روس اپنے 50 ہزار فوجی ایک ایسے ملک کی سرحد پر لے آیا کہ یورپی مغربی دنیا خوف میں ڈوب گئی، طبلِ جنگ بج گیا

روس اپنے 50 ہزار فوجی ایک ایسے ملک کی سرحد پر لے آیا کہ یورپی مغربی دنیا خوف ...
روس اپنے 50 ہزار فوجی ایک ایسے ملک کی سرحد پر لے آیا کہ یورپی مغربی دنیا خوف میں ڈوب گئی، طبلِ جنگ بج گیا

ماسکو(مانیٹرنگ ڈیسک) یورپی ممالک کے بعد اب روس نے یوکرین کی سرحد پر اپنے 50ہزار فوجی تعینات کر دیئے ہیں جس سے پوری مغربی دنیا خوف میں ڈوب گئی ہے اور جنگ کا خطرہ بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے یہ فوجی یوکرین کے تمام بارڈر پر متعین کر دیئے اور بارڈر کا کوئی حصہ ایسا نہیں جہاں روسی فوج موجود نہ ہو۔ ساڑھے 7ہزار فوج پہلے ہی یوکرین کی سرحد پر موجود تھے اور یوکرین کی حکام کی طرف سے پہلے ہی الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ روس یوکرین کی حکومت گرانے کی کوشش کر رہا ہے۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ سے تعاون کیلئے تیارہیں ،ہم کسی سے لڑائی نہیں چاہتے:روس

رپورٹ کے مطابق ولادی میر پیوٹن کے نائب وزیر دفاع آئیور ڈولہوف نے گزشتہ روز کیف میں موجود تھے جہاں انہوں نے بیان دیا کہ ”اس وقت یوکرین کے بارڈر پر لگ بھگ 55ہزار فوجی موجود ہیں۔ اس سے قبل یہاں 5ہزار سے ساڑھے 7ہزار فوجی تعینات ہوتے تھے۔ اس کے علاوہ کریمیا میں ہمارے 23ہزار اہلکار متعین ہیں جن میں سے 9ہزار انتظامی بارڈر پر فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔“کئی میڈیا رپورٹس میں یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ روس بیلاروس میں بھی یوکرین کے بارڈر پر اپنے فوجی متعین کرنے جا رہا ہے۔ روسی وزارت دفاع کی طرف سے بیان سامنے آ چکا ہے کہ بیلاروس میں2016ءکی نسبت 2017ءمیں 80فیصد زیادہ فوج تعینات کی جائے گی۔ روس یوکرین کے چاروں طرف بارڈرز پر اپنی فوج تعینات کر چکا ہے۔

مزید : بین الاقوامی

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...