واٹر بورڈ سے 500گھوسٹ ملازمین برطرف کردیئے ہیں :مصباح فرید

واٹر بورڈ سے 500گھوسٹ ملازمین برطرف کردیئے ہیں :مصباح فرید

کراچی (اسٹاف رپورٹر) ایم ڈی واٹربورڈ مصباح الدین فرید نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت باالخصوص وزیربلدیات و چیئرمین واٹربورڈ جام خان شورو کی رہنمائی اور تعاون سے واٹربورڈ کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے لئے پرعزم ہیں ،ہماری پہلی ترجیح شہریوں کو دستیاب پانی کی منصفانہ تقسیم ہے ، شہریوں کو بلاامتیاز اور مسلسل پانی کی فراہمی کے لئے اہم اقدامات کئے جارہے ہیں ، اب تک 500 کے لگ بھگ گھوسٹ ملازمین کو برطرف کرچکے ہیں ،دیگر کے خلاف ضروری کارروائی مکمل کی جارہی ہے ،شہریوں کو ان کے حصہ کا پانی فراہم کرنے اور انہیں غیرقانونی طور پر پانی چوری کرکے فروخت کرنے والی مافیا سے نجات دلانے کے لئے اب تک 193غیرقانونی ہائیڈرنٹ مسمار اور 2100ناجائز کنکشن منقطع کرچکے ہیں ،عدالت عظمیٰ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے 250 اوپی ایس افسران کو ان کے اصل عہدوں پر واپس لایا گیا جو کہ ایک ریکارڈ ہے یہ اب تک کسی ادارے میں نہیں کیا گیا ،سیوریج کے مسائل پر کافی حد تک قابو پالیا گیا ہے ،وہ بدھ کو کراچی پریس کلب کی دعوت پر پریس کلب میں منعقدہ تقریب سے خطاب کررہے تھے ،اس موقع پر پریس کلب کے سیکریٹری اے ایچ خانزادہ ، جوائنٹ سیکریٹری رضوان بھٹی ، خازن حنیف اکبر سینئر صحافی اور گورننگ باڈی کے رکن نواب قریشی سمیت دیگر بھی موجود تھے ،ایم ڈی واٹربورڈ نے کہا کہ واٹربورڈ سیکڑوں کلو میٹر دور سے کراچی کے شہریوں کو پانی کی فراہمی اور دوکروڑ سے زائد افراد کو سیوریج کی سہولت فراہم کررہا ہے ،انہوں نے کہا کہ واٹربورڈ کے افسران اور اہلکار دن رات محنت کرکے شہریوں کی خدمت کا فریضہ ادا کررہے ہیں، انہوں نے کہا کہ کراچی میں 600 سے زائد کمپنیاں غیر قانونی طور پر واٹربورڈ کا پانی چوری کرکے منرل واٹر کے نام پر فروخت کررہی ہیں یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ واٹربورڈ کی جانب سے شہریوں کو صاف فلٹر کیا گیا پانی فراہم کیا جارہا ہے انہوں نے کہا کہ سندھ رینجرز اور پولیس کی مدد سے غیرقانونی ہائیڈرنٹس کیخلاف کارروائی جاری ہے ،پانی چور کتنا ہی بااثر کیوں نہ ہو اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور وزیر بلدیات شہریوں کو پانی و سیوریج کی بہتر سہولت کی فراہمی کے لئے واٹربورڈ سے بھرپور تعاون کررہے ہیں، کے فور منصوبے پر کام وزیر بلدیات کی ذاتی دلچسپی اور سرگرمی سے شروع ہوا ہے اس منصوبے سے کراچی کو پہلے مرحلے میں 260ملین گیلن پانی کی فراہمی شروع ہوسکے گی اگر یہ منصوبہ وقت پر مکمل ہوگیا تاہم اس سے کراچی کو پانی کی طلب کے مقابلے میں رسد میں بہتری آئے گی تاہم یہ سمجھ لینا کہ کراچی میں پانی کی قلت مکمل ختم ہوجائے گی درست نہیں ہوگا ،ایم ڈی واٹربورڈ نے کہا کہ وفاقی حکومت بھی آگے آئے اور شہریوں کو پانی کی فراہمی اور نکاسی آب کیلئے واٹربورڈ کی مدد کرے، انہوں نے بتایا کہ شہر میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہونے کے ساتھ ساتھ یہاں تعمیراتی کام میں بھی تیزی آئی ہے ،کثیر المنزلہ عمارتیں تیزی سے تعمیر ہورہی ہیں تاہم سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور دیگر ادارے نقشہ کی منظوری کے وقت وصول کئے جانے والے تعمیراتی چارجز میں سے واٹربورڈ کو اس کا حصہ ادا نہیں کررہے ہیں ،جس کی وجہ سے سیوریج اور قلت آب کے مسائل جنم لے رہے ہیں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ واٹربورڈ کے 17لاکھ میں سے صرف 3 لاکھ 15ہزار صارفین ٹیکس ادا کرتے ہیں جس کی وجہ سے واٹربورڈ مالی مشکلات کا سامنا کررہا ہے انہوں نے کہا کہ کے الیکٹرک واٹربورڈکو کمرشل نرخ پر بجلی فراہم کررہا ہے واٹربورڈ کو ماہانہ 52کروڑ روپے کا بل بھیجا جارہا ہے ، جبکہ تجارتی یا کاروباری نہیں بلکہ واٹربورڈ شہری خدمتی ادارہ ہے ،انہوں نے کہا کہ وزیربلدیات سندھ کی خصوصی ہدایت پر صحافی کالونی کے لئے پانی کی فراہمی کے اقدامات کئے جارہے ہیں ، صحافی کالونی کا نقشہ ہمیں مل گیا ہے اس پر باقاعدہ منصوبہ بندی کی جائے گی اور جلد از یہاں پانی کی فراہمی کے لئے عملی کام کاآغاز کردیا جائے گا، واٹرہائیڈرنٹس سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں ایم ڈی واٹربورڈ نے کہا کہ واٹربورڈ کے ہائیڈرنٹس کی تعداد کو کم کرکے اب ایک ضلع میں ایک ہائیڈرنٹ رکھا جائے گا انہوں نے کہا کہ واٹربورڈ صرف کراچی کو ہی نہیں بلکہ کراچی کے مضافات علاقوں خصوصاًگھارو، ہالیجی، دھابیجی،گھگھر پھاٹک سمیت دیگر کی 25لاکھ افراد پر مشتمل آبادی کو بھی پانی فراہم کرتا ہے ۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر