، آج کے بچوں نے عدالتوں کو کل سنبھالنا ہے ، انہیں نظام انصاف کو سمجھنا ہو گا

، آج کے بچوں نے عدالتوں کو کل سنبھالنا ہے ، انہیں نظام انصاف کو سمجھنا ہو گا

 لاہور(نامہ نگار خصوصی)چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ نے کہا ہے کہ ہم ججز کا کام انصاف کرنا ہے، حق دار کو قانون کے مطابق اس کا حق دلانا ہے، انہوں نے کہا کہ انصاف طرز زندگی کا نام ہے جو صرف عدالتوں میں ہی نہیں کیا جاتا بلکہ ہمیں اپنی روز مرہ زندگی اور رشتوں میں بھی(بقیہ نمبر35صفحہ7پر )

انصاف اور شفافیت کو اپنانا ہوگا۔انصاف کو اپنی طرز زندگی کا حصہ بنائیں،آج کے بچوں نے کل ان اداروں کو سنبھالنا ہے۔قانون کی بالادستی اور آزاد عدلیہ کے قیام کیلئے سینئر اور بزرگ وکلاء کا کردار کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔ چیف جسٹس نے ان خیالات کا اظہار عدالت عالیہ لاہور کا دورہ کرنے والے مختلف سکولوں کے طلبہ و طالبات اور سینئر وکلاء کے اعزاز میں منعقدہ دو الگ الگ تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر سینئر ترین جج مسٹر جسٹس شاہد حمید ڈار، مسٹر جسٹس محمد یاور علی، مسٹر جسٹس انوار الحق، مسٹر جسٹس سردار محمد شمیم احمد خان، مسٹر جسٹس مامون الرشید شیخ اور مسٹر جسٹس محمد قاسم خان سمیت دیگر فاضل جج صاحبان، رجسٹرار سید خورشید انور رضوی اور ممبر انسپکشن ٹیم بھی وجود تھے۔چیف جسٹس سید منصور علی شاہ نے طلبہ و طالبات سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کورٹ رومز کے دورے کے دوران آپ نے دیکھا ہوگا کہ لوگوں کو انصاف کیسے ملتا ہے، عدالتی نظام کیسے چلتا ہے، وکلاء کے دلائل اور ججوں کے فیصلے دیکھے ہیں۔ فاضل چیف جسٹس نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کی ایک سو پچاس سالہ تقریبات منانے کا مقصد عام آدمی کو احساس دلانا ہے کہ ایک متحرک عدلیہ صوبے کی عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کیلئے کوشاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کے ذہنوں سے عدلیہ کے منفی تاثر کو ختم کرنے کیلئے سول سوسائٹی اور طلبہ و طالبات کو ان تقریبات کا حصہ بنایا گیا ہے۔ فاضل چیف جسٹس نے بچوں سے کہا کہ ہمیں اپنے اندر انصاف پیدا کرناہوگا اور اگر ہم انصاف کو اپنی روز مرہ زندگی کا حصہ بنا لیں تو ہم بلند انسان بن جائیں گے۔ مسٹر جسٹس محمد انوار الحق نے بچوں سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ و طالبات کے ایسے دوروں سے عدالتوں کا مثبت امیج لوگوں کے سامنے آئے گا اور وہ امید کرتے ہیں کہ تحصیل سطح پر بھی طلبہ و طالبات کو عدالتوں کے دورے کروائے جائیں گے۔ فاضل جج نے بچوں کو نصیحت کرتے ہوئے کہا بڑا آدمی بننے کی خواہش ضرور رکھیں لیکن اللہ رب العزت سے دعا کیا کریں کہ وہ آپ کو اچھا انسان بنائے۔ بچوں نے لاہور ہائی کورٹ میوزیم کا دورہ کیا اور عدالت عالیہ لاہور سے منسلک تاریخی نوادرات کو دیکھ کر لطف اندوز ہوئے۔ بچوں کو عدالت عالیہ کی جانب سے کافی مگ اور پھول بھی پیش کئے گئے۔دریں اثناء چیف جسٹس نے عدالت عالیہ کی ایک سو پچاس سالہ تقریبات کے حوالے سے بزرگ اور سینئر وکلاء کے اعزاز میں چیف جسٹس ہاؤس میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قانون کی بالادستی اور آزاد عدلیہ کے قیام کیلئے سینئر اور بزرگ وکلاء کا کردار کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا ، سینئر وکلاء کے بغیر لاہور ہائی کورٹ کی ایک سو پچاس سالہ تقریبات منانا ناممکن ہے، انہوں نے کہا کہ سائلین کو جلد اور معیاری انصاف کی یقینی بنانے کیلئے عدالت عالیہ لاہور میں اہم اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔ تقریب میں ایس ایم ظفر، عابد حسن منٹو، افضل حیدر، حامد خان، احمد اویس، ڈاکٹر باسط علی، پیر کلیم خورشید، رانا ضیاء عبدا لرحمان، سردار طاہر شہباز خان، ظفر کلانوری، عابد ساقی، حافظ طارق نسیم، حنیف کھٹانہ، کاظم خان، چودھری سرور، منور گوندل اور شفقت محمود چوہان سمیت دیگر سینئر وکلاء شریک تھے۔

چیف جسٹس

مزید : ملتان صفحہ آخر