بارہ سال سے کم عمر طلبہ کو نویں جماعت میں مشروط داخلہ دینے کی ہدایت

بارہ سال سے کم عمر طلبہ کو نویں جماعت میں مشروط داخلہ دینے کی ہدایت

لاہور(نامہ نگار خصوصی)لاہورہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس عابد عزیز شیخ نے تعلیمی بورڈز کوبارہ سال سے کم عمر طلبہ کو نویں جماعت میں مشروط طور پر داخلہ دینے کی ہدایت کرتے ہوئے فریقین کے وکلاء کو مزید بحث کیلئے طلب کرلیا ہے ۔جبکہ کیس پر مزید سماعت17جنوری تک ملتوی کر دی ہے ۔درخواست گزار طالبہ رئیسہ حفیظ کے وکیل شیراز ذکا ایڈووکیٹ اور اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے عدالت کے روبرو دلائل دیتے ہوئے کہا کہ آرٹیکل پچیس اے کے تحت مفت اور لازمی تعلیم ریاست کی ذمہ داری ہے،بارہ سال سے کم عمر ذہین طلبہ کو نویں جماعت میں داخلہ نہ دینے سے متعلق بورڈ نے قوانین بنا رکھے ہیں،جوآئین کی روح کے منافی ہیں،جب کہ آئین اور ملکی قوانین کے تحت اگلی جماعتوں میں داخلے کے لئے عمر کی کوئی قید نہیں ہے،انہوں نے بتایا کہ عدالت عالیہ نے کم عمرطلبہ کو نویں جماعت میں مشروط طور پر داخلہ دینے کی ہدایات جاری کر رکھی ہیں،جس پر بھی عمل نہیں کیاجارہا،،سرکاری وکیل نے تعلیمی بورڈز کی جانب سے جواب داخل کراتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ عدالت کو حکومت کے پالیسی معاملات میں مداخلت کا اختیار حاصل نہیں ہے۔جس پر عدالت نے تعلیمی بورڈز کوبارہ سال سے کم عمر طلبہ کو نویں جماعت میں مشروط طور پر داخلہ دینے کی ہدائت کرتے ہوئے داخلوں کے طریقہ کار کو عدالتی فیصلے سے مشروط کر دیا۔

مشروط اجازت

مزید : صفحہ آخر