حکومت طلباءکی ناک کاٹنے کی پالیسی بنا دے تو کیا عدالت خاموش رہے،ہائی کورٹ نے سیکریٹری ہائر ایجوکیشن کو طلب کر لیا

حکومت طلباءکی ناک کاٹنے کی پالیسی بنا دے تو کیا عدالت خاموش رہے،ہائی کورٹ نے ...
حکومت طلباءکی ناک کاٹنے کی پالیسی بنا دے تو کیا عدالت خاموش رہے،ہائی کورٹ نے سیکریٹری ہائر ایجوکیشن کو طلب کر لیا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہورہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی نے میٹرک کا امتحان پاس کرنے کے پانچ سال بعدگیارہویں جماعت میں داخلے پر پابندی کیخلاف دائر درخواست کی سماعت کے دوران قرار دیا ہے کہ اگر حکومت طلبہ کی ناک کاٹنے کی پالیسی بنا دے گی تو کیا پھر بھی عدالت خاموش رہے، عدالت نے سیکرٹری محکمہ ہائر ایجوکیشن کوآج وضاحت کیلئے طلب کر لیا گیا ہے ۔درخواست گزار محمد عرفان کی درخواست پران کی طرف سے عمران حسین ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا کہ محکمہ ہائر ایجوکیشن نے ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے میٹرک کے پانچ سال بعد تعلیم حاصل کرنے پر پابندی عائد کرنے کی پالیسی نافذ کر دی ہے، اس پالیسی کے تحت درخواست گزار کو انٹرمیڈیٹ میں داخلہ نہیں دیا جا رہا، آئین تمام شہریوں کو تعلیم فراہم کرنے کا حق دیتا ہے لہذا پالیسی کالعدم قرار دی جائے، سرکاری وکیل نے اعتراض اٹھایا کہ یہ پالیسی معاملہ ہے، عدالت مداخلت نہیں کر سکتی ۔جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ لگتا ہے کہ حکومت کو ملک میں شرح خواندگی کا علم نہیں، اگر حکومت طلبہ کی ناک کاٹنے کی پالیسی بنا دے تو کیا تب بھی عدالت خاموش رہے، جب آئین تعلیم حاصل کرنے پر پابندی عائد نہیں کرتا تو پھر کوئی پالیسی کیسے ایسی پابندی لگا سکتی ہے، عدالت نے مزید سماعت آج تک ملتوی کرتے ہوئے سیکرٹری محکمہ ہائر ایجوکیشن کو وضاحت کیلئے طلب کر لیا۔

مزید : لاہور