سابق ادوار میں حکومتی اراضی غیر منصفانہ اور بدنیتی سے الاٹ کی گئی :پرویز خٹک

سابق ادوار میں حکومتی اراضی غیر منصفانہ اور بدنیتی سے الاٹ کی گئی :پرویز خٹک

پشاور( سٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے کہا ہے کہ ریگی للمہ کیلئے حیات آباد کی طرز پر ایک علیحدہ سیکورٹی پلان ہونا چاہیے اور ہدایت کی کہ وہاں سرکاری شعبے میں سہولیات کی فراہمی کیلئے پورا انفراسٹرکچر تعمیر کیا جائے۔وہ وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں خالد مسعود کی سربراہی میں ریگی للمہ کے 10 رکنی وفد سے گفتگو کررہے تھے۔وزیر بلدیات عنایت اﷲ خان ، سیکرٹری بلدیات ، ڈسٹرکٹ کونسل ممبر ہاشم خٹک اور دیگر بھی اس موقع پر موجود تھے۔اجلاس کو بتایاگیا کہ ریگی للمہ میں اب تک تقریباً ایک بلین روپے مختلف اپروچ روڈز ، انفراسٹرکچر ، سوئی گیس، بجلی ، پولیس سٹیشن کی تعمیر پر خرچ ہو چکے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے ریگی للمہ میں مختلف اپروچ روڈز پر کا م تیز کرنے اور جتنی کمرشل پراپرٹیز ہیں ،اُن کی کھلی نیلامی کی ہدایت کی ۔کمرشل پراپرٹی کے لئے ضروری ہوگا کہ سکول ہو یاکوئی دوسر ا انفراسٹرکچر ہو اُسے ایک سال کے اند ر مکمل کرنے کا یقینی پابند بنایا جائے۔انہوں نے مزید ہدایت کی کہ وزیر بلدیات ، سیکرٹری اور ڈی جی پی ڈی اے ریگی للمہ جا کر وہاں پر خود کام کی رفتار کا جائزہ لیں۔پشاور شہر کی دو نہروں پر جنگلے اور خوبصورتی کا انتظام کیا جائے سڑکوں کو کشادہ کیا جائے تاکہ پشاور ریپیڈ ٹرانزٹ بس کا بوجھ اُٹھانے کے قابل ہو جائے ۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ جتنے سکولوں کی ریگی للمہ کی منظوری چاہیے تو اُس کی سمری بنا کر بھیج دی جائے ۔تمام تعمیرات قانونی طریقہ کار کے مطابق مکمل کی جائیں۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ سابق ادوار میں حکومتی اراضی غیر منصفانہ اور بد نیتی سے الاٹ کی گئی جس میں کرپشن اور بد عنوانی نظر آتی ہے ۔اس کی نشاندہی بھی ہونی چاہئے تاکہ جس کو غیر قانونی طور پر الاٹ کی گئی ہو اُن کو ختم کیا جا سکے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت نے بعض علاقوں کو کمرشل زونزکے طور پر ترقی دینی ہے جہاں کمرشل سرگرمیاں ہوں گی ۔ حیات آباد اوریونیورسٹی ٹاؤن کیلئے سارے سٹیک ہولڈرز کی تجاویز کی روشنی میں نئے by laws بنائے جائیں۔انہوں نے کہا کہ ریگی للمہ میں جتنے پارکس ہیں اُن کو معیاری بنانے کیلئے اقدامات کئے جائیں۔وزیراعلیٰ نے ڈھائی ارب روپے کی لاگت سے اندرون شہر کی تمام سڑکوں کی بحالی اور تعمیر نو پر کام تیز کرنے کی ہدایت کی ۔ پشاور شہرکو آنے اور جانے والی شاہراہوں کی تعمیر اور وہاں گرینری اور شادابی کاکا م مکمل ہونے کو ہے ۔اب پشاور شہر کی شکل بد ل رہی ہے ۔پشاور ماس ٹرانزٹ اور پشاور نوشہرہ ، چارسدہ ، صوابی اور مردان کے درمیان سرکلر ریلوے پراجیکٹ سے خطے کی تقدیر بدل جائے گی ۔وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ وسائل کا منصفانہ استعمال یقینی بنایا جائے تاکہ منصوبوں کے مقاصد کا حصول ممکن ہو سکے۔

