پولیس نے نابینا کیخلاف ڈکیتی کا مقدمہ درج کر کے تاریخ رقم کر دی

پولیس نے نابینا کیخلاف ڈکیتی کا مقدمہ درج کر کے تاریخ رقم کر دی

لاہور(نامہ نگار خصوصی)لاہور پولیس نے شہریوں کیخلاف جھوٹے مقدمات درج کرنے کی روش نہ بدلی۔اسلام پورہ پولیس نے نابینا شخص کیخلاف ڈکیتی کا مقدمہ درج کر کے نئی تاریخ رقم کر دی۔ عدالت نے مقدمہ خارج کرنے کا حکم دیدیالاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سردار سرفراز ڈوگر نے موہنی روڈ کے رہائشی نابینا فیصل دلدار کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواستگزار نے موقف اختیار کیا کہ پانچ ماہ قبل ایک خاتون وکیل رابعہ نے اسکے ساتھ شادی کی اور چند ماہ بعد ہی دھوکہ دہی کے ساتھ ساری جائیداد اپنے نام کرا لی۔ جائیداد ہتھیانے کے بعد خاتون ایڈووکیٹ طلاق لے کر رفو چکر ہو گئی۔اس نے بتایاکہ نابینا شخص کی جانب سے جائیدادکی واپسی کاتقاضا کرنے پرخاتون ایڈووکیٹ نے پولیس کے ساتھ ملی بھگت کر کے درخواست گزار کیخلاف ڈکیتی کا مقدمہ درج کرا دیا لہذا مقدمہ خارج کرنے کا حکم دیا جائے۔ عدالت نے درخواستگزار کے میڈیکل ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد پولیس کے رویے پر اظہار برہمی کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ پولیس کا کام صرف شہریوں کیخلاف جھوٹے مقدمات درج کرنا ہی رہ گیا ہے۔ عدالت نے پولیس کو نابینا شخص کیخلاف ڈکیتی کا مقدمہ خارج کرنے کا حکم دیتے ہوئے درخواست نمٹا دی۔

ڈکیتی مقدمہ

مزید : صفحہ آخر