پاکستان کا سب سے بڑا اراضی سکینڈل بے نقاب،جعل ساز گروہ جعلی عدالتی فیصلوں پر معصوم لوگوں کی زمین ہتھیا گیا

پاکستان کا سب سے بڑا اراضی سکینڈل بے نقاب،جعل ساز گروہ جعلی عدالتی فیصلوں پر ...
پاکستان کا سب سے بڑا اراضی سکینڈل بے نقاب،جعل ساز گروہ جعلی عدالتی فیصلوں پر معصوم لوگوں کی زمین ہتھیا گیا

  

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک )نجی ٹی وی دنیانیوز کے مطابق پاکستان کا سب سے بڑا اراضی سکینڈل بے نقاب ہو گیا ہے ،جعل ساز گروہ معصوم لوگوں کی زمین کے بارے میں جان کر آپ کیلئے یقین کرنا مشکل ہو جائے گا ۔

نجی ٹی وی دنیانیوز کے مطابق آتشزدگی اور سرکاری اہلکاروں کی غفلت سے گوداموں میں پڑا راضی کا سرکاری ریکارڈ ضائع ہونے کا فائدہ ایک جعل ساز گروہ نے اٹھا یا اور پچاس سال پرانا ریکارڈ اپنے نام کرا لیا ۔ جعل سازوں کے اس گروہ کا ماسٹر مائنڈ لاہور کے علاقے سمن آباد کا چودھری ارشد تھا جس نے عدالتوں کے جعلی فیصلوں کا استعمال کیا۔ جعل ساز گروہ نے ایسی جعلی عدالتی دستاویزات تیار کیں جن سے ثابت ہوتا تھا کہ پراپرٹی اصل میں ان جعلسازوں ہی کی ملکیت ہے۔ دلچسپ بات یہ کہ ان جعلی فیصلوں کا علم اصلی عدالتوں کو ہے نہ ہی ان ججوں کو جن کے جعلی دستخط ہوئے اور فیصلے جاری ہوئے ، یوں ملزم ارشد اور اس کا گروہ جعلسازی کے بل بوتے پر راتوں رات اربوں کھربوں کی جعلی ڈگریاں بنانے میں کامیاب ہوگیا۔ گروہ کے سرغنہ چودھری ارشد نے جعل سازی کا کاروبار چودہ سال پہلے شروع کیا۔ اب تک ایک لاکھ ترانوے ہزار کنال زمین کے جعلی فیصلوں کا انکشاف ہو چکا ۔

جب پراپرٹی کا اصل مالک اسے فروخت کرنے کی کوشش کرتا تو ملزم ارشد اور اس کا جعلساز گروہ جعلی عدالتی فیصلہ لے کر اس پٹواری کے پاس جا پہنچتا ، اس عدالتی فیصلے کے ذریعے یہ دعویٰ کرتا کہ وہی اصل مالک ہے اور اگراس کی مرضی کے خلاف پراپرٹی فروخت کی گئی تو وہ سب کو عدالت لے جائے گا۔ ایسے میں اصل مالک کے پاس منہ مانگی قیمت دیکر جعلی دستاویزات خریدنے کے سوا کوئی چارہ ہی نہ رہتا۔

جعل ساز گروہ کیخلاف ایف آر درج کرانے کی کوشش بھی کی لیکن کچھ بھی نہ ہوسکا ، جعل ساز گروہ اس وقت بے نقاب ہوا جب سعید احمد باری نامی شہری نے ہمت دکھائی اور عدالت سے رجوع کیا لیکن سعید باری کو بھی اپنی تین ہزار آٹھ سو کنال اراضی کے حوالے سے فیصلہ جعلی ثابت کرنے میں چار سال لگ گئے۔قانونی ماہرین کہتے ہیں کہ معزز سول جج نے تصدیق کی کہ 1968 کے عدالتی فیصلہ کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ، اسی بنیاد پر سعید باری کو زمین مل گئی لیکن جعلی فیصلے سے متعلق تحقیقات کا کوئی حکم جاری ہوا نہ جعل سازوں کے خلاف کارروائی کی ہدایت کی گئی۔

ملزم ارشد تھا تو بہت ذہین لیکن وہ بھی کئی غلطیاں کر گیا،1962کا عدالتی فیصلہ بناتے ہوئے جعلساز ارشد یہ بھول گیا کہ اس وقت اس کی عمر بارہ سال تھی۔ اسی طرح1962 سے 1972 کے درمیان ظاہر کیے گئے جعلی فیصلوں میں یہ ہدایت بھی کی گئی کہ ان فیصلوں کا اندراج ایل ڈی اے کے ریکارڈ میں بھی کرایا جائے۔ جعلسازگروہ یہاں پر یہ بھول گئے کہ ایل ڈی اے کا ادارہ بنا ہی 1975میں وجود میں آیا۔

مزید : لاہور