پشاور( سٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے موسمی تبدیلی کے منفی اثرات سے نمٹنے کے لئے جنگلات اگانے، پانی کے ضیائع کو روکنے اور آلودگی پرقابو پانے کے لئے ٹھوس اقدامات سمیت مؤثر تحقیق اور اسکے ثمرات عوام تک پہنچانے کو لازمی قرار دیا تاکہ ملک اور صوبے کے مستقبل کو محفوظ بنایا جا سکے۔ وہ آج زرعی یونیورسٹی پشاور میں موسمی تغیرات اور حفاظتی تدابیر کے موضوع پر سہ روزہ قومی کانفرس کی اختتامی نشست سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر زرعی یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر ظہور احمد سواتی، ڈاکٹر محمد حنیف، ڈاکٹر ارجمند نظامی اور زرعی یونیورسٹی کے مرکز برائے موسمی تغیرات کے ڈائریکٹر ڈاکٹر اکمل نے بھی خطاب کیا۔ سیمینار میں وزیر اعلیٰ کے مشیر میاں خلیق الرحمان اور سیکرٹری ذراعت نعیم خان کے علاوہ پورے ملک سے محقیقین ، اساتذہ اور طلباء نے شرکت کی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ موسمی تغیرات کے منفی اثرات صوبے میں پہلے ہی رونما ہو چکے ہیں جس سے پانی کے ذخائر، فصلیں اور باغات متاثر ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خطرے کی اس گھڑی میں عملی اقدامات کی ضرورت ہے اور اس کے لئے کسانوں کو موسمی تبدیلیوں کے اثرات سے آگاہی اور پیش بندی کے لئے تیار کرنا ہے۔انہوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ موسمی تبدیلیوں کے اثرات ایک قومی مسئلہ ہے لیکن ہر سطح پر اس کے بارے میں لا پرواہی سے کام لیا جا رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے اس سلسلے میں مؤثر تحقیقی کام اور اس کی سفارشات عام آدمی تک پہنچانے کے لئے عملی اقدامات پر زور دیا۔ انہوں نے زرعی تعلیم اور تحقیق کو کتابوں تک محدود رکھنے اور کسانوں کو اس سے آگاہ نہ کرنے کو خطرناک قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ 2010کے خطرناک سیلاب مادی لالچ اور فطری نظام میں مداخلت کا نتیجہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ موسمی اثرات کے نقصانات میں جنگلات کاٹنے والے مافیا کا بڑا ہاتھ ہے۔ جنہوں نے بے دردی سے 200ارب ڈالر کے درخت کاٹ کر صوبے کے مستقبل کو برباد کیا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں کسی نے اس مافیا کا ہاتھ نہیں روکا۔ جبکہ موجودہ حکومت نے ان کے خلاف سخت اقدامات کئے جن کے نتیجے میں کاٹی گئی لکڑی برآمدکرنے سے صوبے کو 10ارب روپے کا فائدہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے چیئرمین کی ہدایت پر صوبے میں ایک ارب درخت لگائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک ارب پودے لگانے سے صوبے کی معیشت پر تین سے چار فیصد تک مثبت اثر پڑے گا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت قدرتی جنگلات کے فروغ، جنگلات کے تحفظ اور نجی شعبہ کو جنگلات اگانے کے عمل میں شامل کرنے کے لئے اقدامات کر رہی ہے۔ جس کے مثبت اثرات سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے موسمی تبدیلیوں کے مضر اثرات سے بچنے کے لئے پانی کے تحفظ، نہروں کی بہتری اور چھوٹے تالاب اور ڈیم بنانے کو لازمی قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اپنے وسائل کے اندر رہتے ہوئے اس سلسلے اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے آلودگی پر قابو پانے کے لئے صنعتوں میں حفاظتی اقدامات کو لازمی قرار دیا اور اس کے سلسلے میں سخت اقدامات اٹھانے کا اعلان کیا ۔ انہوں نے سیمینار کو ایک اچھی کاوش قرار دیتے ہوئے محقیقین کو ان کی تجاویز کو عملی جامہ پہنانے کے لئے تعاون اور تمام تر ذمہ داریاں پوری کرنے کا یقین دلایا۔قبل ازیں ڈاکٹر ظہور احمد سواتی نے کانفرس کو موسمی اثرات سے نمٹنے کے سلسلے کی ایک کامیاب کوشش قرار دیتے ہوئے کہا کہ موسم کی منفی تبدیلی سے زندگی کا ہر شعبہ متاثر ہو رہا ہے اور ان ناخوشگوار اثرات سے نمٹنے کے لئے مؤثر اقدامات پر زور دیا۔ ڈاکٹرمحمد حنیف نے کہا کہ موسمی تبدیلیوں سے اس صوبہ کے درجہ حرارت میں ایک درجے کا اضافہ ہوا ہے جس سے صوبے میں سیلاب، خشک سالی اور طوفانوں کے خطرات بڑ ھ چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ صوبے کے 10اضلاع ان خطرات کی زد میں ہیں۔ انہوں نے پورے صوبے کے لئے موسمی تغیرات کے منفی اثرات سے بچانے کے لئے ٹھوس منصوبہ بندی کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ چترال کے لئے اس قسم کی منصوبہ بندی ہو چکی ہے جو ایک خوش آئند قدم ہے۔ ڈاکٹر ارجمند نظامی نے موسمی تغیرات سے نمٹنے کے لئے مؤثر تدابیر پر زور دیتے ہوئے اداروں کی استعداد کار بڑھانے ، تحقیقی کاوشوں ، عوامی آگاہی اور خطرات سے نمٹنے کے لئے تیاری کو ناگزیر قرار دیا۔

مزید : کراچی صفحہ اول