’’ہمارا کراچی پروگرام ‘‘ایم کیو ایم کے منشور کا محور ہے :فاروق ستار

’’ہمارا کراچی پروگرام ‘‘ایم کیو ایم کے منشور کا محور ہے :فاروق ستار

کراچی(اسٹاف رپورٹر)متحدہ قومی موومنٹ (پاکستان ) کے کنوینر ڈاکٹر محمد فاروق ستار نے کہا ہے کہ یکم دسمبر سے شروع کئے جانے والا100روزہ ’’ہمارا کراچی پروگرام ‘‘ایم کیوایم کے منشور کا بنیادی محور ہے ، شہر کراچی کے عوام اپنے شہر ، اضلاع ، محلوں سے اپنائیت ، محبت اور وابستگی کا والہانہ اظہار کرکے ہماراکراچی پروگرام میں اپنی مددآپ کے تحت اپنا اپنا حصہ ڈالیں ۔انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت کی 8سالہ مجرمانہ غفلت کی وجہ سے شہر بنیادی سہولتوں کے اعتبار بہت پیچھے جاچکا ہے ۔ انہوں نے وزیراعظم نواز شریف سے اپیل کی کہ وہ اب حکومت سندھ کو بائی پاس کرکے براہِ راست کراچی کے بلدیاتی اداروں کو فنڈز جاری کریں ۔انہوں نے کہاکہ سول سوسائٹی ، این جی اوز ، تاجر ، کارپوریٹ سیکٹر ،بلڈرز، پی آئی اے اور مختلف ادارے بھی ہمار اکراچی مہم میں اپنا حصہ ڈالیں۔ انہوں نے سو روزہ ہمار اکراچی پروگرام شروع کرنے پر میئر کراچی وسیم اختر اور حق پرست چیئرمینز کو زبردست خراج تحسین پیش کیا اوراس مہم میں ایم کیوایم پاکستان کی جانب سے بھر پور حمایت اور تائید کا یقین دلایا ۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے بدھ کے روز پیر الہی بخش کالونی میں ایم کیوایم (پاکستان ) کے عارضی مرکز پر رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی ، محترمہ نسرین جلیل ، رکن رابطہ کمیٹی عبد الحسیب ، رکن قومی اسمبلی عبد الوسیم اور رکن سندھ اسمبلی ہیر سوہو کے ہمراہ پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہاکہ پوری دنیا میں تبدیلی آرہی ہے ، تیزی سے یہ رجحان دیکھاجارہا ہے کہ لوگ اپنے ملک ، اپنے صوبوں ، اپنے شہروں اور ضلعوں کو اونر شپ دے رہے ہیں اور اپنے ملک ، اپنے صوبے ، اپنے شہر ، ضلع اور محلے کی تعمیر وترقی میں ہر شہری اپنا حصہ ڈال رہا ہے ۔ انہوں نے میئر کراچی وسیم اختر اور تینوں اضلاع کے چیئرمین جن کا تعلق ایم کیوایم سے ہے انہیں عوام کی خدمت کا بیڑا اٹھانے ، کم تر وسائل، محدود اختیارات کے باوجود لامحدود جذبے ، لامحدود عزم کو لیکر میدان عمل میں اترنے کے اقدام کو سراہایااور کہاکہ ہمار اکراچی پروگرام کراچی کی تعمیر نو کا آغاز ہے ۔انہوں نے کہاکہ ہم یہ دعویٰ نہیں کرتے کہ ہم ماڈل یوسیز ، ڈسٹرکٹ ، ماڈل کراچی بنائیں گے لیکن انشاء اللہ ہمارا کام مثالی ہوگا اور ہم ثابت کریں گے کہ وسائل اور اختیارات کی انتہائی کمی کے باوجود بھی اگر جذبے سچے ہوں، لگن پکی ہو تو صحراؤں کو گل و گلزار بنایا جاسکتا ۔ انہوں نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی امریکہ میں یہ نعرہ لگایا ہے کہ امریکہ فور امریکن ، میں آج بھی یہ بات نہیں کہہ رہا ہے کہ کراچی فور کراچی ہائٹس لیکن اگر کراچی کے لوگ یہ محسوس کررہے ہیں کہ کراچی شہر پر پہلا حق کراچی والوں کا ہونا چاہئے تو یہ معیوب بات بھی نہیں ہے ، لیکن کراچی والے سوچ رہے ہیں کہ کراچی فور کراچی ہائٹس تو ایم کیوایم اسے اس انداز میں پیش کررہی ہے کراچی کو رہنے کے قابل شہر بنانا ہے یہ اسی وقت ممکن ہوگا جب کراچی کے شہری ، کراچی کے میئر ، ڈسٹرکٹ چیئرمین اور ایم کیوایم کے ساتھ کھڑے ہوجائیں ہمارے شانہ بشانہ کام کریں رضاکارانہ طور ہاتھ بٹائیں ۔انہوں نے کہا کہ سو دن کے اس پروگرام میں ہم پندرہ سے بیس یوسیز میں ایک نظر آنے والی تبدیلی لائیں گے ، پندرہ سے بیس یوسیز کو صفائی کا بہترین نظام دیں گے یہاں سالوں سے پڑے ہوئے کچرے کو اٹھائیں گے اور سینیٹیشن کا ایک بہترین نظام وضع کریں گے ۔ وسیم اختر نے کہا ہے کہ سو دن کا یہ پروگرام یکم دسمبر سے دس مارچ تک جاری رہے گا اور بنیادی طور پر ہم صفائی کا بیڑا اٹھا رہے ہیں ، اس کے علاوہ باقی یوسیز میں معمول کے مطابق جو کام ہے وہ جاری رہے گا ، بنیادی طور پر ان بیس یوسیز میں ہم کچرے کو اٹھا کر صاف کریں گے ، ٹوٹی پھوٹی سڑکوں کی استر کاری مرمت کرکے بہتر بنائیں گے ، واٹر بورڈ کے تعاون سے جو میئر کراچی کے انڈر میں نہیں ہے صوبائی حکومت کے انڈر میں ہے ، واٹر بورڈ سے اپیل کہ وہ پندرہ بیس یوسیز میں وسائل اکٹھا کر کے زیادہ توجہ دیکر ان یوسیز میں نکاسی آب کے مسائل کو بھی حل کرے ۔ کراچی کے تین اضلاع سینٹرل ، کورنگی ،ایسٹ میں ایک ایک ماڈل پلے گراؤنڈ ، ماڈل پلے پارک ، ماڈل اسکول بنائیں گے ۔ظاہر ہے کہ ضلع غربی اور ملیر کے شہری اور ضلع ساؤتھ کے شہری بھی ہم سے پوچھیں گے کہ بھائی ہم نے کیا قصور کیا ہے تو ضلع ساؤتھ ، ملیر ہمارا چیئرمین منتخب نہیں ہوا لیکن ویسٹ میں منتخب ہوا ہے کورٹ کیس ہے ہمیں امید ہے کہ کورٹ کیس جلد آگے بڑھے گا اوراظہار خان جو منتخب چیئرمین ہے جلد اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گے ، وہاں کے ایڈمنسٹریٹر سے رابطہ کیا ہے اور وہاں بھی مختلف یوسیز میں کام کریں گے ، ساؤتھ کو میئر کراچی اضافی وسائل دے کر مثالی بنائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ تین اضلاع ہمارے پاس اس وقت ہیں وہاں کے چیئرمین نے دس دس کروڑ کے مالی وسائل یکجا کئے ہیں ، افرادی ، مشینری وسائل یکجا کئے ہیں اورسارے ضلعوں کو ایک ساتھ بہتر نہیں بنایاجاسکتا اس لئے کہیں سے بجٹ کو کم کرکے غیر ضروری اخراجات کم کرکے کچھ ایسے مینٹیننس کے اخراجات کم کرکے سو دن کا پروگرا م دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم مختلف کالجز ، جامعات ، تعلیمی ادارے ، اسکول ، ان کے بچے ، یوتھ ، سول سوسائٹی ، اساتذہ ان کے پاس بھی جارہے ہیں شروع کے دس دنوں میں اگر امپکٹ نظر نہ بھی آئے تو ہم موبی لائز کررہے ہیں ، اور زندگی کے ہر شعبے کے لوگ کارپوریٹ سیکٹر، تاجروں ، برادریوں کے پاس جائیں گے اور انہیں بھی اس مہم میں ساتھ دینے کی دعوت دیں گے ، سو دنوں میں آپ ایک بہت بڑی عوامی موبی لائزیشن اور تحریک دیکھیں گے جو کراچی میں قائم ہوگی اور ہر شہری ہمارا کراچی کی مہم میں میئر کراچی ، چیئرمین اور ہمارے ساتھ کھڑا ہوگا اور انشاء اللہ تعالیٰ پھر کراچی کے ساتھ ساتھ انہی سو دنوں میں انشاء اللہ حیدرآباد ، میر پور خاص اور جھڈو میں بھی یہ پروگرام شروع کریں گے ۔ انہوں نے کہاکہ میڈیا کچرا اٹھنے سے پہلے اوربعد کے مناظر بھی دکھائے ۔ سو سو دن کے پروگرام بنا کر ایک سال میں کراچی کا نقشہ بدلیں گے ۔ انہوں نے آباد سمیت دیگر کنسٹرکشن انڈسٹری سے گزارش کی کہ کچرا ٹھانے کیلئے ہیوی مشینری کے ساتھ میدان عمل میں آئیں اور ہم اس کے ساتھ اسکول ، پارک ، گود لینے کی اسکیم بھی شروع کریں گے ۔انہوں نے شکوہ کیا کہ حکومت سندھ نیشنل فنانس کمیشن میں کراچی کی آبادی اور وسائل کی بنیاد پر اپنے لئے اضافی وسائل مرکز سے مانگتی ہے اور اسے مرکز سے اضافی وسائل ملتے بھی ہیں لیکن کراچی کے ساتھ سوتیلی ماں کے سلوک سے بھی بد تر سلوک ہورہاہے ، کراچی کو دیورا سے لگا دیا گیاہے ، ایک بے چینی اور اضطراب ہے اس کو ختم کرنے کیلئے اپنا حصہ ڈال رہے ہیں ۔ حکومت سندھ نے سو دن کی کمپئین میں کراچی کو رہنے کے مطابق بنانے کیلئے اپنا حصہ نہ ڈالا تو عدالتوں میں جانا پڑا تو جائیں ، بڑے جلسے اور دھرنے کرنا پڑے تو وہ بھی کریں گے ، حکومت سندھ کوہر ڈی ایم سیز کو بیس کروڑ اور وسیم اختر کو اروبوں روپے دینا ہوں گے ۔ اگر بلدیاتی ادارے کامیاب نہیں ہوتے تو یہ صوبائی حکومت کی بھی ناکامی ہے ۔

مزید : کراچی صفحہ اول