مردان ،خاندان کے بلاک شناختی کارڈ کیخلاف سماعت 2 ماہ میں مکمل کرنے کی ہدایت

مردان ،خاندان کے بلاک شناختی کارڈ کیخلاف سماعت 2 ماہ میں مکمل کرنے کی ہدایت

پشاور(نیوزرپورٹر)پشاورہائی کورٹ کے چیف جسٹس مظہر عالم میانخیل اور جسٹس ابراہیم خان پرمشتمل دورکنی بنچ نے مردان کے خاندان کے قومی شناختی کارڈ بلاک کرنے کے خلاف دائررٹ پرمتعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ دو ماہ کے اندر مذکورہ خاندان کی اپیل پرسماعت مکمل کرے جبکہ انہیں سات دسمبرکو مرداان میں ویری فیکیشن بورڈ کے روبروپیش ہونے کی بھی ہدایت کی فاضل بنچ نے یہ احکامات گذشتہ روز اعجازصابی ایڈوکیٹ کی وساطت سے دائرمسماۃ شمیم اختر کی رٹ پرجاری کئے اس موقع پر عدالت کو بتایاگیاکہ اس کے پردادا محب اللہ نے 1895-96ء میں ضلع نوشہرہ کے علاقے میں اراضی خریدی جس کانام محب بانڈہ رکھاگیابعدازاں ان کاخاندان مردان منتقل ہوا انہوں نے عدالت کو بتایا کہ درخواست گذاروں کے والد نے1928 میں پرائمری کاامتحان پاس کیاجبکہ سٹیزن شپ ایکٹ کے تحت یہ قرار دیاگیاتھا کہ 14اگست1947ء کو جس کسی نے بھی پاکستانی سرزمین میں موجودگی ظاہرکی وہ پاکستانی شہری ہوگاانہوں نے بتایا کہ مذکورہ خاندان کے زیادہ ترافراد اعلی تعلیم یافتہ ہیں اورشناختی کارڈ بلاک ہونے کے باعث مختلف سرکاری نوکریوں کے لئے ان کی عمرزیادہ ہورہی ہے عدالت نے اس موقع پر نادراحکام کو ہدایت کی کہ وہ دو ماہ کے اندر درخواست گذاروں کی تصدیق سے متعلق عمل مکمل کرے جبکہ درخواست گذاروں کو حکم دیا کہ وہ اگلے ہفتہ ویری فکیشن بورڈ کے سامنے پیش ہوں ۔

مزید : پشاورصفحہ آخر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...