شامی فوجیوں پر فضائی حملہ غلطی سے ہوا،داعش ہمارانشانہ تھی، امریکہ

شامی فوجیوں پر فضائی حملہ غلطی سے ہوا،داعش ہمارانشانہ تھی، امریکہ

واشنگٹن /دمشق(این این آئی)امریکہ نے تسلیم کیا ہے کہ شام میں خود کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم کے خلاف لڑنے والے شامی فوجیوں پر فضائی حملہ غلطیوں کی وجہ سے ہوا تھا۔ 17 ستمبر کو غلطی ہوئی جس میں دولتِ اسلامیہ کو نشانہ بنانے کی نیت سے حملہ کیا گیا۔شامی علاقے دیر الزور میں سرکاری فورسز پر حملے میں امریکہ، برطانیہ، ڈنمارک اور آسٹریلیا کے جہاز شامل تھے تاہم اتحادی فوج کے جہازوں نے اس وقت حملے کو روک دیا جب روس نے معلومات فراہم کیں کہ اس حملے میں شامی فوجی نشانہ بن رہے ہیں۔دوسری جانب شامی صدر بشارالاسد نے کہا ہے کہ یہ حملہ جان بوجھ کر کیا گیا تھا جس میں روسی فوج کے مطابق 62 شامی فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکی فوج کے لیفٹیننٹ جنرل جیف ہیریگن نے کہا کہ اس واقعہ میں ہم اس معیار پر پورا نہیں اتر سکیں جو ہم نے اپنا رکھا ہے اور ہم اس سے بہتر کر سکتے تھے۔مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی سینٹرل کمانڈ کے ایک ترجمان نے کہا کہ یہ غلطی قابل افسوس ہے اور اس میں شامی فوج کو نشانہ بنانے کا ارادہ نہیں تھا۔تاہم امریکی خبررساں ادارے سے بات چیت میں شامی صدر کا کہنا تھاکہ وہ امریکی فوج کے اس موقف پر یقین نہیں رکھتے کہ یہ حملہ غلطی سے ہوا۔ان کا کہناتھا کہ یہ چار جہاز تھے جو تقریباً ایک گھنٹے تک شامی فوجیوں کے ٹھکانوں پر حملے جاری رکھتے ہیں، یا ایک گھنٹے سے بھی کچھ زیادہ۔

مزید : عالمی منظر