہ یہ بھی کہتی ہیں کہ وہ نہیں چاہتیں کہ اقتدار میں کوئی خلا رہے۔یاد رہے کہ جنوبی کوریا کی پارلیمان جمعے کو اس بات پر بحث کرے گی کہ کیا صدر کے خلاف مواخذے کی کارروائی کی جائے۔برسرِ اقتدار جماعت میں سے کچھ کا خیال ہے کہ اس سے پہلے کہ صورتحال اس نکتے پر پہنچے انھیں باعزت طور پر اپنا عہدہ چھوڑ دینا چاہیے۔دوسری جانب اپوزیشن جماعتوں نے صدر پر الزام لگایا ہے کہ وہ مواخذے کی کارروائی سے بھاگنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

لیکن اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹک پارٹی کے ترجمان مسٹر یان وان سک کا کہنا ہے کہ یہ ایک فریب ہے جس میں غوروفکر کی کمی نظر آتی ہے۔اپوزیشن جماعت کا کہنا ہے کہ لوگ صدر کا استعفیٰ چاہتے ہیں اس معاملے کو طوالت نہیں دینا چاہتے اور نہ ہی اس کی ذمہ داری عوام پر ڈالنا چاہتے ہیں۔صدر کی سہیلی چوئی سون سل دھوکہ دہی اور طاقت کے ناجائز استعمال کے الزامات میں زیر حراست ہیں۔ ان پر جنوبی کوریا کی کمپنیوں سے بھی بھاری رقم بٹورنے کے الزامات ہیں۔اگر ملکی پارلیمان نے صدر کے حلاف مواخذے کی کارروائی کے فیصلے کی توثیق کی تو پھر انھیں فوری طور پر انپی ذمہ داریاں چھوڑنی پڑیں گی اور ان کی جگہ وزیراعظم عارضی طور پر یہ فرائض بھی سرانجام دیں گے۔ دوسری جانب عدالت یہ فیصلہ کرے گی کہ مواحدہ کیا جائے یا نہیں اس عمل میں چھ ماہ کی مدت لگ سکتی ہے۔

مزید : عالمی منظر